ساجد خان پر بھی تین خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2018

ای میل

ساجد خان کا شمار بولی وڈ کے نامور پروڈیوسرز اور ہدایر کاروں میں کیا جاتا ہے —فوٹو/ فائل
ساجد خان کا شمار بولی وڈ کے نامور پروڈیوسرز اور ہدایر کاروں میں کیا جاتا ہے —فوٹو/ فائل

بولی وڈ کئی مقبول شخصیات کے بعد اب ہدایت کار ساجد خان پر بھی خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگ چکا ہے۔

نامور کوریوگرافر فرح خان کے بھائی ہدایت کار ساجد خان پر اداکارہ سلونی چوپڑا، صحافی کرشمہ اوپاڈہے اور اداکارہ ریچل وائٹ نے انہیں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ سلونی چوپڑا نے صرف ساجد خان پر ہی نہیں بلکہ ہدایت کار وکاس بہل اور اداکار زین درانی پر بھی الزام عائد کیے۔

اپنے ایک بیان میں اداکارہ نے لکھا کہ ’میں 2011 میں بھارت منتقل ہوئی، فلم سازی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے میں ایک ہدایت کار کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھی، جس کے بعد میں نے ساجد خان کو انٹرویو دیا، انہوں نے انٹرویو کے دوران مجھے بہت سے غیر مناسب سوالات پوچھے اور جس کے بعد میں بہت روئی لیکن مجھے یہ نوکری مل گئی، نوکری ملنے کے بعد وہ مجھے رات کے کسی بھی وقت فون کرتے تھے اور یہی سمجھاتے تھے کہ میں جب فون کروں مجھے اس کا جواب دینا ہوگا‘۔

سلونی نے مزید کہا کہ ’بعدازاں انہوں نے مجھ سے ایسے سوالات پوچھنا شروع کردیے کہ میں نے کیا پہنا ہے، کیا کھایا تھا، وہ چاہتے تھے میں انہیں اپنے لباس کے بغیر تصاویر بھی بھیجوں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ میں اداکارہ بن کر کیسی لگوں گی‘۔

اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ ساجد خان نے ان سے نہایت غیر مناسب مطالبات کیے، جنہیں پورا نہ کرنے پر انہیں کام سے نکالنے کی دھمکی بھی دی گئی، تاہم کئی عرصے تک ساجد خان کے ہاتھوں ہراساں ہونے کے بعد آخر کار انہوں نے خود نوکری چھوڑ دی۔

ساجد خان کئی فلموں کی ہدایات اور پروڈکشن کرچکے ہیں —فوٹو/ اسکرین شاٹ
ساجد خان کئی فلموں کی ہدایات اور پروڈکشن کرچکے ہیں —فوٹو/ اسکرین شاٹ

سلونی کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے کئی لوگوں سے بات کی تاہم سب نے ہی انہیں یہ کہہ کر خاموش کرادیا کہ ساجد خان ایسے ہی ہیں اور وہ صرف میرے نہیں بلکہ کئی لڑکیوں کے ساتھ ایسا کرچکے ہیں۔

سلونی چوپڑا کے بعد اداکارہ ریچل وائٹ نے بھی ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے بتایا کہ ساجد خان نے انہیں بھی ایک فلم کی کاسٹنگ کے دوران جسنی ہراساں کیا تھا۔

ریچل کے مطابق ’ساجد خان نے فلم ہم شکل میں کاسٹ کرنے کے لیے اوڈیشن کے حوالے سے مجھے اپنے گھر بلایا، جس کے بعد انہوں نے مجھ سے کپڑے اتارنے کو کہا، میرے انکار پر ساجد خان نے کہا کہ اگر میں انہیں 5 منٹ بھی جنسی عمل کے لئے منا سکوں تو مجھے یہ کردار فوری مل جائے گا، تاہم میں اس کے لیے تیار نہیں تھی جس کے بعد میں وہاں سے فوری چلی گئی‘۔

صحافی کرشمہ نے اپنی می ٹو کہانی بھی ٹوئٹر پر صارفین کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں سال 2000 میں ساجد خان کا انٹرویو کرنے ان کے گھر گئی تھی، انٹرویو کے دوران وہ مجھ سے غیر مناسب گفتگو کرتے رہے، جبکہ انہیں نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں ایک خاتون کو کس طرح مطمئن کیا جاسکتا ہے، بعدازاں انہوں نے مجھے جنسی ہراساں کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد میں وہاں نے بھاگ نکلی، تاہم دفتر آتے وقت پورے راستے روتی رہی، اس کے باوجود میں نے ان کا انٹرویو شائع کیا کیوں کہ یہ میرا کام تھا‘۔

ان خواتین کے ساجد خان پر لگائے الزامات کے بعد ٹوئٹر پر صارفین ہدایت کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کسی نے کہا کہ ساجد خان کو شرم آنی چاہیے۔

جبکہ کسی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انہیں فلم ’ہاؤس فل 4‘ سے باہر کردینا چاہیے، جبکہ ان کے رشتہ دار اداکار فرحان اختر کو بھی ان کے خلاف بیان دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ ساجد خان بولی وڈ کے نامور اداکاروں کے ساتھ کام کرچکے ہیں، ان میں اکشے کمار، دپیکا پڈوکون، سیف علی خان، ودیا بالن وغیرہ شامل ہیں۔