وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے 1600 ترقیاتی منصوبوں کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کو سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام 19-2018 کے تحت مناسب طرز عمل اپنائے بغیر شروع کیا گیا۔

بلوچستان کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے حکام کا کہنا تھا کہ اربوں روپے مالیت کے ان ایک ہزار 6 سو اسکیموں میں سے زیادہ تر کو سیاسی عمل دخل یا ذاتی خواہشات کی بنا پر منظور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ

انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کے لیے کسی متعلقہ حکام کی تجاویز بھی نہیں حاصل کی گئیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے خط کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس اسکیم کو منظور کرنے والے محکمہ منصوبہ بندی کے افسران کے نام اور عہدوں کے حوالے سے تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بی اے پی کے صدر جام کمال نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھالیا

واضح رہے کہ رواں ہفتے بلوچستان کی 6 جماعتوں پر مشتمل کابینہ کا پہلے اجلاس میں بلوچستان حکومت نے صوبے میں صحت اور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ساتھ کام کر کے ٹیکس کی وصولی کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا تا کہ صوبے کے مالیاتی ذخائر میں بہتری لائی جاسکے اور بجٹ خسارہ کم کیا جاسکے۔

بلوچستان کابینہ کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے صوبے میں امن و امان کا جائزہ لیا اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے۔