چین، روس نے امریکا کو پابندیوں پر سنگین نتائج سے خبردار کردیا

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2018

ای میل

چین کی فوجی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر پر روسی فائٹر طیاروں اور زمین سے فضا میں حملہ کرنے والے میزائلوں کی خریداری کے خلاف امریکی پابندیوں کو چین نے ’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے، امریکا سے ان پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے واشنگٹن کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’چین کو امریکا کے نامناسب اقدام پر سخت تشویش ہے‘۔

واضح رہے کہ نئی پابندی میں امریکا میں داخلے اور امریکی فنانشل سسٹم سے رقوم کی منتقلی سمیت امریکا کے دائرہ اختیار میں تمام پراپرٹیز کو ضبط کیا جانا شامل ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چین پرنئے ٹیرف کا اعلان، بیجنگ کی جوابی اقدام کی دھمکی

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم امریکا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنی غلطی سدھارے اور پابندیوں کو ختم کرے ورنہ اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں'۔

تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ سجئی ریابکوف نے بیجنگ کے رد عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکا آگ سے کھیل رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آگ سے کھیلنا بے وقوفی ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا 50 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر امریکی ٹیرف کا اعلان

واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز ماسکو کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر چینی فوج کے ایک یونٹ پر پابندی کا اطلاق کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے روس سے ایس یو 25 فائٹر جیٹ اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس 400 میزائل خریدے ہیں، چین کی یہ خریداری پابندیوں سے متعلق امریکا کے 2017 کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: چین کا جوابی اقدام: امریکی مصنوعات کی درآمد پر محصولات عائد

واضح رہے کہ امریکا کی روس پر لگائی گئی پابندی کا مقصد 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت پر اسے سزا دینا ہے۔

اس سے قبل امریکا نے ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں روس کے 33 اداروں اور افراد کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پابندیوں کی فہرست میں روسی فوج، انٹیلی جنس اداروں اور ان کے مفادات کے لیے کام کرنے والے افراد اور ادارے شامل ہیں۔

خیال رہے کہ روس کی جانب سے ہتھیاروں کی فروخت ان کے لیے اہم ذرائع آمدن ہے اور گزشتہ سال روس نے 14 ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار متعدد ممالک کو فروخت کیے تھے۔