جمعیت علماء اسلام (ف) کے صدر اور اپوزیشن جماعتوں کے صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں۔

کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 70 سال پہلے آزادی حاصل کرچکا ہے لیکن آزادی کے مقاصد آج تک حاصل نہیں ہوسکے کیونکہ ہم بین الاقوامی شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست معیشت اور دفاع دباؤ میں ہے اور اس اعتبار سے ہم پر لازم ہے کہ آزادی کے مقاصد کے لیے مل کر پیش رفت کریں اور پاکستانی سیاست میں وہ کردار ادا کریں جس سے یہ ثابت ہو کہ ہم واقعی پیش رفت کی طرف جارہے ہیں، ضروری نہیں کہ ہم اپنے مقاصد میں مکمل طور پر کامیاب ہوسکیں لیکن اس کے لیے ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: گر مولانا فضل الرحمٰن صدر بن گئے تو؟

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں یہی سوچ رہی ہیں بین الاقومی ایجنڈے، معیشت، مالیاتی ادارے، سیاسی ادارے، معاہدات سے وطن عزیز کو مکمل طور پر آزاد کریں تاکہ ہمیں احساس ہو کہ ہماری داخلی خودمختاری محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے مجھ پر اعتماد کیا گیا ہے تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی( پی پی پی ) اپنا امیدوار دستبردار کرے گی لیکن اگر اگر پیپلز پارٹی اعتراز احسن کو دستبردار نہیں کراتی تو اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ حکومت کو رضا مندی کے ساتھ کامیابی کے مواقع دیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں متحدہ اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ منصب تو ہاتھ میں آجاتے ہیں لیکن یہ منزل نہیں بلکہ منزل کی طرف سفر کرنے کی گزرگاہیں ہیں اور اس حوالے سے ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی( پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بہترین تبدیلی تو یہ ہوگی کہ مولانا فضل الرحمٰن صدر اور عمران خان وزیر اعظم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخاب میں حزب اختلاف کے اتحاد نے اپنی متفقہ رائے دی کہ ایوان بالا کو بہترین طریقے سے چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کے رضا ربانی بہترین امیدوار ہوں گے لیکن ہماری اس پیش کش کو مسترد کردیا گیا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے درمیان کئی ملاقاتوں کے باوجود صدارتی امیدوار کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار رہا تھا، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عارف علوی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

ان تینوں صدارتی امیدواروں کے درمیان مقابلہ 4 ستمبر کو ہوگا، جہاں ملک کے نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔

’مغرب، امت مسلمہ کی دل آزاری سے باز رہے‘

قبل ازیں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ جن کے احتجاج کے باعث گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو منسوخ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ امت مسلمہ کی دل آزاری سے باز رہے اور اقوام متحدہ قانون سازی کے ذریعے ایسی باتوں کو روکے جن سے انسانیت عدم تحفظ اور دنیا تصادم کا شکار نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی انتخاب:فضل الرحمٰن کو آصف زرداری سے 'فیصلے پر غور' کی امید

انہوں نے کہا کہ توہین آمیز خاکے اظہار رائے کی آزادی نہیں امت مسلمہ کی دل آزاری ہے، لہٰذا مغرب مسلم اُمہ کے مقدسات کا احترام کرے۔

خیال رہے کہ ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے رہنما گیرٹ ویلڈرز نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے پیغمبر اسلام حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنانے کے متنازع مقابلے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور پاکستان سے ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں مسلمانوں کے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے ہالینڈ کے سیاستدان نے دنیا بھر میں مسلمانوں میں اشتعال کا سبب بننے والے گستاخانہ خاکوں کے متنازع مقابلے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔