کراچی جو اِک شہر تھا (آٹھواں حصہ)

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2018

ای میل

یہ اس سیریز کا ساتواں بلاگ ہے۔ پہلا، دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں حصہ پڑھیں۔


80ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی نشریات اپنے عروج پر تھی۔ پی ٹی وی نے اس عشرے میں اپنی تاریخ کے سب سے معروف اور مقبول ڈرامے اور پروگرام پیش کیے۔ ہمیں سب سے زیادہ کراچی اسٹوڈیوز کے ڈرامے پسند ہوا کرتے تھے اور اس کے بعد لاہور اسٹوڈیوز کے۔ اس زمانے میں ٹی وی کے تقریباً سارے اداکاروں کو لوگ اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے اور ان کا بالکل اسی محبت کے ساتھ ذکر کرتے جیسی محبت اپنے کسی رشتہ دار کے بارے میں بات کرتے ہوئے لہجے میں جھلکتی ہے۔

محمود علی، قاضی واجد، شکیل، بہروز سبزواری، عظمیٰ گیلانی، ظہور احمد، راحت کاظمی، ساحرہ کاظمی، روحی بانو، سبحانی بایونس، فردوس جمال، عابد علی، محبوب عالم، جمیل فخری، فاروق ضمیر، رضوان واسطی، طاہرہ واسطی، قربان جیلانی، نور محمد لاشاری، شفیع محمد شاہ، توقیر ناصر، سکینہ سموں، خالدہ ریاست، ماہ نور بلوچ، بشریٰ انصاری، سلیم ناصر، عرفان کھوسٹ، قوی، عرشِ منیر، جمشید انصاری، ماجد جہانگیر، اسمعٰیل تارا، خیام سرحدی، لطیف کپاڈیا، معین اختر۔۔۔ یہ سب کون تھے؟ یہ سب ہمارے عزیز ہی تو تھے۔

فاطمہ ثریا بجیا کے ڈرامے ’افشاں‘ اور ’اَنا‘، منو بھائی کا ’سونا چاندی‘، حسینہ معین کے ڈرامے ’اَن کہی‘،’تنہائیاں‘ اور ’دھوپ کنارے‘، امجد اسلام امجد کے ڈرامے ’وارث‘، ’سمندر‘ اور ’وقت‘، نسیم حجازی کا ’شاہین‘، سلیم احمد کا ’تعبیر‘، عبدالقادر جونیجو کا ’دیواریں‘، نورالہدیٰ شاہ کے ڈرامے ’جنگل‘ اور ’آسمان تک دیوار‘، انور مقصود کا ’آنگن ٹیڑھا‘، یونس جاوید کا ’اندھیرا اُجالا‘، اطہر شاہ خان کا ’باادب، با ملاحظہ، ہوشیار‘، شوکت صدیقی کا ’جانگلوس‘۔۔۔ اور ان جیسے کئی شاہکار سلسلے اس زمانے میں پیش کیے گئے۔ یہ ڈرامے رات 8 بجے سے 9 بجے تک دکھائے جاتے تھے۔

آنگن ٹیڑھا
آنگن ٹیڑھا
جانگلوس کا ایک منظر
جانگلوس کا ایک منظر

دھوپ کنارے کا ایک منظر
دھوپ کنارے کا ایک منظر

ہوائیں کا ایک منظر
ہوائیں کا ایک منظر

ان ڈراموں کے درمیان اشتہاری وقفے بھی برائے نام ہوتے تھے، بلکہ کبھی کبھی تو قسط اتنی طویل بھی ہوتی کہ اس کو 9 بجے کے خبرنامے پر روک کر ڈرامے کا بقیہ حصہ خبروں کے بعد دکھایا جاتا تھا۔ ڈرامہ دیکھنے والے اس دن بقیہ حصے کے انتظار میں صبر سے بیٹھ کر پورا خبرنامہ بھی دیکھ ڈالتے تھے اور پھر ڈرامے کی قسط کے چند بچے ہوئے منٹ دیکھ کر ہی اٹھتے تھے۔

اس وقت تک کراچی کے تقریباً ہر گھر میں ٹی وی آچکا تھا۔ ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہر شخص گھر پہنچ جاتا اور ڈرامہ نشر ہونے کے دوران شہر بھر میں ہُو کا عالم طاری ہوجاتا، گلیاں اور محلے سنسان ہوجاتے اور ہر گھر میں سے صرف ٹی وی سے ابھرتے ڈرامے کے ڈائیلاگ سنائی دیتے تھے۔

خدا کی بستی کا ایک منظر
خدا کی بستی کا ایک منظر

ڈرامہ سیریل تنہایاں
ڈرامہ سیریل تنہایاں

پھر انہی دنوں مشہور پاپ سنگر بہن بھائی نازیہ حسن اور ذوہیب حسن کی شہرت نے آسمان کو چھوا۔ نوجوان نسل تو ان کے گانوں کی دیوانی ہی ہوگئی۔ ان کے گائے ہوئے نغموں: ’تیری میری ایسی دوستی‘، ’دل بولے بُوم بُوم‘، ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘، ’آنکھیں ملانے والے دل والوں کو چرانے والے‘، ’ذرا چہرہ تو دکھاؤ اور تھوڑا سا مسکراؤ‘ وغیرہ نے نوجوانوں میں دھوم مچا دی۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دن رات کے وقت میں سائیکل پر گھر جا رہا تھا تو گلی میں سے گزرتے ہوئے اچانک ایک گھر کے ٹی وی سے ذوہیب حسن کے گانے ’ذرا چہرہ تو دکھاؤ‘ کے بول بلند ہوئے۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ میں تیزی سے سائیکل کے پیڈل مارتا ہوا گھر کی طرف دوڑا تاکہ ٹی وی کے سامنے پہنچ کر ذوہیب کو یہ گانا گاتا ہوا دیکھ سکوں۔ میرے گھر پہنچنے تک وہ گانا تو ختم ہوگیا، لیکن راستے میں ہر گھر سے اٹھنے والی ٹی وی کی بلند آواز کے باعث میں اس گانے کا ایک ایک مصرعہ اچھی طرح سُن چکا تھا۔

نازیہ حسن اور ذوہیب حسن
نازیہ حسن اور ذوہیب حسن

ٹی وی ڈراموں کے علاوہ ایک اور موقعے پر بھی کراچی کی گلیاں سنسان ہوجایا کرتی تھیں، اُن دنوں جب میٹرک یا انٹر کے بورڈ کے امتحان چل رہے ہوتے تھے۔ ہر طالبِ علم کو سانپ سونگھا ہوا ہوتا تھا اور چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی ہوتی تھیں۔ سارے ہنسی مذاق اور ہلے گلے موقوف کرکے ہر کوئی اپنے گھر میں گھسا رَٹّے پہ رٹّا لگا رہا ہوتا تھا اور شہر کی گلیاں سائیں سائیں کرتی امتحان ختم ہونے کا انتظار کرتی رہتی تھیں۔

میری آنکھوں پر یہ چشمہ مجھے سیکنڈری اسکول کے زمانے میں لگا تھا۔ امّی کہتی تھیں کہ مجھے بچپن میں ڈائریا ہوگیا تھا اور اس میں چونکہ جسم کا خاصا پانی نکل گیا تھا اس لیے اس کا اثر آنکھوں پر پڑگیا۔ جب میں گاہے بہ گاہے آنکھوں میں تکلیف کی شکایت کرنے لگا تو ایک دن ابّا مجھے صدر بمبینو چیمبرز میں ڈاکٹر صالح میمن کے پاس لے گئے۔ سندھ کے قصبے کنڈیارو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صالح میمن کراچی کے معروف آئی اسپیشلسٹ تھے اور ابّا کے پرانے دوست بھی۔ وہ بعد میں سندھ میڈیکل کالج کے پرنسپل بھی رہے اور میمن گوٹھ میں معروف فلاحی ادارہ الابراہیم آئی ہاسپٹل بھی قائم کیا۔

ڈاکٹر صالح میمن نے میری آنکھیں چیک کیں تو میری دُور کی نظر کو کمزور پایا۔ انہوں نے میرے لیے چشمے کا نمبر تجویز کیا اور پھر اس کے چند دن بعد میری آنکھوں پر جو عینک لگی وہ آج تک میرے چہرے کی زینت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ابّا نے مجھے پہلا چشمہ صدر میں کیپیٹل سنیما اسٹریٹ کی ایک دکان سے بنوا کر دیا تھا۔ اوریجنل جرمن کارل زائیس Carl Zeiss گلاسز کے ساتھ گولڈن فریم کا وہ چشمہ غالباً صرف 180 روپے کا بنا تھا۔

چشمہ لگا کر جب میں نے آئینہ دیکھا تو اس میں مجھے سنجیدہ سی شکل کا ایک ایسا پڑھا لکھا چہرہ نظر آیا جسے دیکھ کر میرا دل کھل اٹھا۔ مجھے اپنا یہ معنک روپ بہت پسند آیا۔ چشمہ پہن کر میں اتراتا ہوا اپنے اسکول اور محلے کی دنیا میں واپس آیا تو چند ہی دن میں میرے ہم عصر لڑکوں نے مجھے عجیب عجیب القاب سے نواز دیا۔ چشم الدین، چشماٹو، چشمُلی لیکن میں نے ان القاب کا ذرا بھی بُرا نہ منایا کیونکہ مجھے اپنا چشمے والا روپ بہت پسند آیا تھا اور آج تک پسند ہے۔ چشمہ پہن کر میں اب بالکل ایک کراچی برانڈ نوجوان لگتا تھا۔

80ء کی دہائی کے شروع میں ہمارے محلے کے گھروں کو سوئی گیس کے کنکشن مل گئے۔ اس سے پہلے ہر گھر میں مٹی کے تیل سے چلنے والے اسٹوو استعمال ہوتے تھے۔ جست کے بنے ہوئے یہ چولہے بڑے پائیدار اور دیرپا ہوتے تھے، بس ان کی بتیاں گاہے بہ گاہے بدلنا پڑتی تھیں۔ سُوتی دھاگوں کی بتیوں سے بنا ہوا یہ ایک گول گچھا ہوتا تھا جسے ایک خاص ترکیب سے چولہے میں فٹ کیا جاتا تھا۔ یہ ڈیوٹی عام طور پر میرے حوالے کی جاتی تھی۔

مٹی کے تیل سے چلنے والے اسٹوو کا ایک اشتہار—تصویر عبیداللہ کیہر
مٹی کے تیل سے چلنے والے اسٹوو کا ایک اشتہار—تصویر عبیداللہ کیہر

اگر یہ بتیاں چولہے میں صحیح طرح سے نہ لگائی جاتیں تو وہ مٹی کا تیل بھی زیادہ پیتا، اس میں سے آگ بھی نیلی کے بجائے لال لال نکلتی اور اس کا دھواں زیادہ کالک کے ساتھ نکل کر پتیلیاں بھی کالی کردیتا تھا۔ چنانچہ یہ ایک کام بڑی مہارت کا متقاضی ہوتا تھا اور ہم اس کے ماہر تھے۔ گیس آنے کے بعد مٹی کے تیل سے چلنے والے ہر طرح کے چولہے یک لخت متروک ہوگئے اور ماضی کا حصہ بن گئے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے گیس سے چلنے والا پہلا چولہا خریدا تو وہ مبلغ 130 روپے کا ملا تھا اور باورچی خانے میں گیس کی فٹنگ کا مکمل کام کرنے کا پلمبر نے 300 روپے معاوضہ لیا تھا۔

اسکول کے دنوں میں جب بھی کوئی مجھ سے پوچھتا کہ تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟ تو میں یہی جواب دیتا تھا کہ، ’ڈاکٹر‘۔ لیکن میٹرک کرنے کے بعد ڈی جے کالج میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیتے ہوئے انتخاب میں نے ’پری انجنیئرنگ‘ Pre-Engineering کا کیا۔

انجینیئرنگ کے اس انتخاب کے پیچھے بھی ایک کہانی تھی۔ ہماری قوم کیہر زیادہ تر سندھ کے 5 شہروں، جیکب آباد، شکارپور، لاڑکانہ، خیرپور اور ٹھٹھہ میں آباد ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر غلام رسول شیر خان کیہر ہوا کرتے تھے، جو ’جی ایس کیہر‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ جی ایس کیہر صاحب کو میں نے اُن کی بزرگی میں دیکھا اور ہمارے لڑکپن میں ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

جی ایس کیہر صاحب کے بیٹے امداد حسین کیہر اور ہمارے ابّا میں بڑی دوستی ہوا کرتی تھی۔ امداد کیہر صاحب کا بنگلہ جیل چورنگی اور مزار قائد کے درمیان ایم اے جناح روڈ پر مسلم آباد میں ہوا کرتا تھا۔ جس اسٹریٹ پر ان کا بنگلہ تھا وہ آج بھی ’جی ایس کیہر اسٹریٹ‘ کہلاتی ہے۔ ہم اکثر امداد کیہر صاحب کے گھر ان سے ملنے جاتے تھے۔ وہاں جانے کے لیے ہم عام طور پر گرومندر کے بس اسٹاپ پر اترتے اور پھر پیدل چلتے ہوئے، مزارِ قائد پر محبت بھری نظریں ڈالتے ہوئے اسلامیہ کالج کے سامنے دنیا کے نقشے والے گلوب کا نظارہ کرتے ہوئے پیدل کیہر صاحب کے گھر تک پہنچتے تھے۔

اس وقت دنیا کے گلوب کے نیچے والا حوض شفاف مچلتے پانی سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور اسے دیکھ کر ہمارا دل باغ باغ ہوجایا کرتا تھا۔ اسلامیہ کالج کے سامنے ہم سڑک پار کرتے اور داؤد انجنیئرنگ کالج کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مسلم آباد کی طرف جاتے تھے۔

داؤد یونیورسٹی
داؤد یونیورسٹی

داؤد یونیورسٹی اور گلوب
داؤد یونیورسٹی اور گلوب

داؤد کالج کی 4 دیواری پر اس زمانے میں کسی ماہر مصور نے انجینیئرنگ کے رنگا رنگ شاہکار پینٹ کر رکھے تھے۔ کاریں، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز، راکٹ، عمارتیں، کارخانے، ڈیم، سڑکیں اور نہ جانے کیا کیا۔ میں جب بھی اس دیوار کے پاس سے گزرتا تو ان تصاویر میں کھو جاتا۔ میں نے ایک دفعہ کسی سے پوچھ ہی لیا کہ یہ سب تصویریں یہاں کیوں بنائی گئی ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کالج ہے جہاں انجینیئر بنتے ہیں۔ میں بہت مرعوب ہوا اور اسی دن میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں ڈاکٹر نہیں، انجینیئر بنوں گا۔

داؤد کالج کی اس دیوار پر بنے مصوری کے شاہکاروں سے جہاں مجھ میں انجینیئر بننے کا جذبہ بیدار ہوا، وہیں مصوری کا بھی شوق پیدا ہوا۔میٹرک کے امتحانات میں میرے سب سے زیادہ نمبر بھی ریاضی اور فزکس ہی میں آئے تھے، چنانچہ میرا یہ ارادہ اور مضبوط ہوا اور انٹرمیڈیٹ میں، مَیں نے انجینیئرنگ ہی کا انتخاب کیا۔

یہ وہ دور تھا کہ جب ہم کمپیوٹر کو ایک نئی چیز جان کر متاثر ہو رہے تھے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس دور میں کمپیوٹر سیکھنا ضرورت سے زیادہ فیشن کا درجہ رکھتا تھا اور اس سے واقف ہونا علم سے زیادہ فخر کا ذریعہ تھا۔ ہم شروع شروع میں جن کمپیوٹرز سے واقف ہوئے ان میں کموڈور Commodore، اٹاری Atari اور سنکلیئر Sinclair وغیرہ تھے۔ آئی بی ایم کا پرسنل کمپیوٹر PC اور ایپل Apple کمپیوٹر سے ابھی کوئی واقف نہیں تھا۔ ابھی مائکرو سوفٹ ونڈوز Windows، ڈوس DOS یعنی ’ڈِسک آپریٹنگ سسٹم‘ کی جگہ نہیں لے پایا تھا۔

کوموڈور
کوموڈور

اٹاری کمپیوٹر
اٹاری کمپیوٹر

اٹاری کمپیوٹر کا ڈیٹا ریکارڈر
اٹاری کمپیوٹر کا ڈیٹا ریکارڈر

ابھی ہم صرف کوبول COBOL اور بیسک BASIC کی اصطلاحیں اِتر اِترا کر بولتے تھے۔ ساڑھے 3 انچ کی فلاپی ڈسک Floppy Disc کا دُور دُور تک پتہ نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم اٹاری Atari اور کموڈور Commodore کمپیوٹر کے ساتھ لیڈ لگا کر ٹیپ ریکارڈر جیسی ایک مشین میں عام آڈیو کیسٹ ڈال کر اس کی پٹی پر ڈیٹا محفوظ کیا کرتے تھے، اور وہ ڈیٹا بھی کیا ہوتا تھا، صرف ٹیکسٹ ڈیٹا Text Data۔ تصاویر اور فلموں کا تو تصور بھی نہیں تھا۔

سی گیٹ Seagate نے اپنی جو اولین ہارڈ ڈسک فخریہ پیش کرکے دنیا میں بھونچال پیدا کیا تھا وہ صرف پانچ MB گنجائش رکھتی تھی۔ کیسیو Casio کمپنی نے گھڑیوں اور سائنٹفک کیلکولیٹر سے آگے بڑھتے ہوئے اب کیلکولیٹر کی شکل کے پاکٹ کمپیوٹر بھی پیش کرنا شروع کر دیے تھے۔ کلاس میں جس لڑکے کے پاس بھی اس طرح کا کمپیوٹر ہوتا تھا، اس سے سب مرعوب ہوتے تھے۔ میرے پاس اپنا تو اس طرح کا کوئی پاکٹ کمپیوٹر نہیں تھا، البتہ دوستوں کے کمپیوٹروں پر تجربے کر کرکے میں بیسک لینگویج میں ہلکی پھلکی پروگرامنگ کرنے لگا تھا۔ اس لیے اب اکثر کلاس فیلو اپنے کمپیوٹر کو استعمال کرنے کی ابتدائی ٹریننگ کے لیے مجھ سے رابطہ کرتے تھے۔

کیسیو منی کمپیوٹر
کیسیو منی کمپیوٹر

اس زمانے میں فون بہت کم لوگوں کے گھروں میں ہوتا تھا اور موبائل فون تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ہم ٹی وی پر چلنے والی فلموں، ’سِکس ملین ڈالر مین‘ (Six Million Dollar Man)، ’دی سینٹ‘ (The Saint) اور ’چپس‘ (Chips) وغیرہ کے کرداروں کو چلتی کار میں فون استعمال کرتا دیکھ کر بہت حیران ہوتے تھے اور یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ایسا حقیقت میں بھی ممکن ہے۔ فون اور موبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے بڑے عجیب عجیب واقعات پیش آتے اور وقت بہت ضائع ہوتا۔

ذرا ذرا سی بات معلوم کرنے، ہلکی پھلکی بات چیت کرنے اور غیر اہم ملاقاتوں کی خاطر بھی جب ہم کئی کئی بسیں بدل کر مطلوبہ جگہ پر پہنچتے تو وہاں وہ شخص موجود ہی نہیں ملتا جس کی تلاش میں ہم نے اتنی مشقت اٹھائی تھی۔ کبھی ایک ہی دن میں کئی کئی سفر بھی کرنے پڑ جاتے تھے۔ کبھی کبھی تو یہ تماشا بھی ہوتا کہ ہم کئی دن کی تیاری کے بعد بڑی چاہت سے بسوں یا ٹیکسیوں میں لد کر کسی عزیز رشتے دار کے گھر پہنچتے تو پتہ چلتا کو وہ سب تو آج خود ہمارے گھر کی طرف گئے ہوئے ہیں، مگر بات اصل میں یہ تھی کہ فرصت بہت ہوتی تھی۔ اتنا وقت ضائع ہونے پر بھی کوئی بے مزا نہیں ہوتا تھا اور زندگی ایک دلکش کاہلی کے ساتھ آگے بڑھتی رہتی تھی۔

رابطوں کی یہ کمی کبھی کبھی بڑی دردناک بھی ہوجایا کرتی تھی۔ دُور شہروں میں بسنے والے ایک دوسرے کو خیریت کی اطلاع خط ہی کے ذریعے دیا کرتے تھے۔ ڈاکیے کا دروازے پر آنا سب کے لیے پُرمسرت ہوا کرتا تھا۔ لیکن یہی ڈاکیہ جس دن دروازے پر آکر یہ کہتا کہ آپ کا ’تار‘ آیا ہے، اس دن گھروں میں اس تار کو وصول کرنے سے پہلے ہی کہرام مچ جاتا تھا، کیونکہ تار (یعنی ٹیلی گرام) عام طور پر کسی نہ کسی عزیز کے مرنے کی یا شدید بیمار ہونے کی اطلاع ہی لایا کرتا تھا۔

فوراً بلانے کے لیے بھی تار ہی بھیجا جاتا تھا اور اگر کسی کو جلد طلب کرنے کے لیے خط بھیجا جاتا تو اس میں سب سے اہم جملہ یہ لکھا جاتا تھا کہ ’اس خط کو تار سمجھو اور جلد از جلد پہنچنے کی کوشش کرو‘۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری دادی امّاں شدید بیمار ہوئیں تو ابّا کے پاس چچا کا ٹیلی گرام آیا۔ امّی اور ابّا اگلے ہی دن گاؤں چلے گئے اور پھر ہم کئی دن ان کا انتظار کرتے رہے۔ بالآخر وہ واپس آئے تو ان کے چہرے مضمحل اور بے مسرت تھے۔ ہم نے امّاں سے پوچھا کہ دادی اماں کی طبیعت کیسی تھی، تو وہ سر جھکا کر رونا شروع ہوگئیں اور پھر گلوگیر لہجے میں بتایا کہ بچو تمہاری دادی امّاں کا تو کئی دن پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ جس دن دادی کا انتقال ہوا اس دن 23 فروری کی تاریخ تھی اور سال 1982ء تھا۔

ہم اندرون سندھ سے کراچی منتقل ہوئے اور پھر کراچی ہی کے ہو کر رہ گئے۔ لیکن اپنے آبائی شہروں اور دیہاتوں سے تعلق آج تک برقرار ہے۔ ہم امّاں ابّا کے ساتھ تقریباً ہر سال گاؤں جاتے تھے اور یہ سفر ہمیشہ ریل گاڑی ہی میں ہوا کرتا تھا۔ ریل میں سفر کرنے کا خیال جہاں ہم بچوں کے لیے حد درجہ مسرت آمیز اور ہیجان خیز ہوتا تھا، وہیں اس سفر سے ایک انہونا خوف بھی وابستہ رہتا تھا، اور یہ تھا بچھڑنے کا خوف۔ ریل گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کسی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رہ جانے کا خیال ہی ہماری روح فنا کرنے کے لیے کافی ہوا کرتا تھا کیونکہ اُس دور میں بچھڑ جانے والے کسی بچے کے لیے اپنے والدین تک واپس پہنچنے کا کوئی خاص ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔ نہ فون، نہ موبائل، نہ ای میل، نہ واٹس ایپ، نہ فیس بک اور نہ وائی فائی۔ وہ تو بس بردہ فروشی اور خرکاری کی روح فرسا داستانوں کا دور تھا۔

پھر اس دور کی اکثر فلموں کا سب سے دُکھی منظر بھی تو یہی ریل گاڑی میں بچوں کا اپنے والدین سے بچھڑجانے کا ہوا کرتا تھا۔ پھر ان بیچاروں کا ملاپ سالہاسال بعد، ماں باپ کے مرکھپ جانے کے بعد، ان کے سکھائے ہوئے اُس گانے کے ذریعے ہی ہو پاتا کہ جسے گاتے گاتے بچھڑے ہوئے بھائی بہن کسی شہر کی کسی سڑک پر اچانک آمنے سامنے آجاتے تھے اور پھر وہ بچھڑی ہوئی روحیں روتے دھوتے دوڑ کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہوجاتی تھیں۔ بالآخر سب ہنسی خوشی رہنے لگتے تو جا کے کہیں فلم ختم ہوپاتی۔ لیکن 10ویں جماعت تک آتے آتے ہم سفر کے اس انہونے خوف سے نکل چکے تھے۔ اب میں کراچی کے مختلف علاقوں میں جانے والی بسوں میں بلا تردد سفر کر رہا تھا اور رفتہ رفتہ کراچی کے کئی ان دیکھے گوشوں کو دریافت کیے چلا جا رہا تھا۔

جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ مجھے گھر سے کالج تک پہنچنے کے لیے 2، 2 بسیں بدلنا ہوتی تھیں اور اس عمل سے میں خاصا بیزار ہورہا تھا۔ اس زمانے میں ماڈل کالونی اسٹیشن سے سٹی اسٹیشن تک لوکل ٹرین بھی چلتی تھی۔ کچھ عرصہ میں اس ٹرین پر بھی کالج گیا لیکن یہ بھی دشوار ہی تھا۔ صبح سویرے کسی بس کے ذریعے اپنے گھر سے ماڈل کالونی ریلوے اسٹیشن تک وقت پر پہنچنا تو دشوار تھا ہی، سٹی اسٹیشن پر اتر کر ایک طویل فاصلہ پیدل طے کرکے اپنے کالج تک پہنچنا بھی خاصا دقت طلب ہی تھا۔

سٹی اسٹیشن
سٹی اسٹیشن

ہمارے اسٹاپ سے کراچی یونیورسٹی کے پوائنٹ بھی چلتے تھے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بسوں کو کراچی والے ’پوائنٹ‘ کہتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی یونیورسٹی کے پوائنٹ پر بھی سوار ہوجاتے اور شارع فیصل تک آجاتے اور وہاں سے کوئی دوسری بس پکڑ کر صدر پہنچتے۔ ایک دفعہ کراچی یونیورسٹی کی بس شارع فیصل کی طرف جانے کے بجائے ملیر کینٹ کے جنگل کی طرف مڑ گئی اور میں ہڑبڑاتا ہوا شارع فیصل کے بجائے کراچی یونیورسٹی جا پہنچا۔

کراچی یونیورسٹی کی پوائنٹ بس
کراچی یونیورسٹی کی پوائنٹ بس

کچھ ہی دنوں میں مجھے یہ پتہ چلا کہ ہمارے اسٹاپ سے ڈاؤ میڈیکل کالج کا پوائنٹ بھی جاتا ہے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج ہمارے ڈی جے کالج کے قریب ہی تھا۔ میں ایک دن چپکے سے ڈی ایم سی کے پوائنٹ میں چڑھ گیا اور پورا سفر طے کرکے ڈاؤ کی حدود میں اترگیا۔ وہاں سے پیدل چل کر میں بہت جلد اپنے کالج تک پہنچ گیا۔ یہ تو بڑا مزے کا کام ہوگیا، یعنی بغیر کوئی کرایہ دیے اور بہت کم وقت میں ایک ہی بس سے میں کالج پہنچ گیا، واہ واہ، اب کیا تھا، میں تو روز ہی ڈاؤ کے پوائنٹ پر چڑھنے لگا۔ لیکن یہاں میں اتنی احتیاط ضرور کرتا کہ سیٹ پر نہیں بیٹھتا تھا بلکہ کھڑا ہو کر سفر کرتا تھا تاکہ ڈاؤ کا کوئی طالبعلم مجھ پر اعتراض نہ کرے۔

میں نے یہ بھی دیکھا کہ اگلے اسٹاپ سے ڈی جے کا ایک اور لڑکا بھی اسی بس میں سوار ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر مجھے اطمینان ہوا۔ وہ فاخر تھا، میری ہی کلاس کے دوسرے سیکشن کا طالبعلم۔ ہم نے چونکہ کالج کا یونیفارم پہن رکھا ہوتا تھا اور ہماری شرٹ کی جیب پر ڈی جے کالج کا لوگو بھی کڑھا ہوا ہوتا تھا، اس لیے ہم دُور سے پہچانے جاتے تھے، چنانچہ کچھ ہی دن میں مستقبل کے ڈاکٹروں، یعنی ڈی ایم سی کے طلبہ کو کھٹکنے لگے۔

ایک دن کچھ لڑکوں نے مجھے بس سے اتارنے کی کوشش بھی کی، لیکن میں فاخر کی وجہ سے بچ گیا کیونکہ فاخر کا بڑا بھائی واسع، ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہی پڑھتا تھا۔ فاخر کے بھائی واسع کی وجہ سے مجھے بھی اُس دن اُس بس سے نہیں اتارا گیا اور بعد میں بھی برداشت کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ کچھ عرصے بعد میری ٹیوشن کی کمائی آنے لگی اور میں مہنگا کرایہ دے کر تیز رفتار پرائیویٹ ویگن میں کالج جانے لگا۔

اس زمانے کے واسع بھائی آج کراچی کے معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر عبدالواسع شاکر کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ فاخر اور واسع، دونوں اسلامی جمعیت طلبہ میں تھے، لیکن یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا۔ جمعیت اور جماعتِ اسلامی سے میرے ابتدائی تعارف کا ذریعہ یہی دونوں بھائی بنے تھے۔ فاخر اور واسع کے توسط سے کالج میں اور کالج کے باہر میرے جتنے بھی دوست بنے، سب جماعتی نکلے۔

ڈی جے کالج میں فاخر نام کے ایک اور لڑکے سے بھی میری دوستی ہوئی، لیکن وہ جماعتی نہیں تھا۔ وہ نارتھ ناظم آباد میں رہنے والے ایک نفیس اور تعلیم یافتہ مہاجر خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ میرا تعلق کھوکھراپار کی غریب سی آبادی سے تھا جبکہ فاخر نارتھ ناظم آباد کے ایک خوبصورت بنگلے میں رہتا تھا، لیکن اس طبقاتی فرق کے باوجود اس کی اور میری دوستی اس قدر گہری ہوئی کہ کچھ ہی دنوں میں مَیں اس کے خاندان کا ایک فرد بن گیا۔ میں نے ہندوستانی تہذیب، رکھ رکھاؤ، اخلاقیات اور آداب کا بڑا حصہ اس خاندان سے سیکھا۔

ڈی جے کی اس کلاس میں مستقبل کا افسانہ نگار حارث خلیق بھی میرا کلاس فیلو تھا۔ حارث اور میں، دونوں اپنی اردو دانی کے باعث جانے جاتے تھے۔ ہمارے اردو کے استاد غیور صاحب نے مجھے ’بابائے اردو‘ کا لقب دے رکھا تھا جبکہ حارث کو وہ ’تایائے اردو‘ کہتے تھے۔ حارث خلیق ڈی جے کالج کے بعد این ای ڈی یونیورسٹی میں بھی میرا کلاس فیلو رہا۔ ہم دونوں کے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ہمارا باہمی احترام ہمیشہ برقرار رہا ہے۔ حارث تو اپنی خدمات پر حکومتِ پاکستان سے صدارتی ایوارڈ بھی لے چکا ہے۔

محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کا خیال ذہن میں آیا تو میں نے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں ہی ٹیوشن سینٹر کھول لیا۔ مجھے تو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ محلے کے لوگ اس قدر شدت سے میرے اس اقدام کا انتظار کر رہے تھے۔ سینٹر کھولنے کا اعلان کرتے ہی پہلے ہی مہینے 7 بچے میرے پاس ٹیوشن پڑھنے آگئے۔ میں نے فی بچہ 15 روپے فیس مقرر کی جسے سارے والدین نے خوش دلی سے قبول کیا اور پھر پہلے مہینے کے اختتام پر میری جیب میں 105 روپے کی رقم آ گئی۔

اس زمانے میں ایک طالب علم کے اخراجات کے حوالے سے یہ ایک مناسب رقم تھی۔ میں خوش حال ہوگیا اور گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے بجائے تیز رفتار اور سیٹ بائی سیٹ پرائیویٹ ویگن میں سفر کرنے لگا۔ اب میں کالج جانے کے لیے آرام سے نکلتا اور کھوکھراپار ڈاکخانہ اسٹاپ سے صدر دواخانہ جانے والی R رُوٹ کی بیڈ فورڈ ویگن میں سوا روپیہ کرایہ دے کر کالج جانے لگا۔ اس رُوٹ کی سب سے بڑی اور آرام دہ ویگن ڈرائیور افضل چلایا کرتا تھا جو میانوالی سے ہجرت کرکے کراچی آیا تھا اور ہمارے محلے میں رہتا تھا۔ اپنے لمبے تڑنگے جثے، مسکراتی آنکھوں اور خوش اخلاق رویے کے باعث پورا محلہ اسے پسند کرتا تھا۔ میری بھی اس سے اچھی سلام دعا ہوگئی۔ اس وقت اکثر بسوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹر خوش اخلاق ہوتے تھے۔

کچھ ہی عرصے بعد کراچی میں مزدا 3000 منی بسیں چلنا شروع ہوگئیں۔

مزدا 3000 منی بسیں
مزدا 3000 منی بسیں

شہر بھر میں ان کو کئی روٹ الاٹ ہوئے۔ ملیر سے نکلنے والی مزدا بسیں D6 ،P1 اور P کے نام سے چلتی تھیں اور مجھے یہ لکھتے ہوئے دُکھ ہو رہا ہے کہ ان بسوں کے اکثر ڈرائیور اور کنڈکٹر بالعموم بدتمیز اور اُجڈ ہوا کرتے تھے۔ مسافروں سے تلخ کلامی، جھگڑا اور ہاتھا پائی ان کا روز کا معمول ہوا کرتا تھا۔ ان کے اس نامناسب رویے نے کراچی کے بد اَمن مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔