حکومت کا گیس کے نرخ 46 فیصد بڑھانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: وزیرِاعظم عمران خان نے سالانہ 50 ارب روپے کی گیس چوری کی روک تھام کے لیے گیس نرخ میں 46 فیصد اضافے پر رضامندی کا اظہار کردیا، جس کے ساتھ ہی ایک گھریلو صارف کے کیلئے گیس میں 180 فیصد تک کا اضافہ ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ رواں برس جون میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سالانہ گیس چوری کا انکشاف کرتے ہوئے گیس کے نرخ بڑھانے کی منظوری دی تھی۔

وزیرِ اعظم نے گیس سیکٹر کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ گیس کے نرخ میں اضافے کو متعلقہ حکام سے منظور کروائیں۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری میاں اسد حیاالدین نے وزیرِ اعظم کو آئل اور گیس سیکٹر میں طلب اور رسد کے حوالے سے بریف کیا۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی، نجکاری، سی پیک تشکیل دے دی

علاوہ ازیں انہوں نے گیس فروخت کرنے کی قیمتوں میں توازن، واجبات کی وصولی اور گزشتہ حکومت کی ریسرچ لائسنز فراہم نہ کرنے کے حوالے سے بھی بریف کیا، اس اجلاس میں وزیرِ پیٹرولیم غلام سرور خان بھی موجود تھے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک عہدیدار نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ گیس کے نرخ میں اضافے کے حوالے سے ایک سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے دوران بھی پیش کی گئی تھی لیکن وزیرِ خزانہ اسد عمر نے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس کے حوالے سے فیصلہ وزیرِاعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

تاہم وفاقی کابینہ کی منظوری سے قبل اب اس سمری کا بہتر ورژن اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سوئی سدرن کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) اور سوئی نادن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ خسارے کو کم کرنے کے لیے گیس کے نرخ میں اضافے کو نافذ کرے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا گیس چوری کے خلاف جامع منصوبہ بنانے کا حکم

ایس این جی پی ایل نے حکومت کو وضاحت پیش کی تھی کہ وہ 40 گیس پیداواری کمپنیوں سے گیس 6 سو 29 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم بی ٹی یو) پر خرید رہے ہیں جبکہ اسے 3 سو 99 روپے فی یونٹ پر اسے پیچنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کو 2 سو 30 روپے فی یونٹ کا خسارہ ہورہا ہے۔

20 اگست 2018 تک ایس این جی پی ایل کی واجب الوصول رقم ایک کھرب 65 ارب روپے ہے جبکہ واجب الادا رقم ایک کھرب 71 ارب روپے ہے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی ایل کی واجب الوصول رقم 2 کھرب 3 ارب 56 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے جبکہ اس کی واجب الادا رقم ایک کھرب 48 ارب 78 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔

پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے حوالے سے تاجکستان – افغانستان – پاکستان – بھارت گیس پائپ لائن منصوبے (ٹاپی منصوبہ) اور پاکستان – ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے بارے میں وزیرِاعظم عمران خان کو بریف کیا گیا۔

گھریلو صارفین کیلئے گیس کے نرخ میں 180 فیصد تک کا اضافہ

اوگرا نے گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخ کو 180 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ انڈسٹریل اور تجارتی استعمال کے لیے گیس کے نرخ میں صرف 27 سے 31 فیصد تک اضافے کا تعین کیا گیا۔

اوگرا کے مطابق بلوچستان اور سندھ میں کام کرنے والی ایس ایس جی سی کو آئندہ مالی سال کے دوران اپنے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ایک کھرب 67 ارب روپے کی ضرورت ہے، لہٰذا اسی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اضافے کی منظوری دی ہے جس کے ساتھ ہی گیس کے نرخ میں 45.54 فیصد (184.34 روپے فی یونٹ) اضافہ ہوگا۔

اسی طرح خیبرپختونخوا اور پنجاب میں گیس مہیا کرنے والی کمپنی ایس این جی پی ایل کے لیے اوگرا نے 3.37 فیصد اضافہ کیا ہے جس کے ساتھ ہی اس کے فی اس کی فی یونٹ کی قیمت 608.76 سے بڑھ کر 629.33 ہوجائے گی۔

اوگرا کی جانب سے گیس کے نرخ کا تعین درجہ بندی کے تحت کیا گیا ہے جس میں 100 سے کم یونٹ استعمال کرنے والے کے نرخ میں 180 فیصد اضافہ ہوگا اور وہ 105.15 روپے فی یونٹ کے بجائے 294.55 روپے فی یونٹ ادا کرے گا، اس کے ساتھ ہی 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین (گھریلو یا تجارتی) 210.31 روپے کے بجائے 589.09 روپے فی ایم بی ٹی یو ادا کریں گے۔

مزید پڑھیں: آئل، گیس اور دیگر معدنی ذخائر کو کنٹرول کرنے کیلئے صوبے متحرک

اس کے علاوہ 300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین 525.76 کے بجائے 664.52 روپے فی ایم بی ٹی یو ادا کریں گے جبکہ تجارتی صارفین 631 روپے کے بجائے 797.42 روپے فی ایم بی ٹی یو ادا کریں گے۔

اس کے علاوہ کمرشل سیکٹر، آئس فیکٹریوں، صنعتوں، سی این جی اسٹیشنز کھاد، سیمنٹ پلانٹ اور سرکاری پاور پلانٹ کے نرخ میں 26.4 فیصد اضافہ ہوگا۔

مثال کے طور پر آئس فیکٹریاں اب 631 روپے کے بجائے 798 روپے فی یونٹ ادا کریں گی، تجاتی صارفین، پاکستان اسٹیل ملز، واپڈا پلانٹس اور آئی پی پیز 484 روپے فی یونٹ کے بجائے 611 روپے فی یونٹ کی ادائیگی کریں گے۔

صنعتی یونٹس کے پاور پلانٹس 568 روپے کے بجائے 718 روپے فی یونٹ ادا کریں گے جبکہ سی این جی اسٹیشنز 650 روپے فی یونٹ کے بجائے 822 روپے فی یونٹ ادا کریں گے۔

سب سے زیادہ نرخ سیمنٹ فیکٹریوں کے بڑھائے گئے ہیں جو اب 736 روپے فی یونٹ کے بجائے 930 روپے فی یونٹ ادا کریں گے۔ فوجی فرٹیلائزر اور بن قاسم پاور پلانٹ 123 روپے فی یونٹ کے بجائے 156 روپے فی یونٹ ادا کریں گے۔


یہ خبر 5 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی