پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی چیز مخفی ہے تو اس کو سامنے لایا جائے۔

جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نہایت غیر اہم موضوعات کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے، سی پیک پر ہم نے کام کیا لیکن یہ حکومت ہر چیز کو سیاست کا شکار بنا رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے سی پیک کے منصوبوں پر نظر ثانی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم سی پیک میں پاکستان کے مفاد کے لیے بیٹھے تھے اور ہر افسر نے پاکستان کے مفاد کے لیے کام کیا اور چین نے بھی بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور خطے میں مضبوط پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی میں اقدامات کیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں قوم سے کسی چیز کو مخفی نہیں رکھا گیا لیکن ایک لابی پروپیگنڈا کرتی رہی ہے کہ چیزوں کو مخفی رکھا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) پرویز خٹک سی پیک کے ہر اجلاس میں شامل ہوتے رہے اور انہوں نے کچھ منصوبوں کی منظوری بھی دی۔

وزیراعظم کے معاشی مشیر رزاق داؤد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ انہوں نے بیان کی تردید کی ہے لیکن مندرجات کی تردید نہیں کی۔

مزید پڑھیں:’پاکستان سی پیک منصوبے کے معاہدوں پر نظرثانی کرے گا

پروگرام کے میزبان شاہزیب خانزادہ کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اگر رزاق داؤد سی پیک میں ٹینڈرز اور مقامی صنعت کو فائدہ نہیں ملنے کی بات کر رہے ہیں تو کیا ہرج ہے جبکہ انہوں نے حکومت میں آنے سے پہلے بھی اسی طرح کی باتیں کی تھیں۔

سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے میزبان کے اس سوال پر کہا کہ ان کے تمام تحفظات غلط ہیں کیونکہ چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں جو چھوٹ دی گئی وہ قرض کو کم کرنے کے لیے تھی تاکہ قرضے لے کر ٹیکس میں اضافہ نہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بدگمانی منظم طریقے سے پھیلائی گئی حالانکہ چین تو پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر بننا چاہتا ہے لیکن کہا گیا کہ چین یہاں آکر بیٹھ جائے گا اور ایسٹ انڈیا کپمنی بن جائے گا جو غلط بات ہے کیونکہ چین 50 ارب ڈالر کے منصوبے کے بعد پاکستانی عوام کی مخالفت کا سامنا کرے اس سے تو بہتر یہی تھا کہ وہ اس منصوبے کو شروع ہی نہ کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور چین کا ’سی پیک‘ کو وسعت دینے کا فیصلہ

خیال رہے کہ ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم مہاتیر محمد نے گزشتہ حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ کیے گئے چند منصوبوں کو ختم کرنے اور مزید منصوبوں پر نظر ثانی کی بات کی تھی اور پروگرام میں اس حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ میں واضح کروں کہ پاکستان نہ تو سری لنکا اور نہ ہی ملائیشیا جیسا ہے، چین اور پاکستان کے مضبوط مراسم ہیں اور اس کا محل وقوع بھی ان سے الگ ہے اور چین نے اس وقت مدد کی جب کوئی پاکستان میں 10 روپے سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں تھا۔

سی پیک میں پاکستانی صنعتوں کو یکساں مواقع نہ دینے کے تاثر سے متعلق سوال پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے بارہا پاکستان کے تمام چیمبرز سے بات کی اور انہیں آگاہ کیا۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستانی صنعت کو عالمی سطح پر لے کر آنا پڑے گا کیونکہ یہی چین، کوریا، ملائیشیا میں ہوا، اس لیے ہمارے نجی شعبے پر بھی لازم ہے کہ وہ انٹرنیشنل سرمایہ کاری کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اس کو ایک موقع سمجھے۔

احسن اقبال نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین کو کسی مد میں کوئی ڈیوٹی معاف نہیں کی گئی، جہاں پاکستان کو فائدہ نہیں مل رہا ہو وہیں پر ڈیوٹی میں میں چھوٹ دی گئی اور جہاں ہمیں فائدہ ہورہا تھا اس میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی۔