نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری

اپ ڈیٹ 29 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے صدر سعید احمد کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں سعید احمد کو ملزم نامزد کیا تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ نیب نے سابق اور نگراں حکومت کو مراسلہ ارسال کیا تھا کہ جب تک نیب کی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی این بی پی کے صدر سعید احمد کو معطل کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل بینک کے صدر کے خلاف نیب کی کارروائی کا آغاز

مسلم لیگ (ن) کی سابق اور نگراں حکومت نے نیب کے مراسلہ پر توجہ نہیں دی اور این بی پی کے صدر کو معطل کرنے کا معاملہ زیر التوا رہا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز منعقد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سعید احمد کو معطلی کی مںظوردی گئی۔

جس کے بعد وزارت خزانہ نے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 28 اگست کو ہی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

اس سےقبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ’این بی پی کے صدر کو برطرف کردیا جائے‘۔

مزید پڑھیں: نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نیب ٹیم کے سامنے پیش

اس حوالے سے کہا گیا کہ بینکنگ قوانین کی رو سے صدر کو فوری برطرف کی گنجائش نہیں اس لیے انہیں معطل کیا گیا۔

سعید احمد کون ہیں اور انھیں جے آئی ٹی نے کیوں بلایا؟

واضح رہے کہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ملوث ہونے کی بناء پر جے آئی ٹی میں طلب کیا گیا تھا۔

سعید احمد کا نام اُس وقت خبروں کی زینت بنا تھا، جب 1998 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے فوجی بغاوت کے بعد، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے انھیں 'اپنا قریبی دوست' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ شریف خاندان کے مالی معاملات کو 'ہینڈل' کرنے کے لیے سعید احمد کا اکاؤنٹ استعمال کیا گیا۔

اکتوبر 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کو کرپشن کے 3 ریفرنسز میں ملوث کیا تھا جن میں سے ایک حدیبیہ پیپر ملز کیس تھا، تاہم 2014 میں احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'اسحٰق ڈار کا بیانِ حلفی لندن فلیٹس کا اصل منی ٹریل'

حدیبیہ پیپرز ملز کیس وزیراعظم کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا احاطہ کرتا ہے، پاناما جے آئی ٹی کو فراہم کیے جانے والے ریکارڈ میں 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل ہے۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر 1.2 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا 'اعتراف' کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔

فی الوقت سعید احمد نیشنل بینک کے صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں، اس سے قبل وہ اسٹیٹ بینک میں ڈپٹی گورنر کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔