فن یہ نہیں کہ زندگی بس گزار لی جائے، بلکہ فن تو یہ ہے کہ زندگی کو اُس کی اصل حقیقت کے مطابق سمجھ کر گزارا جائے، لیکن افسوس کہ ہماری اکثریت زندگی کو محض گزار رہی ہے، جن میں اصول و ضوابط کو اہمیت کم ہی میسر آتی ہے۔ لیکن اگر زندگی کی حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو نہ صرف ہم خود اچھی زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ ہم سے دوسروں کو بھی فائدہ میسر آسکتا ہے۔

زندگی کی ایسی ہی کچھ حقیقتوں کو مندرجہ ذیل بیان کیا جارہا ہے۔

یقین اور عمل

اگر تمہارا یقین عمل میں ڈھل کر تمہاری زندگی اور تمہارے حالات کو بدل نہیں رہا تو ایسا یقین وہ کھوٹا سکّہ ہے جس سے کچھ خریدنا ممکن نہیں۔

کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو کھوٹے سکّے جیب میں ڈال کر ساری عمر اتراتے پھرتے ہیں۔

اگر نتائج چاہتے ہو تو اپنے یقین کو عمل میں ڈھالنا پڑے گا۔ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں البتّہ کوشش شرط ہے۔

پلاٹ

یار کوئی پلاٹ وغیرہ لیا ہے؟

بہت دیر پہلے کا۔

اچھا! کہاں لیا ہے؟

ابھی بیلٹنگ ہونی ہے، ناجانے کہاں نکل آئے۔

کتنے مرلے کا ہے؟

میرے لیے کافی ہے

کنسٹرکشن کا کب تک ارادہ ہے؟

وہ تو میں نے نہیں کرنی۔

تو کس نے کرنی ہے؟

میرے لواحقین نے۔

مزید پڑھیے: کامیاب زندگی گزارنی ہے تو اِن ’اصولوں‘ پر عمل کیجیے

جنگ، امن اور زندگی

امن کی تلاش نہ کر کہ تُو پیدائشی جنگجو ہے، تیری تخلیق کا تو مقصد ہی جنگ و جدل ہے۔

تو کتنا ہی بزدل کیوں نہ ہو ہتھیار چلانے سے باز نہیں آتا، وار کرنا تیری گھٹّی میں پڑا ہے اور مقابلہ کرنا تیری فطرت ہے۔

کہاں امن ڈھونڈتا پھرتا ہے؟

بھلا سمندر کی بپھری ہوئی موجوں پر بھی خشکی ملا کرتی ہے؟

تیری ہر سانس رزم، ہر لمحہ برسرِپیکار اور ہر آن ایک نیا معرکہ۔

قدرت نے تجھے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت بخشی ہے اور تُو امن کا متلاشی؟

کسے دھوکہ دے رہا ہے؟

ماں کے پیٹ سے زرہ بکتر پہن کر آیا اور سب سے پہلی جنگ اپنی بقاء کے لیے لڑی۔ ہوش سنبھالتے ہی خود سے ایسی جنگ چھڑ گئی جو خاک ہونے تک جاری رہی۔

اس دوران روزگار کی خوفناک جنگ، ہر میدان میں آگے بڑھنے کا بے رحمانہ گھمسان، ناکامیوں سے ٹکرا کر اٹھنا، کامیابیوں کو سنبھال کر چلنا، اپنوں کے دیے زخموں پر بیگانوں سے مرہم رکھوانا، بیگانوں کی رہزنی پر اپنوں کے گلے لگ کر رونا، جنازے اٹھانا، آنسو چھپانا، بیماریاں، آزمائشیں، بے وفائیاں، تو ہر جگہ لڑتا ہے۔

کبھی خود پر غور کرنا، تو خود کو ہتھیاروں سے لیس ایک جنگجو ہی پائے گا۔

کبھی اپنے دائیں بائیں غور کرنا، تجھے ہر کوئی ہتھیار تانے ہوئے کہیں نہ کہیں برسرِ پیکار ہی ملے گا۔

اپنے چاروں طرف دیکھے گا تو خود کو میدان جنگ کے عین وسط میں پائے گا۔

یہاں امن نہیں پیارے کہ زندگی نام ہی جنگ کا ہے۔ لڑتا رہ کہ تُو پیدا ہی لڑنے کے لیے ہوا ہے۔ فتح اور شکست تو مقدّر سے ملتی ہے لیکن تو کبھی ہتھیار نہ ڈالنا، مرتے دم تک۔

جس دن تُو تھک کر گر گیا، اس دن سمجھ لے کہ تُو مر گیا اور جنگ ختم۔

نیت

نیک نیّتی دکھوں کو معذور بنادیتی ہے اور بدنیّتی خوشیوں کو اپاہج کردیتی ہے۔ پھر کوئی معذور ہو یا اپاہج زیادہ دیر چل نہیں سکتا جلد کہیں نہ کہیں ڈھیر ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے: خوشگوار زندگی گزارنے کے چیدہ چیدہ اصول

خریداری

زندگی کا ہر فیصلہ ایک خریداری ہے اور ہم اکثر غلط چیز صرف اس لیے خرید لیتے ہیں کہ ہمیں اپنی اصل قوّتِ خرید کا درست اندازہ نہیں ہوتا۔

معاملہ کوئی بھی ہو، فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی جیبیں اچھی طرح ٹٹول لیں۔

ماں، بیوی اور بچے

ماں وہ ہستی ہے جو انسان کو پال پوس کر جوان کرتی ہے۔

بیوی بچے اس ذات کا نام ہیں جو ایک جوان کو بوڑھا کردیتے ہیں۔

اولاد کی اولاد وہ نعمت ہے جو انسان کو پھر سے جوان بنا دیتی ہے۔

لیکن بڑھاپے میں جوان اولاد کی بے اعتنائی وہ تکلیف ہے جو انسان کو مار ہی ڈالتی ہے۔

اپنے بڑوں، بوڑھوں اور ضعیفوں کی قدر کیجیے، انہیں وقت اور توجّہ دیجیے۔ انہیں دھرتی پر بوجھ ہونے کا احساس دلانے کی بجائے ان کے احسانات کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر محسوس کیجیے۔

گٹھری

انسان ایک گٹھری کی مانند ہے، جیسے ہی ٹھوکر لگتی ہے اندر بھری ہر چیز باہر آ گرتی ہے۔

کچھ لوگوں کی گرہ تو ہوا کے ایک ہلکے سے جھونکے سے ہی کھل جاتی ہے۔

اگر عزت پانا چاہتے ہو تو اپنی گرہ مضبوط رکھو ورنہ وقت کی آندھی تمہارے بکھرے ہوئے وجود کو زمانے بھر میں پھیلا دے گی، پھر گلی گلی اپنی شناخت ڈھونڈتے پھرو گے۔

عمل اور ردِعمل

سب کہتے ہیں کہ ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ہر ردِعمل کے پیچھے ایک عمل بھی لازماً موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی کے ردِعمل پر ردِعمل دینے سے پہلے اس ردِعمل کے پیچھے چھپے عمل کی تحقیق ضرور کریں کیونکہ عموماً ردِعمل کیے گئے عمل کے مطابق ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: زندگی میں صحیح سمت کے تعین کے لیے مددگار اصول

لذّت گناہ

اگر تم گناہ کی لذّت سے محروم ہو تو جان لو کہ تمہارا ضمیر ابھی آخری سانسیں لے رہا ہے، کیونکہ گناہ کی پوری لذّت ضمیر کی پوری موت سے مشروط ہے۔

رزق

دولت کی مساوی تقسیم یقیناً غیر فطری ہے لیکن امیر اور غریب کے طرزِ حیات میں جتنا تفاوت ہمیں آج نظر آتا ہے، وہ قدرت کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے کیونکہ قدرت ہرگز اتنی ناانصافی سے کام نہیں لے سکتی۔

اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ ہمارے مال و دولت میں قدرت نے کس کس کا حصّہ چھپا رکھا ہے تو شاید ہی ہم میں سے کوئی پُرتعیش زندگی گزار سکے۔

اپنے رزق میں دوسروں کا حصہ پہچان کر مستحقین تک پہنچانے میں دیر نہ کریں یقین کیجیے جو کچھ آپ کو مل رہا ہے، سب آپ کا نہیں ہے۔

واللہ آپ کا نہیں ہے۔