این اے 73: عثمان ڈار نے خواجہ آصف کی انتخابی کامیابی چیلنج کردی

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2018

ای میل

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے قومی اسمبلی کی نشست 73 (سیالکوٹ) پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی کامیابی چیلنج کردی۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے انتخابی ٹریبیونل میں دائر انتخابی عذرداری میں عثمان ڈار نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ غیر تصدیق شدہ بیان حلفی جمع کرایاہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف نے نااہلی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

عثمان ڈار نے عذرداری میں الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ الیکشن ایکٹ پر عملدرآمد میں ناکام رہا کیونکہ 53 پولنگ اسٹیشنز کے تھیلے انتخابات کے اگلے روز جمع کرائے گئے۔

عثمان ڈار نے 1 ہزار 406 ووٹوں کے فرق کی وجہ سے دوبارہ گنتی کا حکم دینے پر زور دیا۔

مزیدپڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا

پی ٹی آئی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ این اے 73 سے خواجہ آصف کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے اور مقدمہ بازی کے اخراجات خواجہ آصف سے وصول کرنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اگست میں لاہور ہائی کورٹ نے عثمان ڈار کی جانب سے این اے 73 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خواجہ آصف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔

عثمان ڈار نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے ان کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 فراہم نہیں کیا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ان کے 7 ہزار 3 سو 46 ووٹ مسترد ہوئے تھے، جبکہ انہیں خواجہ آصف سے صرف ایک ہزار 4 سو 6 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مزیدپڑھیں: درخواست کے باوجود ووٹوں کی گنتی دوبارہ نہیں کی جارہی، عثمان ڈار

خیال رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 73 سیالکوٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ذرائع ابلاغ میں خبریں شائع ہوئی تھیں کہ عثمان ڈار کی درخواست پر حلقے میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ جاری ہے، بعدِ ازاں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں خواجہ آصف ہی کامیاب قرار پائے۔