بنگلہ دیش: جیل میں موجود خالدہ ضیا کی صحت تشویش ناک ہے، ڈاکٹرز

03 اپريل 2018

ای میل

بنگلہ دیش کی حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے قید میں موجود خالدہ ضیا کو ڈاکٹر کی سہولت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی صحت تشویش ناک ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی 72 سالہ رہنما خالدہ ضیا کو رواں سال فروری میں کرپشن کے الزام میں 5 سالہ قید کی سزا سناتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں انھیں جوڑوں میں درد کے باعث چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

حکومت کی جانب سے ڈھاکا کے ایک سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم کو ان کے جائزے کے لیے بھیج دیا گیا تھا لیکن خالدہ ضیا کے حامیوں کی خواہش ہے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز ان کی صحت کا جائزہ لیں اور مشورہ دیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے بی این پی کے کارکنوں کی درخواست پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اے ایف پی کو بی این پی کے ترجمان رضوی احمد نے بتایا کہ 'حکومت ہماری رہنما کے حوصلے کو توڑنا چاہتی ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء کی رہائی کا فیصلہ معطل

خالدہ ضیا کا چیک اپ کرنے والے ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال کے ماہر آرتھوپیڈک محمد شمش الزمان کا کہنا تھا کہ ان کی حالت تشویش ناک نہیں ہے لیکن ان کے جوڑوں کا درد قید کے دوران سنگین تر ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انھیں ہاتھوں اور ٹانگوں میں درد کی شکایت ہے، وہ سہارے کے بغیر 50 میٹر تک بھی نہیں چل پاتیں اور ان کی کمر میں بھی درد ہے'۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کی حریف رہنما خالدہ ضیا کو جب سزا سنائی گئی تھی تو اس وقت بھی انھیں جوڑوں کا درد، ذیابیطس اور گھٹنے کے درد میں مبتلا تھیں۔

دوسری جانب خالدہ ضیا نے کرپشن کے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور ان کے وکلا نے ضمانت کی اپیل پر سماعت تک رہائی کی درخواست کی تھی لیکن اس معاملے پر فیصلہ اگلے ماہ کے لیے معطل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء کی عبوری ضمانت پر رہائی

خالدہ ضیا کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی ہیں اور دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل حسینہ واجد کے سخت مخالف رہنما کو میدان سے ہٹانے کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔

جرمنی کے ایک تھنک ٹینک بیرٹلزمان فاؤنڈیشن نے گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کو ایک نئے مطلق العنان ریاست کی جانب گامزن قرار دیتے ہوئے آنے والے انتخابات کی شفافیت پر شبہات کا اظہار کیا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے ان سفارشات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 8 فروری کو خالدہ ضیا کو سزا سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور اپوزیشن رہنما کے حامیوں کے درمیان تصادم بھی دیکھنے میں آیا تھا۔

بعد ازاں 19 مارچ کو سپریم کورٹ نے اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا کی ضمانت پر رہائی کو روک دیا تھا اور اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش میں دسمبر میں عام انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔