حکومت کا تمباکو، چینی سے بنی مصنوعات پر 'گناہ ٹیکس' لگانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2018

ای میل

وفاقی وزیر نے یہ اعلان وزارت صحت کے تحت ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا—فوٹو بشکریہ فیس بک
وفاقی وزیر نے یہ اعلان وزارت صحت کے تحت ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا—فوٹو بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: سول سوسائٹی کی جانب سے مسلسل آواز اٹھانے پر وفاقی وزیر برائے صحت عامر محمود کیانی نے اعلان کیا ہے کہ سیگریٹ اور چینی سے بنے مشروبات پر جلد ’سِن ٹیکس‘ (یا گناہ ٹیکس) عائد کیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیلتھ سروس اکیڈمی میں صحت عامہ کے حوالے سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت بجٹ میں صحت کے لیے مختص رقم کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صحت بجٹ میں اضافے کے لیے متعدد ذرائع استعمال کیے جائیں گے، جس میں سے ایک تمباکو سے بنی چیزوں اور میٹھے مشروبات پر ’سِن ٹیکس‘ عائد کرنا بھی ہے جس سے حاصل ہونے والی آمدنی صحت کے بجٹ میں استعمال کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ ڈبے کے جوس پینا پسند کرتے ہیں؟ تو خود کو فوری روک لیں

وفاقی وزیر نے بتایا کہ فی الحال حکومت جی ڈی پی کا محض 0.6 فیصد صحت پر خرچ کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں پر ’سِن ٹیکس‘ لگانے کی تجویز متعدد مرتبہ دی جاچکی ہے تاکہ حکومت کو صحت کی مد میں ہونے والے اخراجات میں معاونت مل سکے۔

اس بارے میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا تھا کہ 45 کے قریب ممالک میں تمباکو اور چینی سے بنے مشروبات پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ’سِن ٹیکس‘ ایک بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جو بطور خاص ایسی اشیا کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، مثلاً تمباکو، ٹافیاں، سافٹ ڈرنکس، فاسٹ فوڈ، کافی اور چینی وغیرہ۔

مزید پڑھیں: تمباکو نوشی چھوڑنے کے بعد دل کی صحت کب تک بہتر ہوتی ہے؟

خیال رہے کہ امریکا تقریباً 1.5 ڈالر (200 کے قریب پاکستانی روپے) سگریٹ کے ایک پیکٹ پر ’سِن ٹیکس‘ کی مد میں وصول کرتا ہے جبکہ برطانیہ چینی سے بنے مشروبات پر فی لیٹر 40 پینس (تقریباً سو روپے) وصول کرتا ہے۔

اسی طرح تھائی لینڈ اور دنیا کے دیگر متعدد ممالک میں صحت کے مسائل کا سبب بننے والی مصنوعات پر ٹیکس لیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ بھارت میں بھی بیماریوں کا سبب بننے والے گٹکے، پان مصالحے پر ٹیکس لگایا گیا تھا جس سے حااصل ہونے والی آمدنی کو صحت عامہ کے شعبے میں ہی خرچ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تمباکو نوشی صحت کے لیے اندازوں سے بھی زیادہ تباہ کن

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ابھی اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ کتنا ’سِن ٹیکس‘ لگایا جائے گا لیکن یہ یقیناً کافی زیادہ رقم ہوسکتی ہے۔