سادگی کے دعوے اور پی ٹی آئی حکومت کا ہوائی سفر

ای میل

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سرکاری عہدیداران نے اپنی پارٹی کی سادگی کی مہم کو نظر انداز کرتے ہوئے سفر کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹرز کا استعمال شروع کردیا ہے۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی نجی جہاز میں سفر کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی اور خبروں میں بھی جگہ بنائی، اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ آنے جانے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز عثمان بزدار نے میاں چنوں میں دوست کے والد کی تعزیت پر جانے کے لیے اپنے نجی دورے میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا اور وہ اسلام آباد سے لاہور بھی ہیلی کاپٹر میں گئے۔

سادگی اپنانے اور عام زندگی گزارنے کے دعووں کے برعکس خاتون اول اور عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ آنے جانے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کے بعد سوشل میڈیا پر حکومتی دعووں پر تنقید جاری ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کا خرچہ اور سوشل میڈیا

ایک طرف عوام نے وزیر اعظم کے قول و فعل میں تضاد پر سوال اٹھائے تو دوسری جانب ان کے پارٹی رہنماؤں نے تنقید پر یہ کہہ دیا کہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس تک ہیلی کاپٹر کے استعمال میں کوئی غلط بات نہیں۔

پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ 'وزیر اعلیٰ پنجاب کا ہیلی کاپٹر کا استعمال سادگی کی مہم کے مخالف نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو سفر کے لیے پرآسائش ذرائع کے استعمال کا استحاق حاصل ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما محمد علی خان نے وزیر اعظم عمران خان کے دفاع میں ٹوئٹ کیا اور کہا کہ ’وہ لوگ جو وزیر اعظم پر وزیر اعظم ہاؤس سے ہیلی کاپٹر پر بنی گالہ کے سفر پر بے جا تنقید کر رہے ہیں، یہ جان لیں کہ 3 منٹ کی ہیلی کاپٹر پرواز میں سیکیورٹی میں استعمال ہونے والی 5 سے 7 گاڑیوں سے کم ایندھن استعمال ہوتا ہے، یہ زیادہ محفوظ ہے اور اس سے ٹریفک بھی جام نہیں ہوتا۔’

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی گزشتہ روز پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس میں سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اپنی جماعت کا دفاع کیا تھا۔

عمران خان کی جانب سے چند کلو میٹر کی مسافت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی وجہ دریافت کرنے کے جواب میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم اس لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں تاکہ دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک جام نہ ہو۔

فواد چودری نے وزیراعظم کی جانب سے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کو وی آئی پی کلچر قرار دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کے سفر کرنے کے دو ہی آپشن ہیں، یا تو وہ گاڑی میں سفر کریں یا ہیلی کاپٹر میں۔‘

یہ بھی پڑھیں: 'ہیلی کاپٹر سروس اتنی سستی ہے تو پھر عام شہریوں کیلئے بھی شروع کریں'

انہوں نے کہا کہ ’وی آئی پی پروٹوکول اور سیکیورٹی پروٹوکول میں فرق ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال صرف ہفتہ وار چھٹی کے دوران اپنی رہائش گاہ جانے کے لیے کرتے ہیں جو صرف چار منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔'

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ 'سابق حکومت میں سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کھانا اسلام آباد سے مری لے جایا جاتا تھا۔'

فواد چوہدری اپنے مؤقف پر قائم رہے کہ ہیلی کاپٹر کا استعمال بہترین آپشن ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنی گالہ اور وزیر اعظم ہاؤس کے درمیان 3 منٹ کی ہیلی کاپٹر پرواز پر فی کلو میٹر 55 روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

انہوں نے دریافت کرنے پر بتایا کہ انہوں نے اخراجات کی معلومات گوگل سے حاصل کی ہے۔

ڈی پی او کا تبادلہ

پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کے ٹرانسفر میں وزیرا علیٰ پنجاب اور بنی گالا کا کوئی کردار نہیں۔

اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے دعوی کیا کہ پوولیس افسر کے خلاف عوام کی شکایات پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) نے تبادلے کے احکامات جاری کیے اور یہ محکمے کا اندرونی معاملہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'پنجاب حکومت تین بنیادی اصولوں پر کام کرے گی، ایمانداری، میرٹ اور ذمہ داری۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہر وزیر اپنے صوبے میں گُڈ گورننس کی بھرپور کوشش کرے گا۔'

گزشتہ حکومت کی بدانتطامی کی مثال دیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ تقریباً 44 ہزار پولیس اہلکار پروٹوکول ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے تھے، جنہیں اب معمول کی ڈیوٹیز پر مامور کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : خاور مانیکا کو روکنے پر ڈی پی او کا تبادلہ؟

انہوں نے اطلاعات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کہا کہ ’اس قانون پر کم از کم صوبے کی حد تک علمدرآمد کو لازمی اور شفافیت کو ہر قیمت پر ممکن بنایا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالے جانا سیاسی انتقام نہیں بلکہ قانون کی بالادستی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک سے کرپشن اور منی لانڈرنگ کو ختم کرے گی۔'

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ ’ہر سال ایک ہزار ارب روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے جاتے ہیں، اسے روکنا ہی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔'


یہ خبر ڈان اخبار میں 29 اگست 2018 کو شائع ہوئی۔