اراکین کی معطلی: مسلم لیگ (ن) کا پنجاب اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2018

ای میل

حمزہ شہباز میڈیا سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
حمزہ شہباز میڈیا سے بات کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

لاہور: وفاق اور پنجاب کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے معطل اراکین کو صوبائی اسمبلی میں داخلے کی اجازت نہ ملنے تک اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں بدنظمی کے بعد اسپیکر پرویز الہٰی نے (ن) لیگ کے 6 اراکین کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

پابندی کے حامل ارکان میں محمد مرزا جاوید، طارق مسیح گِل، ملک محمد وحید، محمد اشرف رسول، محمد یاسین عامر اور زیب النسا اعوان شامل ہیں۔

پابندی کے حامل 6 ارکان کی تصاویر بھی اسمبلی سیکیورٹی اسٹاف کو جاری کی گئی ہیں اور سرکلر میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مذکورہ 6 ارکان آج ایوان میں آنے نہ پائیں۔

قواعد کے مطابق معطل اراکین ایوان کے اندر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے لیکن وہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے اندر داخل ہوسکتے ہیں، تاہم معطل اراکین کو ایوان کے مرکزی دروازے پر ہی روک لیا گیا۔

معطل اراکین کو روکے جانے پر لیگی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں احتجاج شروع کردیا اور 'ڈونکی راجہ کی سرکار نہیں چلے گی، نہیں چلے گی' اور 'غنڈا گردی کی سرکاری نہیں چلے گی، نہیں چلے گی' کے نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کرنا آمرانہ رویہ ہے‘

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

اپوزیشن اراکین نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر علامتی دھرنا بھی دیا۔

معطل کیے جانے والے 6 ارکین پنجاب اسمبلی کے باہر گیٹ پر منہ پر پٹی لگا کر بیٹھ گئے اور ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا اسمبلی کے اندر گلا گھونٹا جارہا ہے۔'

احتجاج کے دوران لیگی خاتون رکن راحت افضا بے ہوش ہوگئیں اور انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پرویز الہٰی تھانے دار کا کردار ادا کر رہے ہیں، حمزہ شہباز

اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے معطل اراکین کو بحال کیے جانے تک اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کی رات ہی تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ الیکشن جعلی ہے لیکن جمہوریت کی خاطر اسمبلی میں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے (ن) لیگ کے ووٹ چوری کیے اور اسپیکر بن گئے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ کی چوری چلنے نہیں دیں گے۔'

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ 'پرویز الہٰی تھانے دار کا کردار ادا کر رہے ہیں یہ اسپیکر نہیں ہیں، ان کا پہلا قائد نواز شریف تھا اور پھر پرویز مشرف بن گئے۔'

انہوں نے کہا کہ 'پنجاب اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کی جعلی تصویر جاری کی گئی، اسمبلی میں تو کرسیاں ہوتی نہیں ہیں یہاں تو بینچز ہوتے ہیں، جعلی اسپیکر نے جعلی اقدام کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ کرسی والی تصویر کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے۔'