اپوزیشن کا نئے صوبے سے متعلق حکومتی ارادے پر شکوک وشبہات کا اظہار

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2018

لاہور: اپوزیشن جماعتوں نے حکمران جماعت کی جانب سے نئے صوبے کے قیام سے متعلق ارادے پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا۔

ساتھ ہی انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت کے وعدے پر اس وقت تک عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک وہ کوئی واضح تجویز پیش نہیں کردیتی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام میں آئینی ترمیم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کریں گے۔

خیال رہے کہ ایک آئینی ترمیم کے لیے 2 تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے تاکہ اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا جائے جبکہ نئے صوبے کی تجویز کے لیے صوبائی اسمبلی میں بھی برابر کی اکثریت ہونی چاہیے۔

تاہم تحریک انصاف کی قیادت میں حکمران اتحاد کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور پنجاب اسمبلی میں مطلوبہ تعداد کی کمی ہے۔

مزید پڑھیں: ’جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا آسان کام نہیں‘

اس معاملے پر سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’انڈے اور مرغی‘ کی حکومت کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا، خاص طور پر جب حکمران اتحاد اس معاملے پر متفق نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پنجاب کی تقسیم کا سوچنا چھوڑ دے کیونکہ اس کے بعد مرکزی پنجاب کے 25 سے زائد اضلاع میں وہ اپنا کنٹرول کھو دے گی، جہاں مسلم لیگ (ن) نے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور حکمران جماعت جنوبی پٹی کے 11 اضلاع تک محدود ہوجائے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی تجویز پیش کی گئی تو ان کی جماعت اس پر رسمی ردعمل دے گی۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ایک اور سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے اس بات کو واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی صورت میں صرف جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حمایت نہیں کرے گی بلکہ وہ ملک بھر میں نئے وفاقی یونٹس کی ضرورت کو دیکھنے کے لیے قومی کمیٹی کے قیام کا خیال واپس لے لے گی۔

انہوں نے اپنی پارٹی کی حمایت کی شرط بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کی طرح ایک قومی کمیشن بنایا جائے جو دیکھے اور فیصلہ کے کہ کہاں انتظامی حقائق کو دیکھتے ہوئے نئے صوبوں کی ضرورت ہے‘۔

سابق وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ مئی 2012 میں پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام کے لیے صوبائی اسمبلی میں قرار داد کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا، جس میں بھی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی کمیشن کا قیام ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جب بھی پنجاب کی تقسیم کی بات کی جائے گی بہاولپور صوبے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘جنوبی پنجاب کو انتظامی لحاظ سے صوبہ بنایا جائے‘

علاوہ ازیں پی پی پی کے فنانس سیکریٹری اور ماہر قانون حیدر زمام قریشی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پنجاب حکومت کی جانب سے بنائے گئے مشاورتی کونسل سے اپوزیشن کو نکالنے سے پی ٹی آئی کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کس طرح آئینی ترمیم کے لیے ہماری حمایت چاہتی ہے، جب وہ اس معاملے پر ہمیں اعتماد میں ہی نہیں لے رہی؟'

پی پی پی رہنما نے جنوبی پنجاب سیکریٹری کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس مقصد کے لیے کام نہیں کرے گا اور ’فیصلہ سازی کے اختیارات لاہور کے پاس باقی رہیں گے اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری مقامی طور پر فیصلہ لینے کے بجائے صوبائی دارالحکومت کو فائلیں منتقل کریں گے‘۔

تبصرے (0) بند ہیں