پاکستان میں اساتذہ اور تعلیم کیوں پیچھے ہے؟ آئیے بتاتے ہیں

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2018

ای میل

اساتذہ کسی بھی تعلیمی بندوبست کی بنیادی اکائی ہوتے ہیں۔ اسکول اور طالب علم یعنی ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم جوڑ یا لنک ہے۔ اگر یہ لنک ہی خراب و فرسودہ ہوچکا ہو تو آپ لاکھ دعوے کرلیں، یہ تعلیمی بندوبست یوں ہی گلا سڑا رہے گا۔

اپنے منشور میں موجودہ حکمراں جماعت نے بھی اساتذہ اور تعلیمی نظام کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کر رکھے ہیں۔ قابل لوگوں کو اساتذہ بننے کی طرف راغب کرنے، موجودہ اساتذہ کی قابلیت کو بڑھانے اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام بنانے سے متعلق ان دعوؤں میں وہی تکرار و گھاٹے ہیں جن کا سامنا ہم 70 سال سے تعلیمی پالیسیوں میں کرتے آرہے ہیں۔

جب تعلیم کا رشتہ علم و ہنر سے ٹوٹ جاتا ہے تو پھر اس کا مقصد پیسہ کمانا، شہرت حاصل کرنا اور کسی نہ کسی طرح اعلیٰ عہدوں پر پہنچنا ہی رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس دوڑ میں اساتذہ کیوں پیچھے رہیں؟

کبھی اساتذہ بہت اچھے ہوتے تھے مگر اب اساتذہ طلبہ میں زیادہ دلچسپیاں کیوں نہیں لیتے؟ ایک زمانے میں اساتذہ کمزور طالب علموں کی مدد اور لائق طالب علموں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے مگر اب اپنی کلاسوں میں ٹیوشن سینٹرز کے پمفلٹ دیتے ہیں۔ مگر کچھ صاحبانِ علم و فضل یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ جس معاشرے میں بحیثیتِ مجموعی پہلی قدر پیسہ ہو، وہاں اخلاقیات و انسانیت کے درس زبانی جمع خرچ ہی بن جاتے ہیں۔

پڑھیے: یکساں نظامِ تعلیم کا معاملہ

اساتذہ، صحافیوں اور ڈاکٹروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پیسے کی دوڑ میں اس لیے شامل نہ ہوں کیوں کہ ان کے پیشے عظیم ہیں، محض دیوانے کا خواب ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور جاپان میں پیسہ پہلی قدر نہیں، وہاں کے استاد ہمارے جیسے ممالک سے کیوں زیادہ بہتر ہیں؟ وہاں تعلیمی معیار کیوں بہتر ہے؟ پیسے کے پہلی قدر بننے سے انکار نہیں مگر جس تعلیمی انحطاط کا ہمیں سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ کچھ اور ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا مسئلہ علم و ہنر سے تعلیم کے تعلق کا تو نہیں؟

جب تعلیم کا رشتہ علم و ہنر سے ٹوٹ جاتا ہے تو پھر اس کا مقصد پیسہ کمانا، شہرت حاصل کرنا اور کسی نہ کسی طرح اعلیٰ عہدوں پر پہنچنا ہی رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس دوڑ میں اساتذہ کیوں پیچھے رہیں؟

ہمارے ہاں گزشتہ 50 برس سے ایک ایسا تعلیمی بندوبست چل رہا ہے جس کا تحقیق سے رشتہ انتہائی کمزور ہے۔ جہاں تحقیق کا کلچر نہیں ہوگا وہاں تعلیم کا علم و ہنر سے رشتہ بھی ضعیف و لاغر ہی رہے گا۔ تحقیق کے کلچر کے لیے لازم ہے کہ سوال اٹھانے اور اس پر گہری سوچ و بچار کی آزادی ہو۔ اسے عرفِ عام میں اکیڈمک فریڈم کہتے ہیں مگر اس پرندے کو ہمارے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں اڑنے کی فضا ہی میسر نہیں۔

سوال اٹھانے کے کلچر سے بیزاری کی کچھ وجوہات تو مذہبی و سیاسی ہیں جبکہ زیادہ تر وجوہات انتظامی و داخلی ہیں۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کے بارے میں ہم بات نہیں کرنا چاہتے اور اس کا ثبوت ہماری سیاسی جماعتوں کے منشور ہیں جن میں اس سے متعلق ایک جملہ بھی نہیں۔

جب تعلیم کا علم و تحقیق سے رشتہ ٹوٹ جاتا تو اس کا حال ایسے بیمار جسم جیسا ہوجاتا ہے جس پر مختلف جراثیم حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ تحقیق اور علم سے تعلیم کا رشتہ ٹوٹنے کے بعد کسی نہ کسی طرح امتحانوں میں نمبر لینا، 8 یا 10 اے گریڈ لینا وغیرہ ہی لائق کہلانے کا واحد معیار رہ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ صورتحال جس کا آج ہمیں سامنا ہے مگر ہماری ساری توجہ جڑ کے بجائے کہیں اور ہی ہے۔

کیوں کہ آج اساتذہ کا عالمی دن ہے اس لیے اس حوالے سے چند مزید حقائق کی طرف بھی توجہ کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے لیے آپ کی نظر تعلیمی ڈیٹا یعنی اعداد و شمار پر ہونی چاہیے۔

پڑھیے: ووٹ دیا اب تعلیم دو

ہر کوئی کمر پر ہاتھ رکھ کر یہی تکرار کرتا ہے کہ پرانے زمانے میں اساتذہ بڑے قابل اور اچھے ہوتے تھے۔ مگر جب ان سے یہ سوال کرو کہ پرانے زمانے میں اسکول کتنے ہوتے تھے اور ان اسکولوں میں بچے کتنے ہوتے تھے؟ طالب علموں اور اساتذہ میں فی اسکول کیا تناسب ہوتا تھا؟ ایک جماعت میں زیادہ سے زیادہ کتنے بچے ہوتے تھے؟ تو وہ گھبرا جاتا ہے۔

1944ء میں جب ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 'پوسٹ وار ایجوکیشنل رپورٹ' چھاپی تو اس میں یہ اعتراف کیا گیا کہ اس وقت برٹش انڈیا کے علاقوں میں ناخواندگی کا تناسب 85 فیصد تھا۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 30 لاکھ 70 ہزار تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد جس تیزی سے آبادی بڑھی اس کے مہلک اثرات تو ہر شعبے پر پڑے۔ اب اگر ایک جماعت میں 30 کے بجائے 120 بچے بیٹھیں گے تو استاد کیا کرے گا؟

علامہ اقبال نے 1904ء میں ایک کتاب علم الاقتصاد لکھی تھی جس میں آبادی کے بم کو سب سے زیادہ مہلک قرار دیا تھا مگر اقبال کو پیر و مرشد ماننے والوں نے اقبال کی یہ بات نہیں مانی۔ 1966ء میں حمود الرحمٰن تعلیمی کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تو یہ اقرار کیا گیا کہ مشرقی پاکستان میں صرف 30 فیصد جبکہ مغربی پاکستان میں 50 فیصد اساتذہ ایسے تھے جو سرکار کے طے کردہ معیار پر پورا اترتے تھے۔

ایسے میں جب 1969ء کی تعلیمی پالیسی کے تحت اسلامیات کو دسویں تک لازمی مضمون کا درجہ دیا گیا تو بغیر کسی معیار کے اساتذہ کی کھیپ بھرتی کی گئی۔ 1972ء میں پاکستان ٹوٹنے کے غم سے عوام کو نکالنے کے لیے تعلیم کو قومیانے کی پالیسی آئی تو ڈھائی لاکھ اساتذہ کو بھرتی کیا گیا جس میں معیار کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ یوں سرکاری سطح پر غیر تربیت یافتہ اساتذہ کا تناسب کہیں بڑھ گیا۔

علامہ اقبال نے 1904ء میں ایک کتاب علم الاقتصاد لکھی تھی جس میں آبادی کے بم کو سب سے زیادہ مہلک قرار دیا تھا مگر اقبال کو پیر و مرشد ماننے والوں نے اقبال کی یہ بات نہیں مانی۔

پڑھیے: پاکستان کی 'پروفیسر مافیا' کس طرح تعلیم کو تباہ کر رہی ہے

دوسری طرف ضیا شاہی میں جب پرائیوٹ اسکولوں کو کاروبار کرنے کی اجازتیں دی گئیں تو اساتذہ کی بھرتی کا کوئی معیار مختص نہیں کیا گیا۔ یہ ہے وہ صورتحال جس کا آج ہم سب کو سامنا ہے۔

چنانچہ ایک تصوراتی طور پر سنہرے ماضی کے ڈھول بجانے کے بجائے ہمیں تعلیمی نظام کی موجودہ حالت کو ماضی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ آج کے دور میں تعلیم کو تحقیق و ہنر سے جوڑنے اور اساتذہ کی بھرتی کے کم از کم معیارات بنائے بغیر اساتذہ کو وہ مقام نہیں مل سکتا جو انہیں مغربی معاشروں میں حاصل ہے۔