'کرکٹ کا پاکستانی ماڈل' متعارف کرانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2018

ای میل

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے نومنتخب چیئرمین احسان مانی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے نومنتخب چیئرمین احسان مانی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے نو منتخب چیئرمین احسان مانی نے پاکستان کرکٹ کے نظام کو شفاف بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آسٹریلین کرکٹ کو مثال بناتے ہوئے 'کرکٹ کا پاکستانی ماڈل' متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔

آج لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ پی سی بی کے انتخابات میں احسان مانی بلامقابلہ چیئرمین پی سی بی منتخب ہوئے۔

قذافی اسٹیڈیم میں بحیثیت چیئرمین پی سی بی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ ہمیں آسٹریلین کرکٹ کو مثال بناتے ہوئے ایک پاکستانی ماڈل ایجاد کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: احسان مانی بلا مقابلہ پی سی بی کے نئے چیئرمین منتخب

'وزیر اعظم اور پیٹرن ان چیف عمران خان نے کرکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم آسٹریلین کرکٹ کے ماڈل کو اپنائیں لیکن میرے خیال میں ہمیں کرکٹ میں ایک پاکستانی ماڈل ایجاد کرنا پڑے گا، کیونکہ بقیہ ملکوں کے مقابلے میں ہمارے حالات مختلف ہیں'۔

انہوں نے آسٹریلین کرکٹ کے نظام میں موجود خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا میں پرنسپل ہے کہ فرسٹ کلاس کھیلنے والی کم ٹیمیں ہوں لیکن وہ اتنی تگڑی ہوں کہ نیشنل ٹیم کے لیے بیک اپ ثابت ہو اور ہم بھی کوشش کریں گے کہ اسی بنیاد پر سسٹم بنائیں کیونکہ اگر سسٹم ٹھیک ہو گا تو خود ہی سب کچھ بہتر ہو گا۔

احسان مانی کا کہنا تھا کہ میں خود جا کر پیٹرن ان چیف کو بتاؤں گا کہ آسٹریلین کرکٹ کا نظام پاکستان میں قابل عمل نہیں اور ہم اپنا نظام بنائیں گے جس سے ہماری ضروریات پوری ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے گفتگو کریں گے جن میں سابق کرکٹرز، ڈپارٹمنٹس، ایسوسی ایشنز اور ڈسٹرکٹ شامل ہیں اور ان سب سے بات کرنے کے بعد سوچ سمجھ کر آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کرکٹ کے نئے نظام کے قیام کے حوالے سے مینجمنٹ ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹاسک فورس میں کرکٹ بورڈ کے اراکین بھی شامل ہوں گے جو رہنمائی کرے گی جس کے بعد دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی کیونکہ ہمارا مقصد پاکستان کرکٹ کو تگڑا بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: احسان مانی کون ہیں؟

چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کے 8 میچز پاکستان میں منعقد ہوں گے لیکن ہمارا مقصد یہ ہو گا کہ جلد از جلد پوری لیگ پاکستان میں منعقد کرائیں کیونکہ اس کا اصل فائدہ اسی وقت ہو گا جب پوری لیگ پاکستان کے گراؤنڈز میں منعقد ہو گی اور ہمارا اصل مقصد پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی ہے۔

روایتی حریف بھارت سے سیریز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے ہوں گے جیسے ماضی میں جنرل توقیر ضیا اور خالد محمود کے دور میں رہے اور امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ سیریز جلد منعقد ہو گی۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کھیلنے کے حوالے سے بھارت کا متضاد موقف ہے۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے ایونٹس اور ایشیا کپ میں تو پاکستان سے کھیلتے ہیں لیکن دوطرفہ سیریز کے حوالے سے ان کا الگ موقف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سیریز کے لیے بھارت سے بھیک نہیں مانگے گا کیونکہ اس کا اپنا عزت و وقار ہے اور چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم اس کو برقرار رکھیں گے۔

احسان مانی نے امید ظاہر کی کہ سیریز نہ کھیلنے پر پاکستان کی جانب سے بھارت سے ہرجانے کی ادائیگی کے لیے آئی سی سی میں دائر کیے گئے مقدمے پر کھیل کی عالمی باڈی میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔

چیئرمین پی سی بی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کام کے طریقہ کار پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہمارے اسٹیڈیمز کا برا حال ہے، اسٹیڈیمز کو چلانا کرکٹ بورڈ کا کام نہیں، دنیا کا کوئی بھی بورڈ اسٹیڈیم نہیں چلاتا بلکہ ہمیں اس کام کے لیے ریجنز کو بااختیار بنانا ہو گا تاکہ وہ اپنے ریجنز میں کرکٹ کا نظام چلائیں تاکہ ان کے وسائل پیدا ہوں جن کی بدولت وہ اپنے علاقے میں کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کریں۔

نو منتخب چیئرمین نے بورڈ میں چیئرمین کی مرکزیت کے خاتمے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کرکٹ کا نظام مرکزی انتظام کے تحت نہیں چل سکتا بلکہ اختیارات نیچے تک منتقل کر کے انہیں بااختیار بنایا جاتا ہے اور پھر احتساب کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایک اور بھارتی کرکٹر اداکارہ کے ہاتھوں کلین بولڈ؟

'اگر ہمارا نظام ٹھیک اور بیرونی مداخلت سے پاک ہو گا تو ہی ہماری کرکٹ ٹھیک ہو گی، اس وقت دنیا میں جو بھی ٹیمیں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں ان کا نظام بہت اچھا ہے جن میں آسٹریلیا سرفہرست ہے جبکہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا نظام بھی بہت اچھا ہے اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد بھارت میں بھی نظام میں بہتری آئی ہے'۔

احسان مانی نے بورڈ میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کا بھی عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پی سی بی کے ڈھانچے کو بھی دیکھنا ہو گا کیونکہ یہ بہت زیادہ پھیل چکا ہے، بورڈ میں 900 ملازمین ہیں اور میرے خیال میں دنیا میں اتنا بڑا بورڈ کوئی بھی نہیں ہو گا لہٰذا ہم اسٹاف کا جائزہ لیں گے۔

نو منتخب پی سی بی چیئرمین نے بورڈ کے آئین میں بھی ممکنہ تبدیلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کے آئین میں بھی چند تبدیلیاں لانی ہوں گی کیونکہ ہمارے بورڈ میں چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو دونوں ایک ہیں اور دنیا کے کسی بھی بورڈ میں ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین کا کام پالیسیوں پر چیف ایگزیکٹو کے ذریعے عمل درآمد کرانا ہے اور چیف ایگزیکٹو بورڈ کی مینجمنٹ کا ذمے دار ہوتا ہے لہٰذا ہم ان دونوں عہدوں کو الگ الگ رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ کے لیے پاکستان کے اسکواڈ سے حفیظ اور عماد ڈراپ

احسان مانی نے بورڈ میں شفافیت اور احتساب کا نظام متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے مالی اور انتظامی معاملات سے لے کر کوئی بھی چیز کسی سے چھپی نہیں ہو گی اور ہر چیز منظر عام پر لائی جائے گی۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ ایک ماہ کے اندر اندر گزشتہ تین سال کے بورڈ کے تمام اکاؤنٹس کے ریکارڈ بھی پی سی بی کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکیں گے۔

احسان مانی نے واضح کیا کہ میں کسی بھی قسم کی کرپشن، بدانتظامی یا غلط کام برداشت نہیں کروں گا، بورڈ کے نظام اور کام کے طریقہ کار کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں بھی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہوں اس لیے مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے حوالے سے مجھے بھی سمجھ ہے اور اگر مجھے دکھا کہ لوگوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے تو ایسے لوگوں کی بورڈ میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔