احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اختیارات سے تجاوز اور خلافِ ضابطہ تقرری کے ریفرنس کی سماعت میں مسلسل عدم حاضری کی وجہ سے شوکت عزیز کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت کی جانب سے سماعت کے دوران ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہاربھی کیا گیا۔

مزید پڑھیں : نیب نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس دائر کردیا

احتساب عدالت نے نیب ریفرنس میں نامزد ملزمان لیاقت جتوئی، اسمعٰیل قریشی ، شاہد حامد اور نسیم اختر کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کرلیں ۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے مذکورہ ریفرنس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی ۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں برس 30 جولائی کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق وزیر برائے پانی و بجلی لیاقت جتوئی کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوزات کے الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب کی جانب سے یہ ریفرنس شوکت عزیز سمیت سابق وفاقی سیکریٹری اسمٰعیل قریشی، سابق ایڈیشنل سیکریٹری یوسف میمن، سابق جوائنٹ سیکریٹری غلام نبی منگریو، محکمہ پانی و توانائی کے سینیئر افسرعمر فاروق، آلٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ(اے ای ڈی بی) کے سابق چیئرمین ایئر مارشل(ر) شاہد حامد، اے ای ڈی بی کے سابق سیکریٹری بریگیڈیئر نسیم اے خان، اور سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بشارت حسن بشیر کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : نیب کا شوکت عزیز سمیت اہم شخصیات کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

سابق وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس اے ای ڈی بی کے کنسلٹنٹ کے طور پر بشارت حسن بشیر کی ایم پی -2 اسکیل پر غیر قانونی تعیناتی پر دائر کیا گیا جس سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا تھا۔

علاوہ ازیں ریفرنس میں نامزد ملزمان نے ملی بھگت کر کے ڈاکٹر بشارت حسن بشیر کو غیر قانونی طور پر ایم پی اسکیل-2 کو بطور کنسلٹنٹ تعینات کیا تھا۔

رواں برس مئی میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور سابق وزراء سمیت متعدد افراد کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی۔