راہل اور پانٹ کی سنچریاں رائیگاں، بھارت کو آخری ٹیسٹ میں بھی شکست

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2018

ای میل

سیریز کی فاتح انگلش ٹیم کا ٹرافی کے ہمراہ گروپ فوٹو— فوٹو: اے پی
سیریز کی فاتح انگلش ٹیم کا ٹرافی کے ہمراہ گروپ فوٹو— فوٹو: اے پی

لوکیش راہل اور ریشابھ پانٹ کی جرات مندانہ سنچریوں کے باوجود انگلینڈ نے بھارت کو پانچویں ٹیسٹ میچ میں 118 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-4 سے فتح اپنے نام کر لی۔

اوول میں کھیلے گئے سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 332 رنز بنائے جس کے جواب میں بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 292رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

انگلینڈ نے 40رنز کی برتری کے بعد آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ایلسٹر کک اور کپتان جو روٹ کی سنچریوں کی بدولت دوسری اننگز 423رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر کے بھارت کو فتح کے لیے 464رنز کا مشکل ہدف دیا۔

تاہم ہدف کے تعاقب میں 2رنز پر 3وکٹیں گنوانے بھارتی ٹیم نے میچ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام تک 58رنز بنائے تھے۔

میچ کے آخری دن لوکیش راہل اور اجنکیا راہانے نے پراعتماد انداز میں دن کا آغاز کیا اور اپنی ٹیم کی سنچری مکمل کرائی۔

لیکن 120کے مجموعی اسکور پر معین علی نے 37رنز بنانے والے راہانے کو پویلین لوٹا کر اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی جبکہ اگلے ہی اوور میں بین اسٹوکس نے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ہنوما ویہاڑی کو کھاتا کھولے بغیر ہی رخصت کردیا۔

121رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارتی ٹیم کی شکست صاف نظر آ رہی تھی لیکن اس موقع پر لوکیش راہل کا ساتھ دینے پانٹ آئے اور دونوں حریف باؤلرز کے خلاف ڈٹ گئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصرف عمدہ شراکت قائم کی بلکہ اس دوران 4 رن فی اوور سے زائد کی اوسط سے اسکور کرتے ہوئے جیت کی امیدوں کو برقرار رکھا۔

اس دوران لوکیش راہل اور ریشابھ پانٹ دونوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ میں اپنی پہلی پہلی سنچریاں اسکور کیں۔

انگلینڈ کے باؤلرز انتہائی کوشش کے باوجود بھی دن کے درمیانی سیشن میں کوئی وکٹ نہ لے سکے جس کے بعد میچ دن کے آخری سیشن تک جا پہنچا اور میچ ڈرا ہونے کے امکانات روشن جبکہ بھارت شائقین کی میچ میں جیت کی امیدیں ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گئیں۔

تاہم چائے کے وقفے کے چند اوورز بعد ہی انگلینڈ کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب عادل راشد کی ایک ناقابل یقین گیند نے راہل کی وکٹیں بکھیر دیں جنہوں نے 20چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 149رنز کی اننگز کھیلی۔

ریشابھ پانٹ نے ساتھی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے کے باوجود صورتحال کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے روایتی جارحانہ انداز جاری رکھا اور اسی کوشش میں عادل راشد کے اگلے اوور میں ان کی اننگز بھی تمام ہوئی جو 4 چھکوں اور 15چوکوں کی بدولت 114رنز پر محیط تھی۔

اس کے بعد انگلینڈ کو بھارتی ٹیم کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری بھارتی ٹیم 345رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور میچ میں 118رنز کی شکست سے دوچار ہوئی۔

سیریز میں سب سے زیادہ 24وکٹیں لینے والے جیمز اینڈرسن نے سیریز کی آخری گیند پر محمد شامی کو آؤٹ کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 464وکٹیں لینے والے فاسٹ باؤلر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی انگلینڈ نے 5 میچوں کی سیریز 1-4 سے اپنے نام کر لی۔

کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ایلسٹر کک کو پہلی اننگز میں 71 اور دوسری اننگز میں 147رنز کی شاندار باریاں کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کے سیم کرن اور بھارت کے ویرات کوہلی سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار دیے گئے۔