بنگلہ دیش: خالدہ ضیا کو ایک اور مقدمے میں 7 سال کی سزا

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2018

ای میل

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے خلاف 30 سے زائد مقدمات قائم ہیں—فائل فوٹو
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے خلاف 30 سے زائد مقدمات قائم ہیں—فائل فوٹو

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے عطیات کی رقم جمع کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ایک اور مقدمے میں 7 سال کی قید کی سزا سنادی۔

امریکی خبررساں ادارے 'اے پی' کے مطابق ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خالدہ ضیا اور ان کی جماعت کے خلاف ان اقدامات کا مقصد دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن کو کمزور کرنا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ 73 سالہ خالدہ ضیا پہلے ہی بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 5 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں جنہیں رواں ماہ کے آغاز میں صحت کی خرابی کے باعث ہسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا، تاہم ان کی جماعت نے دونوں الزامات کو سیاسی الزامات قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: خالدہ ضیا صحت ناساز ہونے پر ہسپتال منتقل

خیال رہے کہ خالدہ ضیا کے شوہر ضیاالرحمٰن سابق ملٹری چیف اور بنگلہ دیش کے صدر بھی رہ چکے تھے جنہیں 1981 میں قتل کردیا گیا تھا۔

عدالت کے مطابق خالدہ ضیا نے 2001 سے 2006 کے اپنے دورِ حکومت کے دوران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر کے نام پر قائم فنڈ میں نامعلوم ذرائع سے 3 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی رقم وصول کی، جس پر عدالت نے ان کے سابق سیاسی سیکریٹری سمیت دیگر 3 افراد کو 7، 7 سال کی سزا سنائی۔

واضح رہے کہ خالدہ ضیا کے خلاف عدالتوں میں بدعنوانی، تشدد کے الزام میں 30 سے زائد مقدمات درج ہیں جس کے بارے میں ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات ان کی سیاسی حریف حسینہ واجد کے حکومت میں رہنے کے باعث قائم کیے گئے جو مسلسل تیسری مدت کے لیے اقتدار میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جیل میں موجود خالدہ ضیا کی صحت تشویش ناک ہے، ڈاکٹرز

اس بارے میں خالدہ ضیا کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ان کے اہلِ خانہ کو سیاست سے دور رکھنا ہے۔

خیال رہے کہ ڈھاکہ سینٹرل جیل میں قید تنہائی میں سزا کاٹنے والی بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم گزشتہ چند ماہ سے شدید خرابی صحت کا شکار ہیں۔

ان کے مقدمات کی تیزی سے پیروی کے لیے جیل میں ہی ایک کمرہ عدالت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔