’بتی گُل میٹر چالو‘ بَڑھیا ہے یا نہیں؟

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2018

ای میل

بھارتی فلموں کا شیوا رہا ہے کہ فلم میں کسی ایک جملے یا ڈائیلاگ کو عوام کے ذہنوں میں یوں بٹھا دیا جائے، جیسے تکیہ کلام! اب فلم تو کجا ورن دھون اور انوشکا شرما کی فلم سوئی دھاگا کے تو ٹریلر میں شامل لائن 'سب بڑھیا ہے' کو سلوگن ہی بنا دیا گیا ہے۔ اب یہ نعرہ جا بجا گونج بھی رہا ہے۔

ویسے یہ بڑھیا بہترین کو ہی کہتے ہیں نا؟

کہیں فلم جیسے بڑے میڈیم کا سہارا لے کر عوام کو اپنی زبان کی جانب تو نہیں کھینچا جارہا؟ یا اردو اور ہندی میں فرق کو واضح کیا جارہا ہے۔ گویا جنگ کی تیاری ہوگئی۔ شانتی ہماری سکون تمہارا۔

کچھ ایسا ہی فلم 'بتی گل، میٹر چالو' میں بھی کیا گیا ہے۔ شدھ ہندی، میرا مطلب ہے خالص ہندی زبان کے الفاظ کو فلم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ہر بات میں 'بَل' کا لفظ اتنا استعمال کیا گیا ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد آپ کے لب پر بھی 'بَل' کا لفظ چڑھ جائے گا۔ خیر 'بَل' کی بحث اس ریویو کو الگ سمت میں لے جائے گی۔

'بتی گل، میٹر چالو' میں خالص ہندی زبان کے الفاظ کو فلم کا حصہ بنایا گیا ہے
'بتی گل، میٹر چالو' میں خالص ہندی زبان کے الفاظ کو فلم کا حصہ بنایا گیا ہے

تو شروعات کرتے ہیں الیکٹرک کے 'بِل' سے۔ فلم کا ٹریلر دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو ہی گیا ہوگا کہ فلم کا مدعا کیا ہوگا۔ پھر ریلیز سے قبل ہی اس فلم کا پاکستانی فلم 'ایکٹر ان لاء' کا چربہ ہونے سے متعلق بحث شروع ہوگئی تھی۔

چلیے ذرا ماضی میں جھانک کر مختصراً نبیل قریشی اور فزا کی ہدایات کاری میں بنی فلم ایکٹر اِن لاء پر بھی سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ فلم میں فہد مصطفیٰ یعنی شان مرزا ایکٹر بننے کی خواہش میں جعلی وکیل بن جاتا ہے اور ’وکالت‘ کے دوران ایک بجلی کی کمپنی کے خلاف مقدمہ لڑتا ہے۔ بعدازاں توہینِ عدالت کے زمرے میں اسے جیل ہوجاتی ہے اور پھر اس کا باپ اس کا مقدمہ لڑنے کے بعد اپنی زندگی کا پہلا کیس جیت پاتا ہے۔

ایکٹر ان لا اور بتی گل میٹر چالو کا پوسٹر
ایکٹر ان لا اور بتی گل میٹر چالو کا پوسٹر

فلم 'بتی گل میٹر چالو' کی شروعات ہوتی ہے بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ایک چھوٹے قصبے سے، جہاں اندھیرے میں تیر چلانے کا مقابلہ لڑتا ہے شاہد کپور عرف ’ایس کے‘، یعنی سشیل کمار۔ سشیل پیشے سے تو وکیل ہے مگر لگاتا سب کو چونا ہے۔

فلم میں شردھا کپور نے اسی قصبے کی ایک فیشن ڈیزائنر ’للیتا‘ کا کردار ادا کیا ہے، جسے پیار سے سب 'نوٹی' پکارتے ہیں۔ دِیوندُو شرما نے ترپاٹھی کا کردار نبھایا ہے۔

ترپھاٹی، ایس کے اور نوٹی تینوں بچپن کے گہرے دوست ہیں۔ یہاں بھی آپ کو ایک لمحے کے لیے پاکستانی فلم 'ہو من جہاں' کے شہریار منور، عدیل اور ماہرہ خان کا ٹرایو یاد آئے گا۔

فلم کا پہلا حصہ فلم کے ٹریلر میں گنگا سے نکلتی موٹر سائیکل والی کہانی کو واضح کرتا دکھائی دے گا۔ 3 پکے دوستوں کی اس کہانی میں بھی دیگر فلموں کی طرح ’لو ٹرائی اینگل‘ یعنی کسی ایک سے پیار اور پھر ایک لڑکے کا انتخاب۔

فلم میں شردھا کپور نے اسی قصبے کی ایک فیشن ڈیزائنر ’للیتا‘  کا کردار ادا کیا ہے
فلم میں شردھا کپور نے اسی قصبے کی ایک فیشن ڈیزائنر ’للیتا‘ کا کردار ادا کیا ہے

کہانی کا رخ ترپاٹھی کے فیکٹری لگانے کے فیصلے کے بعد بدلے گا۔ جہاں 'ایس پی ٹی ایل' نامی بجلی کی کمپنی کا بھیجا گیا ڈیڑھ لاکھ کا بِل 54 لاکھ روپوں تک پہنچ جائے گا اور نتیجہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ ترپاٹھی کی خودکشی۔

انٹرویل!

فلم ایکٹر ان لاء اور 'بتی گل میٹر چالو' میں مشابہت دراصل بجلی کمپنی کا معاملہ ہی ہے۔ بجلی کو لے کر بھارت اور پاکستان کا مسئلہ کم و بیش ایک جیسا ہی ہے۔ صرف ڈیجیٹل میٹر میں لگی ایک چھوٹی سی لال بتی کے نام پر اربوں روپے معصوم عوام کی جیبوں سے اینٹھ لیے جاتے ہیں۔ دونوں فلموں میں فرق وکیلوں کے اصلی اور نقلی ہونے کا ہے۔ شاہد کپور گو کہ ساڑھے 7 سال میں ڈگری لے پایا لیکن ہے سندیافتہ وکیل۔

فلم کے لکھاری وپل کے روال، سدھارت سنگھ اور گریما واہل ہیں۔ موسیقی انو ملک، روچک کوہلی اور سچت پرمپرا نے ترتیب دی ہے۔ گو کہ فلم میں راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم کی آوازیں بھی شامل ہیں لیکن فلم کے گیت زیادہ متاثر کن نہیں۔

البتہ شاہد کپور کے ڈانس اسٹیپس نے 2 بے تُکے گیتوں میں بھی جان ڈال دی ہے۔ نصرت فتح علی خان صاحب کے گیت 'دیکھتے دیکھتے' کو عاطف اور راحت کی آوازوں میں شامل تو کیا گیا ہے مگر سچ پوچھیے تو فلم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اریجیت کا 'ہر ہر گنگے' پھر بھی فلم کی روح کے مطابق ہے۔

انٹرویل ختم ہوا۔

فلم سنجیدگی کی جانب چل پڑی۔ ایس کے نے ترپاٹھی کا کیس لڑنے اور بجلی کمپنی کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا۔

بجلی کمپنی نے بھی کیس ہرانے کی ٹھان لی۔ یہاں یامی گوتم کو بجلی کمپنی کے وکیل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ فلم میں مزاح کے عنصر کو شامل رکھنے کے لیے عدالت کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا، مثلاً یامی گوتم کی فیکٹس اینڈ فِگر والی بات پر جج کے سامنے شاہد کپور کا بیہودہ جواب کسی وکیل کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

ویسے فلم ایکٹر ان لاء میں بھی ایسا ہی کچھ فہد مصطفیٰ صاحب جج کے ساتھ کرتے تھے۔ لیکن ان کو معافی ہے کیونکہ وہ وکیل نہیں تھے۔

فلم میں شاہد کپور اور شردھا ایک ہوپائیں گے یا نہیں، یہ بھی دلچسپ کہانی ہے
فلم میں شاہد کپور اور شردھا ایک ہوپائیں گے یا نہیں، یہ بھی دلچسپ کہانی ہے

بہرحال فلم کے اس حصے میں ایک ٹوئسٹ ہے جو آپ کو فلم کے اختتام تک جوڑے رکھے گا۔ رہی بات شاہد کپور اور شردھا ایک ہو پائیں گے یا نہیں، یہ بھی دلچسپ کہانی ہے۔ ہاں 'لائٹ بند بجھ، بند بجھ' والی بات کی کنفیوژن بھی فلم دیکھ کر کلیئر ہوجائے گی۔

سماجی و عوامی مسائل پر بننے والی فلموں میں مزاح کو درست انداز میں شامل کرنا بھی واقعی ایک آرٹ ہے۔ تو اس معاملے میں یقیناً پاکستان بازی لے جارہا ہے۔ رہی بات فلم کی تو اس کا موضوع پاکستانی اور بھارتی قوم کے لیے کہیں نا کہیں مشترک ہے۔ اس فلم میں قوم کے سامنے ایک سچائی ہے، کھلی حقیقت ہے اور ایک سوال ہے کہ آخر کب تک؟

کسی کو تو آواز اٹھانی ہوگی۔ ورنہ وہ لُوٹتے رہیں گے اور ہم کہیں گے کہ، سب بَڑھیا ہے بَل!