سپریم کورٹ کا کراچی میں سیاحتی مقاصد کیلئے ٹرام چلانے کا حکم

17 نومبر 2018

ای میل

سپریم کورٹ نے کراچی میں ریلوے کی زمین سے قبضہ چھڑوا کر فوری طور پر کراچی سرکلر ریلوے اور ٹرام لائن کی بحالی کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچي رجسٹری ميں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی ميں سماعت ہوئی جہاں عدالت نے سرکلر ريلوے کو فوری طور پر بحال کرنےکا حکم دیا۔

عدالت نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بھر ميں ريلوے کی زمينوں کو واگزار کرا دیا جائے اور ڈپٹی کمشنرز کےذريعے تمام علاقوں سےريلوے لائن صاف کرا دی جائیں۔

ریلوے کے ڈی ایس نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے بيشتر علاقوں ميں ريلوے کی زمينوں پر قبضہ ہے۔

مزید پڑھیں:'کراچی سرکلر ریلوے پر کام رواں سال شروع ہوگا'

سپريم کورٹ نے شہر میں ٹرام لائن کی بحالی کا بھی حکم ديا اور کہا کہ سياحتی مقاصد کے لیے صدر سے اولڈ سٹی ايريا تک ٹرام چلائی جائے۔

انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ کے ايم سی اور ضلعی انتظاميہ کی مدد سے بوگياں تيار کی جائیں اور مقامی انتظاميہ ريلوے کی مدد سے روٹ کا تعين کرے گی۔

کراچی میں تجاوزات کے حوالے سے حکم دیا گیا کہ شہر میں کوئی تجاوزات نظر نہ آئے اور تجاوزات کے خلاف جاری آپريشن کو مزید تيز کر دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ايف ٹی سی پُل کے نيچے تعميرکی گئیں دکانوں کو بھی مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی میں تجاوزات 15 روز میں ختم کرانے کا حکم

تجاوزات کے حوالے سے مزید ہدایت کی گئی کہ شارع فيصل اور راشدمنہاس روڈ سے بھی تجاوزات ختم کردی جائیں اور ساتھ ہی تمام کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈی ايچ اے کو بھی تجاوزات ختم کرنےکا حکم دیا گیا۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے 27 اکتوبر کو سماعت کے دوران کراچی میں تجاوزات 15 روز میں ختم کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ تمام فٹ پاتھوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، رفاعی ادارے فٹ پاتھوں پر غربا کو کھانا کھلاتے ہیں، انہیں بھی ہٹایا جائے۔

چیف جسٹس نے وسیم اختر سے کہا تھا کہ آپ غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے متبادل جگہ دیں۔