’پولیس کو شرم آنی چاہیے،گالیاں بھی کھاتی ہے اور بدمعاشوں کی طرف داری بھی کرتی ہے‘

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2018

ای میل

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی—فائل فوٹو

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پنجاب پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ پولیس کو شرم آنی چاہیے، گالیاں بھی کھاتی ہے اور بدمعاشوں کی طرف داری بھی کرتی ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے قبضہ گروپ منشا بم کے خلاف کیس کی سماعت کی، اس دوران ڈی آئی جی وقاص نذیر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس کی جانب سے منشا بم سے واگزار کرائی گئی زمین متاثرین کو واپس نہ کرنے پر پنجاب پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ ہے نئے پاکستان کی پولیس؟ پولیس کو شرم آنی چاہیے، گالیاں بھی کھاتی ہے، ایک منشا بم پولیس سے قابو میں نہیں آ رہا۔

چیف جسٹس نے ڈی آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ یہ قانون کی رکھوالی کررہے ہیں؟ آپ بدمعاشوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: لاہور: منشا بم اور بیٹوں کے وارنٹ گرفتاری جاری

اس پر ڈی آئی جی وقاص نذیر نے بتایا کہ منشا بم اور خادم حسین رضوی کو پولیس نے ہی حراست میں لیا ہے، پولیس عدالتی حکم پر من و عن عمل کر رہی ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی کیا منشا بم سے رشتے داری ہے، کیوں اسے بچا رہے ہیں، آپ یونیفارم میں واپس نہیں جائیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پورا لاہور آپ کے ماتحت آتا ہے؟ جس پر ڈی آئی جی نے جواب دیا کہ جی سارا لاہور میرے ماتحت آتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو پھر ایک منشا بم کیوں قابو نہیں آرہا؟

دوران سماعت عدالت میں ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ اراضی واگزار کرانے کے باوجود قبضہ نہیں دیا جارہا، سول جج نور محمد میرے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں جبکہ منشا بم اور ان کے وکلا سے تمیز سے پیش آتے ہیں۔

اس موقع پر ڈی جی ایل ڈی اے نے بتایا کہ جگہ کی نشاندہی کے لیے ڈی سی کو خط لکھا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج رات 12 بجے سے پہلے نشاندہی کرکے متاثرین کو قبضہ واپس دلوائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افضل کھوکر، منشا بم جو اس کیس میں اثر انداز ہورہا ہے، ان سب کو بلا رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور کو فوری طور پر طلب کرلیا جبکہ ساتھ ہی سیشن جج اور متعلق سول جج برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی نور محمد کو بھی چیمبر میں طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو آئی جی پنجاب اور ڈی سی صالح سعید پیش ہوئے جبکہ چیف جسٹس نے بیرون ملک پاکستانیوں کے کیسز کی سماعت کرنے والے سول جج کو تبدیل کردیا۔

چیف جسٹس کی جانب سے منشا بم کیس کے مدعی محمود ارشد کی شکایت پر جج کو تبدیل کیا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں آئی جی پنجاب، جس پر امجد جاوید سلیمی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں بہت مایوس ہوا جب یہ پتہ چلا کہ پولیس کو گالیاں دی گئی، ایس پی معاز نے بھریعدالت میں بتایا تھا کہ بدمعاش نے ننگی گالیاں دیں، بڑے وثوق کے ساتھ کہتے تھے کہ قبضہ مافیا سے زمین واگزار کروا رہے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کہ کیوں نہ وزیراعلی پنجاب کو بلا لیں، کتنے دن آپریشن چلایا؟ 2 دن؟ آپ کو قبضہ مافیا کے خلاف ڈیسک کھولنا چاہیے تھی، آپ تو منشاء بم کو گرفتار نہیں کر سکے، یہ ہے پولیس کی کارکردگی؟

چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کیا کہ میں آپ کو مضبوط بنانے کی کوشس کر رہا ہوں، خدارا آپ مضبوط بنیں، جس پر آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے کہا کہ پولیس نے اپنا بہترین کام کیا ہے۔

چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے مکالمہ کیا کہ وزیر اعلیٰ نے شور مچایا تھا کہ ہم بلا امتیاز کارروائی کرکے اراضی واگزار کرائیں گے، آپ نے 2 دن آپریشن کیا، پھر چپ کر کے بیٹھ گئے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کے ڈی آئی جی کہتےہیں کہ متاثرین کے متعلق کوئی رپورٹ پیش نہیں ہوئی، جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ پولیس نے منشا بم کی گرفتاری اور زمینوں کو واگزار کرانے میں پوری محنت کی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے آپ تو منشاء بم کو گرفتار نہیں کر سکے تھے، یہ مری میں گھوم رہا تھا، سپریم کورٹ میں آکر گرفتاری دی، عدالت عظمیٰ نے منشا بم کو گرفتار کروایا،اب بتائیں کیسے آپ نے بہترین کام کیا؟

جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروائیں، اب وہ ایل ڈی اے کے پاس ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ تو ابھی بھی گھوم رہے ہیں، منشاء نہیں تو افضل بٹ ہو گا۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ہم نے اراضی واگزار کروانے کے لیے تمام محکموں کو خط لکھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو قبضوں کے خلاف اشتہار دینا چاہیے تھا، اس پر آئی جی نے کہا کہ انشاء اللہ اشتہارات بھی دے دیں گے۔

امجد جاوید سلیمی نے کہا کہ عدالت نے قبضہ مافیا کے خلاف سی سی پی او کی رپورٹ کو سراہا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار محمود اشرف سے مکالمہ کیا کہ میں نے اس جج کا ٹرانسفر کر دیا جو انصاف فراہم نہیں کر رہا تھا، ساتھ ہی سیشن جج لاہور کو کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مقدمات کی سماعت کے لیے کسی تگڑے جج کو لگائیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ اعلان کروائیں، اشتہار دیں، بے کس لوگوں کی جائیدادیں واگزار کروائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ڈی آئی جی آپریشنز وقاص نذیر کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں، لہٰذا ایک ہفتے میں تمام قبضے واگزار کروائیں۔

چیف جسٹس نے ڈی سی لاہور صالحہ سعید سے مکالمہ کیا کہ ایک بات بتادوں، ابھی برطانیہ گیا، جو پاکستان سے پیار کرتے ہیں، ان لوگوں نے خود مجھے بلایا، یہ ان کی جائیدادیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں،جنہیں ہم نے پیار دینا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈی جی ایل ڈی اے سے استفسار کیا کہ واگزار کرائی گئی اراضی مالکان کو کیوں نہیں دی گئی، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جوہر ٹاؤن سے پہلے یہ جگہ نجی سوسائٹی تھی، اس پر درخواست گزار نے کہا کہ میرے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے۔

ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ تحصیلدار نے بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر آفس کے پاس قبضہ والی جگہ کا ریونیو ریکارڈ موجود نہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے سب تحصیل داریاں ختم کردیں۔

اس موقع پر عدالت میں منشا بم نے ہاتھ جوڑ کر آبدیدہ ہوتے ہوئے رحم کی اپیل کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت رونا یاد نہیں آیا جب لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے تھے، تمہیں خوف خدا نہیں، کیا مرنا یاد نہیں ہے؟ جس پر منشا بم نے کہا کہ میں نے کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے کہ اتنا رونے کی ضرورت نہیں، جب ظلم کرتے تھے تب خدا کا خوف نہیں آیا؟ اس پر منشا بم نے کہا کہ زمین میرے باپ نے خریدی تھی۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کی کھل کر تفتیش کریں، کبھی کرامت کھوکھر آجاتا ہے تو کبھی افضل کھوکھر آجاتا ہے، ان سب کو عدالت میں پیش کریں۔

بعد ازاں عدالت نے ڈی سی لاہور کو آج ہی معاملات حل کرکے کل (اتوار) تک رپورٹ دینے کا حکم دیا، ساتھ ہی آئی جی پنجاب کو ایک ہفتے میں اراضی واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

منشا بم کا معاملہ

یاد رہے کہ منشا بم کا نام اس وقت خبروں کی زینت بنا تھا، جب ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور کے معروف علاقے جوہر ٹاؤن میں 9 پلاٹس پر منشا بم نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ قبضہ گروپ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مختلف مقدمات میں مطلوب منشا بم کو پولیس تحویل میں دے دیا گیا

اس معاملے پر چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کی تھی، بعد ازاں یکم اکتوبر کو سپریم کورٹ نے منشا بم کو فوری گرفتار کرنے اور قبضہ کی گئی تمام اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا تھا۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے منشا بم اور ان کے چاروں بیٹوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا بھی حکم دیا تھا۔

جس کے بعد لاہور میں قبضہ گروپ کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا گیا تھا، تاہم منشا بم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

بعد ازاں 15 اکتوبر کو منشا علی کھوکھر عرف منشا بم گرفتاری دینے کے لیے خود سپریم کورٹ پہنچے تھے، جہاں انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔