تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے پارلیمانی مہینے کا مشاہدہ

04 اکتوبر 2018

ای میل

رواں سال سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے موقعے پر ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو پارٹی کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انتخاب کے بعد جب صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بنے تو پاکستان میں ’سنجرانی فارمولہ‘ کی ایک نئی اصطلاح بھی ابھر کر سامنے آئی، اس اصطلاح کا استعمال غیرسیاسی لوگوں کو سیاسی اداروں کے اہم عہدوں پر بٹھانے کے عمل کے لیے کیا جانے لگا ہے۔

خیر یہ تو تھی سینیٹ کی بات، لیکن اب آتے ہیں 25 جولائی کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی نئی قومی اسمبلی کی طرف۔ اس نئی نویلی اسمبلی کی کارروائی کا ذرا مشاہدے کریں تو آپ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو زیادہ تجربہ کار پائیں گے۔

موجودہ قومی اسمبلی میں ایک اندازے کے مطابق 41 فیصد نئے چہرے مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر آئے ہیں، اور ان میں سے متعدد منتخب نمائندے وزیر بھی بن گئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری بھی ان پہلی بار ممبر قومی اسمبلی بننے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ایوان مقدس ہوتا ہے

ٹھیک سینیٹ یا ایوانِ بالا کی طرح قومی اسمبلی یا ایوانِ زیریں کا اپنا ہی ایک وقار ہے، ایوان میں آپ کو ڈریس کوڈ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور دونوں ایوانوں کی روایات کی پاسداری بھی ہر ممبر پر لازم ہوتی ہے۔ دورانِ خطاب الفاظ کے چناؤ میں احتیاط لازمی ہے، کیونکہ آئینِ پاکستان کے مطابق اس ایوان میں ہونے والی تقاریر کسی بھی عدالت میں چلینج نہیں ہوسکتیں، لہٰذا ان ایوانوں کو چلانے والے غیرمناسب الفاظ کا کارروائی کا حصہ بنانے یا نہ بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

پڑھیے: کیا عمران خان بھٹو بن سکتے ہیں؟

اب بیتے وقت کی بات کریں تو میاں رضا ربانی جب چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تو انہوں نے کئی نئی روایات متعارف کروائیں، جن میں سب سے اہم وقت کی بے رحم پابندی تھی۔ انہوں نے تحریری طور پر رولنگ دینے کی پارلیمانی روایت کو بھی زندہ کیا۔ اسی طرح پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سینیٹ کو نمائندگی دلوائی اور سینیٹ آف پاکستان میں ڈریس کوڈ کی پابندی یقینی بنائی، بلکہ دورانِ خطاب ممبر کے سامنے سے گزرنے پر پابندی بھی عائد کی۔ میاں رضا ربانی کی روایات کے نتیجے میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی کوشش کی کہ پارلیمانی روایات کی پاسداری کی جائے۔

سڑک اور اسمبلی فلور میں فرق ہوتا ہے

گزشتہ اسمبلی میں تحریکِ انصاف پارلیمانی نظام کی نئی جماعت تھی، اس لیے اس نے ایوان اور چوک میں کوئی زیادہ امتیاز نہیں برتا، نتیجے میں ایوان کے اندر اور باہر گالیوں، لاتوں اور گھونسوں کا استعمال کچھ زیادہ ہی ہونے لگا، لیکن اب جبکہ تحریکِ انصاف خود اقتدار میں ہے تو بھی اسے اس بات کو ذہنی طور پر ماننے میں وقت لگے گا کہ ان کے رویے اب تبدیل ہونے چاہئیں۔

لیکن یہاں 2 اہم معاملات ہیں، ایک تو اہم عہدوں پر ناتجربہ کار نئے ارکان کی تقرری اور دوسرا وفاقی وزرا کا رویہ ہے۔

ناتجربہ کاری کی بات کی جائے تو ایوانِ زیریں کی کارروائی جب ڈپٹی اسپیکر چلاتے ہیں تو ہم واضح طور پر محسوس کرسکتے ہیں کہ انہیں معاملات سمجھنے میں ابھی کافی وقت درکار ہے۔ قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط پر دسترس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی تجربہ، پڑھنے سے نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ملتا ہے، اسی لیے نئے ڈپٹی اسپیکر کو ایوان کی کارروائی میں چلانے میں کافی مسائل کا سامنا ہے۔

اگرچہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر صاحب صوبائی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں لیکن صوبے اور وفاق کے درمیان کافی فرق ہوتا ہے، اس کے باوجود بھی اسد قیصر پارلیمانی سیاسی معاملات کو جلد سمجھ گئے ہیں، اور ان کے لیے اتنے زیادہ مسائل پیدا نہیں ہوئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے قوائد و ضوابط سے واقف ہونا لازم ہے اور خاص کر اس وقت جب آپ کے ایوان کی اپوزیشن پارلیمانی روایات میں 3 دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہو، اور آپ کے سامنے ایاز صادق جیسے سابق اسپیکر، خورشید شاہ جیسے منجھے ہوئے ممبراسمبلی، سابق وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف اور شہباز شریف جیسے اپوزیشن لیڈر موجود ہوں۔ بلاشبہ ان قد آور لوگوں کے سامنے غلطی کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے اور جب آپ اپنے کام میں مہارت نہ رکھتے ہوں تو آپ کی پوزیشن مزید کمزور ہوجاتی ہے۔

پڑھیے: عمران خان کے اقتدار کو خطرہ ’کب‘ اور ’کیوں‘ ہوسکتا ہے؟

اب گزشتہ دنوں ہونے والے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کی مثال لیجیے جب ایوانِ زیریں میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کچھ ایسے انداز اور رویے کے ساتھ جوشیلا خطاب کیا کہ ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کے سربراہوں کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کردیا ہے۔

اسمبلی میں حالیہ شور کے پیچھے معاملہ کیا ہے؟

ذرائع بتاتے ہیں کہ اصل معاملا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سے شروع ہوا۔ گزشتہ ہفتے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کے قیام پر مشاورت کے دوران چیئرمین پی اے سی کی تقرری کا معاملہ بھی زیرِگردش تھا۔ پی اے سی کی چیئرمین شپ کا معاملہ میثاقِ جمہوریت میں طے ہوا تھا اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اس بات پر تحریری اتفاق کیا تھا کہ پی اے سی چیئرمین شپ کا عہدہ اپوزیشن لیڈر کو دیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی جب 2008ء میں اقتدار میں آئی تو میثاقِ جمہوریت کے تحت اس نے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کو چیئرمین پی اے سی تعینات کیا، بعد ازاں جب چوہدری نثار کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوئے تو حکومت نے اپنی پارٹی کے رکن ندیم افضل چن کا اس عہدے پر تقرر کیا۔ بالکل اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے میثاقِ جمہوریت کے معاہدے کے تحت یہ عہدہ اپنی حکومت میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو دیا۔

اب (ن) لیگ کے ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف اپنی مصروفیات کے باعث یہ اہم عہدہ اپنے پاس رکھنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر اس بات پر بھی غور ہورہا تھا کہ اگر میاں شہباز شریف یہ عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکے تو پھر یہ عہدہ پارٹی کے کسی اور اہم رہنما کو سونپ دیا جائے، لیکن چونکہ یہ استحقاق حکومت کا ہے اور وہ میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے والوں میں شامل بھی نہیں، لہٰذا تحریک انصاف کی حکومت یہ عہدہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو دے سکتی ہے۔

اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے دوران اسپیکر کی رائے یہ تھی کہ پی اے سی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر کو ہی ملنی چاہیے، ابھی پس پردہ مشاورت جاری تھی کہ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے واضح کہہ دیا کہ ان کی حکومت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپنے پاس رکھے گی، ’کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ (ن) لیگ اپنے دور کے آڈٹ اعتراضات خود ہی ختم کرے‘۔

پڑھیے: ابھی تحریکِ انصاف کی حکومت کو 4 جمعے نہیں گزرے کہ۔۔۔

دراصل اسپیکر اسد قیصر یہ کوشش کررہے تھے کہ تحریکِ انصاف اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے درمیان جو ایک بڑی خلیج موجود ہے اسے کم کیا جائے چنانچہ وہ چاہ رہے تھے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن لیڈر کو ہی دی جائے تاکہ ایک طرف پارلیمانی روایت برقرار رہے تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو سخت قسم کی نفرت انگیز دوری ہے اس میں کچھ کمی واقع ہو۔

پھر قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں نفیسہ شاہ اور ان کے بعد خورشید شاہ ایوان سے مخاطب تھے کہ وزیرِ اطلاعات ایوان میں آگئے اور جی بھر کے انہوں نے نہ صرف اپوزیشن پر شدید تنقید کی بلکہ مطالبہ بھی کردیا کہ ان چوروں کو صبح شام الٹا لٹکانا چاہیے۔ اپوزیشن نے وزیر موصوف کے الزامات پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا، کچھ دیر بعد وزیرِ اطلاعات نے اپنے الفاظ پر معذرت کی لیکن باہر جاکر اپنی بات پر ڈٹے رہے اور ابھی بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اسپیکر اور وزیرِ اطلاعات کے درمیان نرم لہجے میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور جو لوگ اس پس منظر سے واقف تھے وہ سمجھ رہے تھے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟

اب یہ معاملہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی وطن واپسی تک مؤخر کردیا گیا ہے، اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے ساری صورتحال سے آگاہ بھی کیا لیکن اسپیکر اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

تحریکِ انصاف اپنے لیے خود ہی مسائل پیدا کر رہی ہے

نئی قومی اسمبلی کا یہ پہلا باضابطہ اجلاس جاری ہے، جس میں منی بجٹ زیرِ بحث ہے، تاہم حکومتی اراکین اسمبلی کی عدم موجودگی کے نتیجے میں اپنے ابتدائی دنوں کے دوران ہی اسمبلی کا کورم ٹوٹ گیا۔ تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اس ساری صورتحال میں کسی قسم کی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے دکھائی نہیں دیتے، جبکہ جذبات سے بھرپور وزراء ابھی تک جلسے میں ڈائس پر کھڑے ہوکر بھڑاس نکالنے، گالیاں دینے، الزامات لگانے اور پھر لوگوں کی تالیوں اور نعروں سے لطف اندوز ہونے کے سحر میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

منتخب ایوان کے اندر ایک طے شدہ روایات کے اندر چلنا لازم ہوتا ہے، آپ کو نہ صرف خود پر بلکہ زبان کو بھی قابو میں رکھنا پڑتا ہے، ممکن ہے کہ وزیرِ اطلاعات نے ایوانِ زیریں میں کی گئی تقریر پر پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں سے داد وصول کی ہو لیکن اس کا نقصان ایوان کے اندر بیٹھی حکومت کو ہوا ہے۔

پڑھیے: کپتان کی اننگز

آنے والے دنوں میں سادہ اکثریت رکھنے والی حکومت کو اگر قانون سازی اور آئین میں ترامیم کرنا پڑیں تو وہ اپوزیشن کے بغیر ایسا نہیں کر پائے گی۔ تحریکِ انصاف کو اپنے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے جو ٹارگیٹ حاصل کرنے تھے وہ اس نے حکومت سے پہلے ہی حاصل کرلیے۔ اس حکومت کی فی الحال خوش قسمتی یہ ہے کہ ایوان کے اندر اپوزیشن منقسم ہے جس نے اب تک اپنے فیصلوں سے حکومت کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں، جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، یہ تقسیم ختم ہوتی جائے گی اور جیسے ہی یہ تقسیم ختم ہوئی تو حکومت کے لیے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔

لیکن ان تمام تر واقعات کے باوجود حکومت کی کارکردگی کو جانچنا کچھ اچھا نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تو تحریک انصاف کی حکومت کو بنے جمع جمع آٹھ دن ہوئے ہیں، اور اسے 5 سال کا مینڈیٹ ملا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے اس کے پاس ماضی کے حکمرانوں کے برعکس غلطی کی گنجائش بہت کم ہے، لہٰذا اسے ایوان اور مجمع کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔