بریسٹ کینسر سے لڑنا اگر آسان نہیں، تو ناممکن بھی نہیں!

22 اکتوبر 2018

ای میل

بریسٹ کینسر صرف عورت کی بیماری نہیں بلکہ اس کی وجہ سے میاں بیوی دونوں ہی ذاتی اور گھریلو پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔— تصویر: شٹراسٹاک
بریسٹ کینسر صرف عورت کی بیماری نہیں بلکہ اس کی وجہ سے میاں بیوی دونوں ہی ذاتی اور گھریلو پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔— تصویر: شٹراسٹاک

کینسر کی سب سے عام قسم چھاتی کا کینسر ہے اور خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات میں دوسری بڑی وجہ بھی ہے۔ اگرچہ حالیہ تحقیق اور تشخیص اور علاج معالجے میں جدید تبدیلیوں سے اموات میں کمی آئی ہے، لیکن ان علاج و معالجے تک رسائی حاصل کرنا اب بھی کئی خواتین کے لیے چیلنج سے کم نہیں، باالخصوص وہ خواتین جو کم آمدن والے ممالک اور دیہی اور دُور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔

اگر ایشیا کی بات کی جائے تو پاکستان میں سب سے زیادہ چھاتی کے کینسر کی شرح پائی جاتی ہے۔ ہر سال 90 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ 40 ہزار خواتین اس مہلک بیماری کے ہاتھوں جان کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر آٹھویں خاتون کو اس بیماری سے خطرہ لاحق ہے۔

اکتوبر کو چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور علامات کی آگاہی جہاں اس بیماری سے خود کو بچانے اور ابتدائی تشخیص کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے وہیں علاج معالجے اور تشخیص کی سہولیات تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پڑھیے: بریسٹ کینسر کی نشاندہی کرنے والی عام علامات

غربت، ناخواندگی اور جہالت جیسے عناصر بیماری کی تشخیص اور علاج معالجے میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ جغرافیائی اور سماجی و ثقافتی رکاوٹیں صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہیں۔ مثلاً، بڑے ہسپتالوں کا دُور ہونا، سماجی و معاشی حالات، ثقافتی ریت و رواج اور کینسر کی علامات کے بارے میں آگاہی نہ ہونا ایسے مسائل ہیں جن سے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ لہٰذا ان رکاوٹوں کو تسلیم اور ختم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بریسٹ کینسر پروگرام شروع کرکے زبردست نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

حال ہی اپنے تحقیقی کام کے دوران بریسٹ کینسر کی مریضوں اور ان کا سامنا کرنے والی خواتین کی کہانیاں میرے سامنے آئیں۔ ان خواتین کا تعلق دیہی سندھ سے ہے اور ان کی زندگیاں غربت اور پست سماجی و معاشی حالات سے دوچار ہیں۔ سماجی و ثقافتی رکاوٹوں نے تو ان کی مشکلات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ صفر یا محدود خواندگی اور میڈیا تک کم رسائی کی وجہ سے وہ چھاتی کے کینسر کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کردیتی ہیں۔ وہاں اپنے طور پر خود کا معائنہ کرنے کا تصور سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اور نہ ہی وہاں کی خواتین خود کو لاحق بیماری کی علامات کو پہچان پاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیمارے کو ہوئے مہینے گزر جاتے ہیں مگر وہ علاج معالجے لیے نہیں کہیں نہیں جاتیں۔

اپنے حالات کی وجہ سے ان کے لیے مناسب میڈیکل علاج کے لیے ہسپتال جانا نہایت مشکل تھا۔ چند خواتین کو صرف اس وقت ہی ڈاکٹر کو دکھایا گیا جب گھٹلی میں درد ناقابلِ برداشت ہوگیا تھا۔ دیہی اور دُور دراز کے علاقوں میں، ’میڈیکل‘ کی سب سے پہلی سہولت عطائی ڈاکٹر کی صورت میں دستیاب ہوتی ہے۔ یہ جعلی ڈاکٹرز جو اکثر مرد ہوتے ہیں، انہیں بیماری کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہوتا اور وہ ہر زخم کو عام زخم سمجھ کر ان کا علاج اینٹی بائیوٹک یا درد ختم کرنے والی دواؤں کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں علاج میں مزید تاخیر ہوجاتی ہے اور مریض میں کینسر کی علامات بد سے بدتر ہوجاتی ہیں۔ جب اس خاتون کی حالت بہتر نہیں ہوتی تب ہی اسے کسی دوسرے اچھے ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے۔

بریسٹ کینسر کا بچاؤ اس کی ابتدائی تشخیص سے ممکن ہے، لیکن یہ خواتین ان بڑے ہسپتالوں سے بہت دُور رہتی ہیں جہاں کینسر کی تشخیص، اس کا علاج اور آگاہی دستیاب ہوتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ ان خواتین کی تشخیصی سہولیات تک رسائی سماجی و ثقافتی ریت و رواج کی وجہ سے بھی متاثر ہوتی ہے۔

پڑھیے: پانچ منٹ میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ممکن

دیہی علاقوں میں خاتون کا ایک سے دوسری جگہ جانا اس وقت تک تقریباً ناممکن ہوتا ہے جب تک اس کے ساتھ کوئی مرد رشتہ دار نہ ہو۔ گھر کا مرد باالخصوص شوہر ہی اپنی بیوی کو ہسپتال لے جاتا ہے۔ خواتین کا ہسپتال جانا شوہر کی موجودگی یا اس کی مرضی کے ساتھ مشروط ہوتا ہے، اور وہ اپنی بیوی کو اسی صورت میں ہسپتال لے جاتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ عورت کو علاج کی ضرورت ہے، اور یہ کہ آیا وہ خرچہ برداشت کرسکتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا بریسٹ کینسر کے ایسے کئی کیسز منظر عام پر ہی نہیں آتے۔

میں بریسٹ کینسر سے مقابلہ کرنے والی مختلف خواتین سے ملی، جن میں اس بیماری سے مقابلہ کرنے والی اور کیموتھراپی کے اثرات کا سامنا کرنے والی خواتین بھی شامل تھیں۔ ان خواتین کو بریسٹ کینسر سے جڑی فرسودہ سوچ سے بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ باالخصوص کم ترقی یافتہ علاقوں میں بریسٹ کینسر کو ایک ایسی لعنت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ایک خاتون کو اس کی نسوانی خوبصورتی سے محروم کردیتی ہے اور اس کی جان لے لیتی ہے۔ رشتہ دار اور برادری کے افراد اسی لیے مریض کی مدد و حمایت کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کرتے، بلکہ وہ ان کی تکلیف میں مزید اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں خاتون کا شوہر کے بغیر ہسپتال جانا ناممکن ہے۔ اور شوہر اپنی بیوی کو اسی صورت میں ہسپتال لے جاتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ عورت کو علاج کی ضرورت ہے، اور یہ کہ آیا وہ خرچہ برداشت کرسکتا ہے یا نہیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے، جیسے تشخیص میں پیش آنے والے مسائل، خاندان کے افراد کی مریض کی مدد و حمایت کرنے کا طریقہ کار اور خواتین کی بیماریوں کے حوالے سے برادریوں کی سوچ میں تبدیلی، خاص طور پر ان بیماریوں کے حوالے سے جن میں خواتین کے جسم کے مخصوص حصے متاثر ہوتے ہیں۔

آگاہی پھیلانا لازمی ہے، لیکن خاندانوں کو اس بارے میں بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے گھر کے فرد کی بیماری میں کس طرح مدد کی جائے۔ بریسٹ کینسر صرف ایک خاتون کی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ جیون ساتھی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ کیونکہ اس بیماری کی وجہ سے بیوی اور شوہر دونوں ہی ذاتی اور گھریلو پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ یہ بیماری مالی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔

کینسر کے مریضوں کی ضروریات پیچیدہ ہیں۔ اس بیماری کے مریض پر پڑنے والے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی اثرات کی وجہ سے، خصوصاً علاج کے دوران، گھریلو اور جذباتی سپورٹ ضروری ہوجاتی ہے۔ خاندانوں میں مناسب انداز میں آگاہی اور تربیت یافتہ افراد کی نہایت ضرورت ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سپورٹ نیٹ ورکس سے کینسر کے مریض کی ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کیے جاسکتے ہیں۔

پڑھیے: بریسٹ کینسر کی علامات ظاہر کرنے والی تصویر

مقامی سطح پر سپورٹ نیٹ ورکس بنانے سے مریضوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہوگی اور انہیں ٹراما اور تناؤ سے مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بریسٹ کینسر کا مقابلہ کر رہی خواتین ایسی صورت میں ہی اس جنگ کو بہتر انداز میں لڑ سکتی ہیں جب انہیں ایسا ماحول اور لوگ دستیاب ہوں جو ان کی ہر مشکل میں مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ نیٹ ورکس صحت پر مثبت اثرات مرتب کرکے خواتین کی حالت میں گارنٹی کے ساتھ بہتری لاسکتے ہیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار میں 21 اکتوبر 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں