جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے ماریں تو ہم کیا کہیں، آصف زرداری

اپ ڈیٹ 01 ستمبر 2018

ای میل

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے مارے تو ہم کیا کہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے موقع پر کراچی کی بینکنگ کورٹ کے باہر صحافیوں نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا آپ کو چیف جسٹس کے دورے پر اعتراض ہے؟

جس پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 5 ہزاز نہیں تو لاکھ مقدمات تو ہوں گے، انہیں اس پر زور دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ ہفتے کی صبح چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کراچی کے نجی ہسپتال ضیاالدین کا دورہ کیا تھا اور وہاں زیر علاج پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد کی تھیں۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت منظور

بینکنگ کورٹ کے باہر موجود صحافیوں کی جانب سے صدارتی امیدوار کے معاملے پر پوچھا گیا کہ سنا ہے کہ اعتراز احسن کو آخری وقت میں دستبردار کروا لیں گے تو اس پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن انتخابات سے دستبردار ہوجائیں۔

اس موقع پر صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آج آپ پھر گاڑی میں آئے ہیں، ہیلی کاپٹر میں نہیں آئے؟ تو اس پر آصف علی زرداری نے جواب دیا کہ ہیلی کاپٹر کی بات ہورہی ہے، دیکھیں کب ملتا ہے۔

صحافی کی جانب سے آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ ہیلی کاپٹر تو سستا ہوگیا ہے تو اس پر سابق صدر نے کہا کہ سن رہا ہوں 50، 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کا سفر ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کراچی کی بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی 20 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد سابق صدر نے گزشتہ روز ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے تھے، جس پر آج وہ عدالت پہنچے جہاں آصف زرداری اور ان کے ضامن عاشق حسین نے مچکلوں پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری، فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی، جس کی مدت 2 ستمبر تک تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سلسلے میں مقدمے کی اہم سماعت ٹرائل کورٹ میں 4 ستمبر کو ہوگی جس میں آصف زرداری اور دیگر ملزمان پیش ہوں گے۔