برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ روبوٹ بطور گواہ پیش ہوگا

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2018

ای میل

پیپر نامی روبوٹ جاپان کا تیارکردہ ہے—فوٹو: اے اپف پی
پیپر نامی روبوٹ جاپان کا تیارکردہ ہے—فوٹو: اے اپف پی
برطانیہ کے متعدد آفس میں روبوٹ میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
برطانیہ کے متعدد آفس میں روبوٹ میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
روبوٹ میں 4 مائیکوفون، 2 کیمرے اور اسکرین نصب ہے —فوٹو: اے ایف پی
روبوٹ میں 4 مائیکوفون، 2 کیمرے اور اسکرین نصب ہے —فوٹو: اے ایف پی

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں روبوٹ بطور گواہ پیش ہوگا۔

ایوانِ زریں کی ایجوکیشن کمیٹی نے میڈل سیکس یونیورسٹی سے پیپر دی روبوٹ کو الگے ہفتے پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی خاتون روبوٹ سے ملیے

کمیٹی کے ارکان روبوٹ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، فورتھ انڈسٹریل انقلاب اور روبوٹکس کے بارے میں سوالات کریں گے۔

کمیٹی کے صدر روبرٹ ہیلفون نے بتایا کہ فورتھ انڈسٹریل انقلاب ہماری نسلوں کے لیے آئندہ 30 برس میں ناقابل تسخیر چینلج ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ روبوٹ کی یاداشت میں پہلے ہی سے سوالات کے جواب ڈالے جائیں گے یا پھر روبوٹ اپنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیاد پر سوالات کے جواب دے گا۔

مزیدپڑھیں: گھریلو روبوٹس کا جمعہ بازار

برطانوی حکومت نے روبوٹ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری کے لیے خواہشات کا اظہار کردیا۔

دوسری جانب سول سروس کے چیف ایگزیکٹو جان منزونی نے کہا کہ 21 وی صدی میں روبوٹ تمام مسائل کا حل ہوں گے جو ’بہتر شہری سہولیات‘ فراہم کرسکیں گے۔

پیپر نامی روبوٹ کو جاپانی کمپنی سافٹ بینک نے تیار کیا ہے جسے 2014 سے متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا پہلا ڈینٹسٹ روبوٹ

روبوٹ میں 4 مائیکروفون، 2 ایچ ڈی کیمرہ اور سینے پر ٹچ اسکرین ہے۔

پیپر روبوٹ برطانیہ کے متعدد آفس میں میزبان کے طور پر رکھے گئے ہیں اور اسکولوں میں تعلیمی مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔