کیا آلو کھانے سے واقعی وزن بڑھتا ہے؟

11 دسمبر 2018

ای میل

فوٹو:شٹراسٹاک
فوٹو:شٹراسٹاک

آلو کا شمار اس سبزی میں کیا جاتا ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

فرینچ فرائز بنانے ہوں، پکوڑے تلنے ہوں، آلو کا سموسہ ہو یا پھر آلو کی ترکاری، اس سبزی کو ہر انداز میں شوق سے کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔

تاہم آلو کے بارے میں ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو اپنا وزن کم کرنا ہے تو اسے سب سے پہلے آلو کھانا چھوڑنے پڑیں گے۔

کئی افراد وزن کم کرنے کی جدوجہد میں اپنی غذا میں سے آلو کو بالکل باہر کردیتے ہیں۔

ایسا کرنا ان افراد کی ڈائٹ کے لیے تو صحیح ہے جو وزن کم کرنے کی جدوجہد میں کاربوہائڈریٹس سے دوری اختیار کرلیں۔

تاہم آلو کے حوالے سے ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے صحت پر بھی کئی منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں، جیسے ہائی بلڈ شوگر یا ڈیابیطس کا خطرہ بڑھ جانا یا پھر ہائی پلڈ پریشر کا مسئلہ۔

کئی ڈاکٹرز ایسی صورتحال میں آلو کھانے سے منع ہی کرتے ہیں جو بہت حد تک صحیح بھی ہے۔

تاہم اس سبزی کے حوالے سے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ اتنا بھی خطرناک نہیں جتنا اس سے لوگوں کو ڈرایا جاتا رہا ہے۔

آپ کی غذا میں آلو کسی ولن کا کردار ادا نہیں کررہا، کئی تحقیقات میں ایسا ضرور بتایا گیا کہ زیادہ آلو کھانے کی وجہ سے موٹاپا بڑھتا ہے، تاہم جرنل آف امریکن یونیورسٹی کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں آلو کو اس حد تک صحت کے لیے مضر قرار نہیں دیا گیا۔

یونیورسٹی نے چند ایسے طلبہ پر تحقیق کی جو وزن کم کرنے کے لیے کم کیلوری کی ڈائٹ فالو کررہے تھے۔

ان طلبہ کے 2 گروپ بنائے گئے، جن میں سے ایک کی ڈائٹ میں سے آلو ہٹادیے گئے جبکہ دوسرے گروپ نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ رکھا۔

محققین نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ گروپ جس نے آلو کو اپنی ڈائٹ کا حصہ بنا کر رکھا، اس کے وزن کم ہونے پر آلو کھانے کا کوئی منفی اثر سامنے نہیں آیا۔

تو کیا واقعی آلو وزن کم کرنے کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں؟

دراصل اگر آپ ایک صحت مند ڈائٹ فالو کریں اور جنک فوڈ سے دوری اختیار کرلیں تو آپ کا وزن اتنی آسانی سے نہیں بڑھے گا۔

آلو تو وزن کم کرنے میں مدد بھی دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سبزی غذائیت سے بھرپور ہے جو ہمارے قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اگر آلو کو صحیح انداز میں پکا کر لو کیلوری ڈائٹ کا حصہ بنایا جائے تو اس سے وزن نہیں بڑھے گا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔