اسموگ کا جن قابو کرنے کے لیے نئی حکومت کا بھی پرانا طریقہ؟

26 اکتوبر 2018

ای میل

ہماری حکومتیں اور بیوروکریسی سائنس سے نابلد ہیں اور ان کے پاس کسی بھی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل بس پابندی ہے.
ہماری حکومتیں اور بیوروکریسی سائنس سے نابلد ہیں اور ان کے پاس کسی بھی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل بس پابندی ہے.

جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح موسم سرما میں اسموگ پاکستان کے کئی علاقوں، بالخصوص جنوبی و وسطی پنجاب میں شدید مسائل کا سبب بنتا رہا ہے۔ اسموگ کی گہری تہہ کے باعث نہ صرف معمولاتِ زندگی متاثر ہوتے ہیں بلکہ سانس اور بینائی کے امراض میں بھی شدت آجاتی ہے۔

گزشتہ 2 برسوں سے اکتوبر سے دسمبر تک گہرے اسموگ کی وجہ سے بے پناہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود پنجاب اور مرکزی حکومتوں نے 2018ء میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی حالانکہ گزشتہ ماہ ستمبر میں نیپال سے تعلق رکھنے والے چند بین الاقوامی ماہرینِ ماحولیات نے جنوبی پنجاب کے اُن علاقوں کا دورہ کیا تھا جہاں روایتی طریقے سے چلنے والے اینٹوں کے بھٹوں کی تعداد تقریباً 2 ہزار سے زائد ہے۔

یہ بھٹے فضا میں انتہائی زہریلا دھواں خارج کرکے بے پناہ آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ نیپالی ماہرین کے مطابق کوئلے سے چلنے والے ان بھٹوں میں 1 ہزار کے قریب اینٹوں کو پکانے سے تقریباً 2 کلوگرام زہریلا دھواں فضا میں خارج ہوتا ہے جو موسمِ سرما میں دھند کے ساتھ مل کر گہری اسموگ کا سبب بنتا ہے۔

کوئلے سے چلنے والے اینٹوں کے یہ بھٹے کچھ عرصے پہلے تک جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی شدید آلودگی کا سبب بن رہے تھے۔ لیکن اس کے سدِباب ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی جسے 'زگ زیگ ٹیکنالوجی' کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے بھٹوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں 40 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

گزشتہ ماہ ستمبر میں ہی پنجاب کے محکمہءِ صحت کی جانب سے ایک متنازع اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ موسمِ سرما شروع ہوتے ہی پنجاب بھر میں شدید اسموگ کے خدشے کے باعث صوبے میں روایتی طریقے سے چلنے والے تمام بھٹوں کو 20 اکتوبر سے 31 دسمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اس دوران جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں جانوروں کے چارے کو جلانے پر بھی پابندی ہوگی۔

محکمہءِ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ظفر اقبال کے مطابق روایتی طریقے سے چلائے جانے والے ان بھٹوں میں سے کچھ میں زگ زیگ ٹیکنالوجی متعارف کروا دی گئی ہے جبکہ باقی بھٹہ مالکان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ پرانے طریقے کو جلد از جلد ترک کرتے ہوئے اپنے بھٹوں کو نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں، اور جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک ان کے بھٹے عارضی طور پر بند رہیں گے۔

پنجاب بھر کے دیہی علاقوں میں قائم ان بھٹوں میں مزدوروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور کم عمر بچوں سے محنت مزدوری کروانے کے واقعات آئے روز قومی میڈیا کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ مگر غریب دیہاتیوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے بھی جاری کردہ اعلامیے میں ڈھائی ماہ بھٹے بند رہنے کی صورت میں ان کے لیے نہ تو کسی ماہانہ الاؤنس کا اعلان کیا گیا اور نہ ہی کسی دوسرے ذریعۂ روزگار کا انتظام کیا گیا ہے۔

شدید سردی میں جب کوئلے سمیت دیگر روایتی ایندھن کی قیمتیں آسمان پر پہنچی ہوئی ہوتی ہیں، ان غریب مزدوروں کا گزارا آخر کیسے ہوگا؟ لیکن شاید یہ محکمہءِ ماحولیات کا دردِ سر نہیں ہے کیونکہ ان کا کام صرف ماحول کی حفاظت سے متعلق اقدامات کرنا ہے۔

موجودہ صورتحال میں ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا اسموگ پر قابو پانے کے لیے بھٹوں پر پابندی کے علاوہ کیا کوئی اور راستہ موجود نہیں تھا؟ اگرچہ پچھلے برس اکتوبر سے جنوری تک شدید اسموگ کے بے پناہ مسائل کا سامنا رہا مگر صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے بروقت مناسب تحقیق کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے آخری وقت میں ایک عارضی حل پیش کیا گیا جو اسی صورت میں قابلِ قبول ہوسکتا ہے جب ان بھٹوں پر مزدوری کرنے والے غریب دیہاتیوں کے لیے ہفتہ وار یا ماہانہ الاؤنس یا پھر کسی متبادل روزگار کا بروقت انتظام کیا جائے۔ ساتھ ہی آئندہ کے لیے سائنسی بنیادوں پر ایک مکمل حکمتِ عملی بنانے کا عمل ابھی سے شروع کیا جائے تاکہ اگلے برس ہم اسموگ کے ظالم اندھیرے سے احسن طریقے سے مقابلہ کرسکیں۔

اسموگ سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اسموگ ہوتا کیا ہے؟ اسموگ دراصل فضائی آلودگی کی ایک نئی قسم ہے جو زیادہ تر شہری اور صنعتی علاقوں میں کوئلے اور دوسرے کیمیکلز کی زیادہ مقدار جلانے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔

جنوبی ایشیا خصوصی دہلی اور پاکستان میں جنوبی پنجاب کے علاقوں میں گزشتہ کئی برس سے موسمِ سرما میں جو اسموگ مسائل کا سبب بن رہا ہے اسے سائنسی اصطلاح میں 'فوٹو کیمیکل اسموگ' کہا جاتا ہے جو سورج کی روشنی میں نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور اُڑ جانے والے نامیاتی مرکبات کے فضا میں کیمیائی عمل کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

یہ نامیاتی مرکبات گیسولین، مختلف طرح کے پینٹس اور دیگر ایسے اجزا سے پیدا ہوتے ہیں جو بڑے پیمانے پر صفائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ سب آپس میں مل کر زمین کی اوپری سطح پر اوزون کے ذرات بناتے ہیں جسے مجموعی طور پر اسموگ کا نام دیا جاتا ہے۔

اگرچہ اوزون کے بارے میں عام افراد یہی علم رکھتے ہیں کہ زمین کے ماحول میں مناسب بلندی پر اس کی موٹی تہہ کرۂ ارض پر انسانی بقا کے لیے لازمی ہے کیونکہ یہ سورج کی مضرِ صحت یا الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنے کا سبب بنتی ہے۔

مگر درحقیقت اگر اوزون زمین کی اوپری سطح پر پیدا ہو تو یہ فضا میں اسموگ کی ایک خاکستری یا بھورے رنگ کی موٹی سی تہہ بنا دیتی ہے جو ناصرف انسانوں بلکہ جانوروں اور نباتات کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس سے پھیپڑوں اور سانس کے امراض کے علاوہ آنکھوں میں سخت جلن ہوتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ دور تک واضح طور پر دیکھنا ممکن نہیں رہتا۔

عموماً اسموگ ان گنجان آباد صنعتی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے جہاں آلودگی کی شرح خطرناک حد کو پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے پہاڑی علاقے جہاں ٹریفک کا دھواں تیزی سے ہوا میں بکھر جانے کے بجائے پہاڑوں سے ٹکرا کر معلق رہتا ہے وہاں بھی موسم سرما میں گہرے اسموگ کی چادر تنی رہتی ہے جو ان علاقوں میں کثرت سے ٹریفک حادثات کا سبب بنتی ہے۔

دنیا اسموگ سے کیسے نمٹ رہی ہے؟

مگر ہر ملک نے باقاعدہ تحقیق کے بعد سائنسی طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے اس خطرے سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ آلودگی پر قابو پانا اس وقت ہر ملک کی مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے مگر اس کے لیے نا تو کارخانوں اور صنعتوں پر ایک دم سے تالے ڈالے جاسکتے ہیں اور نہ ہی سڑکوں پر رواں دواں ٹریفک کے اژدہام پر پابندی لگائی جاسکتی ہے کیونکہ کارخانوں سے کروڑوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ٹریفک کے بغیر موجودہ دور میں سفر کسی صورت بھی ممکن نہیں رہا۔

دنیا بھر میں اسموگ اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے صنعتوں اور کارخانوں سے نکلنے والے دھویں کو فلٹر کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کی جارہی ہیں تاکہ دھویں کے ساتھ فضا میں شامل ہونے والی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ کو روکا جاسکے۔

مگر فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم ہونے سے گلوبل وارمنگ کچھ اور زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ گیس سورج کی حرارت کو روکا کرتی تھی۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹ کر فضا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مناسب مقدار خارج کیا کرتے تھے جو زمین کو ٹھنڈا رکھنے کا باعث بنتی تھی۔ لہٰذا توازن لانے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر گرین ہاؤس گیسیں سورج کی حرارت کو جذب کریں ورنہ اگلا موسمِ گرما مزید گلوبل وارمنگ کی بدولت تباہ کن ہوسکتا ہے۔

ناگزیر اقدامات

محکمہءِ ماحولیات کے اقدامات کے باوجود امکانات بہت زیادہ ہیں کہ اس برس بھی پنجاب کو اسموگ کے باعث شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا موجود صورتحال میں مندرجہ ذیل امکانات ناگزیر ہیں۔

  • چونکہ اسموگ کی گہری تہہ واضح نظر آتی ہے اس لیے اس کی روزانہ مانیٹرنگ کے لیے باقاعدہ اسموگ ڈیٹیکٹر استعمال کیے جائیں اور مقامی محکمہءِ موسمیات صبح اور رات کے اوقات میں ہر گھنٹے بعد اس کی مقدار سے عوام کو بذریعہ میڈیا آگاہ کریں۔ اس میں فضائی آلودگی کا سبب بننے والے اجزا اور اوزون کی مقدار کا چارٹ بھی شامل ہونا چاہیے تاکہ اسموگ کی مقدار بڑھانے کے اصل عوامل کا جائزہ لیا جاسکے اور آئندہ برس کے لیے ابھی سے ایک حکمتِ عملی بنائی جائے جس میں ارلی وارننگ اور مانیٹرنگ سسٹم کو اولیت حاصل ہو۔

  • عوام کو پابند کیا جائے کہ وہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والی ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ بلا ضرورت سفر سے پرہیز کریں اور پیدل سفر کی عادت ڈالنے کے علاوہ اپنے ذرائع آمد و رفت جیسے کار، موٹر بائیک وغیرہ کی حالت درست رکھیں تاکہ فضا میں کم سے کم زہریلا دھواں خارج ہو۔

  • روز مرہ اور گھریلو استعمال کی ان اشیا پر عارضی یا مکمل پابندی عائد کی جائے جو فضا میں اڑ جانے والے نامیاتی مرکبات کے اخراج کا سبب بن رہے ہیں جن میں گھروں کی آرائش اور حفاظت کے لیے استعمال کیے جانے والے پلاسٹک یا کیمیکل والے رنگ قابلِ ذکر ہیں۔ اس مقصد کے لیے گھروں کی تعمیر میں اسٹائلش بلاکس یا ٹائلوں کے استعمال کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

  • کوئلے کے علاوہ توانائی کے دیگر ذرائع تلاش کرنے پر زور دیا جائے۔ لکڑی یا کوئلے کا بڑے پیمانے پر گھروں، کارخانوں اور صنعتوں میں ایندھن کے طور پر استعمال آلودگی کو خطرناک حد تک پہنچانے کا سبب بنا ہے جس پر قابو پانے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کا حصول ناگزیر ہے۔

  • گنجان آباد علاقوں میں کچرے اور جانوروں کے چارے کو جلانے پر مکمل پابندی لگائی جائے یا پھر آبادی سے دور کوئی علاقہ اور مخصوص دن مقرر کیا جائے۔ ساتھ ہی کوشش کی جائے کہ گھریلو کچرے کو جلانے کے بجائے ری سائیکل ٹیکنالوجی استعمال کرکے کارآمد بنایا جائے۔

  • اس امر میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ ہماری حکومتیں اور بیوروکریسی سائنسی معلومات سے مکمل طور پر نابلد ہیں اور ان کے پاس کسی بھی پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل پابندی یا غیر ملکی ٹیکنالوجی کی درآمد ہے جو مناسب معلومات حاصل کیے بغیر اور مقامی حالات کو مدِنظر رکھے بغیر خطیر سرمایہ خرچ کرکے حاصل کی جاتی رہی ہے اور اس کے کچھ مضر اثرات سامنے آنے یا اس کے ناکام ہونے کی صورت میں حکومت کے پاس مزید بین الاقوامی مدد کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ عہدیداران کو سائنسی پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے سائنسی یا ماحولیاتی مشیران رکھے جائیں اور ملک بھر میں سائنسی تحقیق کو فروغ دیا جائے تاکہ مستقبل میں پنجاب کے محکمہءِ ماحولیات کی طرح کا کوئی بوگس اعلان سامنے آنے کے بجائے ایک مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ حل پیش کیا جائے جس سے عوام کی زندگی دوبھر نہ ہو بلکہ انھیں بھر پور ریلیف ملے۔