امل ہلاکت کیس: تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس رپورٹ کے جائزے کےلیے مہلت مانگ لی

26 اکتوبر 2018

ای میل

امل مبینہ پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی تھی— فائل فوٹو
امل مبینہ پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی تھی— فائل فوٹو

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولیس مقابلے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی بچی امل کے والدین سے معاوضے کے حوالے سے بات کرلیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں امل ہلاکت ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، اس دوران امل کے والدین، تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کل ہی رپورٹ دی گئی ہے، لہٰذا اس کے جائزے کے لیے مہلت دی جائے۔

مزید پڑھیں: امل ہلاکت ازخود نوٹس: تحقیقاتی کمیٹی سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب

کمیٹی رکن نے بتایا کہ جسٹس (ر) عارف خلجی بھی یہاں نہیں ہیں، اس لیے سفارشات کے لیے وقت درکار ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اپنی بچی کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں، امل تو چلی گئی مگر اس کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ امل کے والدین سے معاوضہ کے حوالے سے بات کرلیں، اگر والدین معاوضہ نہ لیں تو پھر ڈیم فنڈ وغیرہ میں پیسے دینے حوالے سے دیکھیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل (ہفتہ) تک ملتوی کردی۔

امل کیس

خیال رہے کہ رواں سال ماہ اگست میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے دوران امل عمر کو گولی لگی تھی۔

بعد ازاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا تھا کہ امل عمر کو لگنے والی گولی پولیس اہلکار کی جانب سے فائر کی گئی تھی۔

امل عمر کو گولی لگنے کے بعد ان کے والدین نے انہیں نیشنل میڈیکل سینٹر (این ایم سی) منتقل کیا تھا جہاں طبی امداد دینے سے انکار کیا گیا جس کے بعد وہ دم توڑ گئی تھی۔

مقتولہ کی والدہ بینش عمر نے بتایا تھا ہسپتال انتظامیہ نے انہیں بچی کو جناح ہسپتال یا آغا خان ہستپال منتقل کرنے کو کہا تھا اور این ایم سی نے امل کو منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس دینے سے بھی انکار کردیا تھا حالانکہ بچی کے سر پر زخم تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امل کیس: مبینہ پولیس مقابلے کے بعد فرار ہونے والا ملزم گرفتار

اس واقعے کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مبینہ پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی 10 سالہ امل عمر کے واقع کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

ازخود نوٹس کی سماعت کی پہلی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ نجی ہسپتالوں کے لیے بھی کوئی ایس او پی ہونا چاہیے، کوئی ہرجانہ بچی کو واپس نہیں لا سکتا، ایسا لگا جیسے ہماری بچی ہم سے جدا ہوگئی، ایک بچی چلی گئی لیکن باقی بچیاں تو بچ جائیں۔

بعد ازاں عدالت نے امل کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے کے لیے سابق جسٹس خلجی عارف کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی قائم کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کی تھی۔