افسانہ: ’میں‘

22 دسمبر 2018

ای میل

آج صبح آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ ’میں‘ گُم ہوگیا ہے۔

’میں‘ جو آہستہ آہستہ گُم ہورہا تھا آج مکمل طور پر کہیں گُم ہوگیا۔ گھر کے تمام کمروں میں دیکھا، کتابوں، کتابوں میں چُھپے خطوں حتیٰ کہ برتنوں تک میں دیکھ لیا لیکن ’میں‘ کا کوئی سُراغ نہ ملا۔

پڑوسیوں کے دروازے پر دستک دی تو وہاں سے ایک چھوٹا بچہ باہر نکلا،

’بیٹا کیا تُم نے ’میں‘ کو دیکھا ہے؟‘

’جی کیا انکل؟‘ بچے نے حیران ہوکر پوچھا۔

’کیا تمہارے ابو گھر پر ہیں؟‘

’نہیں۔‘

اب بچے سے مزید سوالات کرنا فضول تھا اور یہاں وقت تھا کہ دوڑے جارہا تھا۔ دفتر 9 بجے پہنچنا تھا اور اب 10 ہونے کو تھے۔ اسی دوران دفتر سے صاحب کا فون آگیا، اُن کو بتایا کہ ’میں‘ آج صبح سے لاپتا ہے سو دفتر آنے سے قاصر ہے جیسے ہی ’میں‘ ملا فوراً ہی دفتر حاضر ہوکر رپورٹ کرے گا۔

پڑھیے: افسانہ: برفی

صاحب نے ’میں‘ کو خوب بُرا بھلا کہا کہ اس نے ہمیشہ ہی سے کام سے جی چرایا ہے اور آج دفتر میں چونکہ کام زیادہ تھا سو گمشدگی کا بہانہ بنالیا ہے سو اب اس کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔ اس سے پہلے کہ صاحب کوئی وضاحت سنتے انہوں نے فون ہی کاٹ دیا۔

دوپہر تک ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک ٹہلتا رہا اور اس کا انتظار کرتا رہا۔

’میں‘ کی گمشدگی کا واقعہ یکدم نہیں ہوا تھا بلکہ یہ گمشدگی قسطوں میں ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ کرکے ’میں‘ کو گُم کیا جارہا تھا اور آج صبح تو ’میں‘ مکمل طور پر کہیں کھو گیا تھا۔

’میں‘ جو پیدائشی طور پر ایک آرٹسٹ تھا، گاؤں کی کچی دیواروں پرجلی ہوئی لکڑی کے کوئلے سے وہ عجیب و غریب تصویریں بنایا کرتا تھا اور اس کے ہاتھ ہروقت کوئلے اور مٹی سے کھیلنے کی وجہ سے گندے رہتے تھے۔ جب اسکول میں داخلہ ہوا تو اس کے استاد نے سب بچوں کو کہا کہ تم سب نے بڑے ہوکر ’فوجی‘ بننا ہے۔ کسی بھی بچے کو فوجی کے بارے کچھ معلوم نہیں تھا بس یہی جو استاد نے بتایا تھا کہ فوجی بہت بہادر ہوتے ہیں اور اس سے سب ڈرتے ہیں۔

’میں‘ پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا فوجی تصویریں بناتے ہیں؟ لیکن استاد کے ہاتھ میں بید کی چھڑی دیکھ کر ’میں‘ زندگی بھر یہ سوال نہ پوچھ سکا اور چُپ چاپ فوجی بننے لگا۔

میٹرک کے بعد ’میں‘ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے ٹیسٹ دینے گیا تو معلوم ہوا کہ اس کا قد اتنا بلند نہیں جتنا کہ ایک فوجی کا ہونا چاہیے سو اسے ریجیکٹ کردیا گیا۔ ’میں‘ بڑا دلبرداشتہ ہوا کہ اسے تو اس کے استاد نے بچپن ہی سے فوجی بننے کا خواب دکھایا تھا۔ پھر یہ سوچ کر ’میں‘ کو چین آگیا کہ اب وہ اطمینان سے تصویریں بنایا کرے گا لیکن اسی دوران اس کے بارے ایک اور فیصلہ ہوچکا تھا کہ اسے ڈاکٹر بننا چاہیے سو وہ ڈاکٹر بننے کے لیے کالج میں داخل ہوگیا۔ بائیولوجی کی لیبارٹری میں اسے ہمیشہ الٹی آنے لگتی اور اسے سمجھ نہ آتی کہ وہ یہ تجربات کیسے کرے سو ’میں‘ فیل ہوگیا۔

’میں‘ بہت پریشان ہوا لیکن یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا کہ اب چین سے تصویریں بنائے گا۔ اب کی بار ’میں‘ کو سادہ ایف اے کرادیا گیا جو اس نے پاس کرلیا۔ اس کے بعد اس نے کئی چھوٹے بڑے کورسز کیے، ٹی وی ریپئرنگ، الیکٹریشن، پولٹری فارمنگ اور سروے جیسے کئی کورسز کرنے کے بعد ’میں‘ کو ایک سرکاری ادارے میں کلرک کی نوکری مل گئی، پچھلے 5 سال سے ’میں‘ کلرک تھا۔

پڑھیے: افسانہ ’نکاح‘

’میں‘ نے اس دوران کئی پینٹنگز بھی بنائیں جن کی کہیں نمائش نہیں ہوسکی۔ اس کے دوست اس کی بنائی ہوئی پینٹنگز دیکھ کر ہنستے تھے اور کہتے کہ ایسی تصویریں کوئی مفت میں بھی نہ لے لیکن وہ اس سے اپنے اسکیچ مفت بنواتے اور ان اسکیچز کی خوب تعریف کرتے۔

اسی دوران سارے دوستوں اور قریبی رشتے داروں کو فون کرکے ’میں‘ کی گمشدگی کی اطلاع دی اور ان سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے ’میں‘ کو دیکھا ہے؟ سب کا خیال تھا کہ انہوں نے اس کو کئی سال پہلے دیکھا تھا۔ ایک اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ مختلف لوگوں نے ’میں‘ کو مختلف وقتوں میں مختلف انداز میں دیکھا تھا سو یہ اندازہ لگانا تقریباً ناممکن تھا کہ ’میں‘ دراصل کب اور کہاں گُم ہوا ہے۔

اخبار کے دفتر پہنچ کر ’میں‘ کی گمشدگی کا اشتہار دیا کہ ’میں‘ جو گزشتہ کئی سالوں سے آہستہ آہستہ گُم ہورہا تھا آج مکمل طور پر گُم ہوگیا ہے، جس کسی کو نظر آئے وہ ’میں‘ کو گھر تک پہنچا دے۔ اطلاع دینے والے کو ’میں‘ کی بنائی گئی ایک پینٹنگ مفت دی جائے گی۔

اخبار کے دفتر بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ سارا گھر دیکھ لیا ہے لیکن گھر کا تہہ خانہ نہیں دیکھا۔ تہہ خانے کو ’میں‘ نے پینٹنگ روم بنا رکھا تھا لیکن کلرک بننے کے بعد ’کلرک‘ اور ’میں‘ کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ اب تو مدت سے تہہ خانہ بند تھا اور وہاں موجود تصویروں پر مٹی نے نئے نقش بنادیے تھے، وہ تصویریں جو اپنی پہلی نمائش کی منتظر تھیں۔

تہہ خانے کا دروازہ کُھلا تھا اندر جاکر معلوم ہوا کہ ساری پینٹنگز جلادی گئی تھیں اور ’میں‘ رنگوں میں ڈوبا، بے حس و حرکت پڑا تھا اور اس کی آنکھیں مجھے گُھور رہی تھیں۔