آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2018

ای میل

شہباز شریف کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا—فائل فوٹو
شہباز شریف کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا—فائل فوٹو

لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔

احتساب عدالت میں پیشی کے دوران وکلا کو کمرہ عدالت میں جانے سے روکا گیا، جس پر پولیس اور وکلا میں تکرار ہوئی اور وکلا نے کمرہ عدالت کے باہر سخت نعرے بازی کی۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کمرہ عدالت کی کھڑی سے ہاتھ جوڑ کر وکلا کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: لاہور: شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دسمبر تک توسیع

بعد ازاں احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کیس کی سماعت کی، جہاں نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے شہباز شریف کے 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

اس پر شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جہاں تک میرے موکل کی ذات کا تعلق ہے تو 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے اور ہر چیز واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ریکارڈ بھی ٹیکس میں ہے اور نیب نے عدالت سے غلط بیانی کرکے پچھلا ریمانڈ لیا تھا۔

وکیل نے کہا کہ ٹیکس قوانین میں تحائف کا ذکر کرنا ضروری نہیں تھا، ذاتی 20 کروڑ کی اراضی کی رقم سے تحائف دیے اور تحائف آمدنی سے زائد نہیں ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کے قانون کے تحت اپنے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانا جرم نہیں ہے، جو بھی تمام رقم نکلوائی وہ شہباز شریف نے اپنے اکاؤنٹ سے نکلوائی۔

امجد پرویز نے بتایا کہ رمضان شوگر ملز سے شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں، یہ میرے بیٹے کی ملکیت ہے، شہباز شریف سیاست میں ہیں، وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں، اس لیے الزام لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے آمدن سے زائد اخراجات کہیں نظر نہیں آئے، اگر ٹیکس ریٹرن سے رقم زیادہ ہوتی تو جرم تھا۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے کی منسوخی کی بات ہے تو سب کچھ سامنے آ چکا ہے، اس کیس میں میں سارے مفروضے ہیں، لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کے سینے میں گِلٹیوں کی موجودگی کا انکشاف

بعد ازاں عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

ساتھ ہی عدالت نے 13 دسمبر کو دوبارہ شہباز شریف کو عدالت پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

نیب کی تفتیشی رپورٹ

بعد ازاں نیب کی جانب سے شہباز شریف کی اب تک کی تفتیشی رپورٹ پیش کی گئی۔

نیب کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف اب تک اپنے بیٹوں کو دیے گئے تحائف کی مد میں 17 کروڑ روپے سے زائد آمدن کے ذرائع نہیں بتا سکے۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اکاونٹ میں 2011سے 2017 کے دوران 14 کروڑ روپے سے زائد منتقل ہوئے لیکن وہ اس آمدن کے ذرائع نہیں بتا سکے۔

تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بطور کرایہ رمضان شوگر مل کے توسط سے مری میں ایک جائیداد کی لیز کے طور پر حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں مصرور انور نامی شخص کے ذریعے 2014 سے 2017 کے درمیان 5کروڑ 50 لاکھ روپے منتقل ہوئے اور شہباز شریف اس رقم کی ٹرانزیکشن کے حوالے سے بھی نیب کو جواب نہ دے سکے۔

نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5کروڑ کی اس ٹرانزیکشن میں سے 3 کروڑ 90 لاکھ روپے 2013 سے 2015 کے درمیان شہباز شریف کے اکاونٹ میں منتقل ہوئے اور اس وقت وقت آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کے ٹھیکے کا عمل چل رہا تھا۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق مصرور انور اور مزمل رضا شریف خاندان کے ملازم ہیں جو کہ اس دوران متعدد مرتبہ شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرتے رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مصرور انور اور مزمل رضا نے 2010 سے 2017 کے دوران ملک مقصود احمد کے اکاؤنٹ میں 3 ارب 40 کروڑ روپے منتقل کیے جبکہ شہباز شریف نے دوران تفتیش مصرورانور اور ملک مقصود احمد کو پہنچاننے سے انکار کردیا۔

نیب رپورٹ کے مطابق ملک مقصود احمد کے بینک ریکارڈ کے مطابق ان کا دفتری پتہ اور ٹیلی فون نمبر بالکل وہی ہیں، جو شہباز شریف کا دفتری پتہ اور ٹیلی فون نمبر ہے۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق نیب لاہور نے ملک مقصود احمد، مصرور انور، فضل داد عباسی کو ان مشکوک ٹرانزیکشن کی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔

پولیس اور لیگی کارکنوں میں تصادم

قبل ازیں شہباز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر عدالت پہنچنے کی کوشش کرنے والے لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان دھکم پیل ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے تصادم کی شکل اختیار کرگئی۔

لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوا—فوٹو: ڈان نیوز
لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم ہوا—فوٹو: ڈان نیوز

ڈان نیوز کے مطابق لیگی کارکنوں کی جانب سے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی گئی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی جارچ کیا، جس سے متعدد کارکنوں زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کی جانب سے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ لیگی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

ادھراس تصادم پر مسلم لیگ(ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب ہمارے پرامن کارکنوں پر تشدد ریاستی دہشت گردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہمارے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، انہیں فوری رہا کیا جائے۔

مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا کہ لاٹھی چارج کرنے والے پولیس اہلکارون کو فوری گرفتار کیا جائے۔

اسی تمام صورتحال پر مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ابھی ہم نے اپنے کارکنوں کو احتجاج کی کال نہیں دی، اگر ہم نے احتجاج کی کال دی تو یہاں لاکھوں کا سمندر جمع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پرامن کارکنوں پر لاٹھی چارج بزدل حکومت کا خوف ہے، ہمارے کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

علاوہ ازیں ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پولیس کو بھی تحمل کامظاہرہ کرنا چاہیے، عوام سے اپیل ہے کہ پر امن احتجاج کریں۔

محمد زبیر نے کہا کہ اگر کوئی ریفرنس ہے تو فائل کیا جائے ورنہ شہباز شریف کو چھوڑ دیا جائے۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ لاہور مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے، گرفتاری پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے۔

شہباز شریف کی گرفتاری اور ریمانڈ

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں 6 اکتوبر کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ پر انہیں نیب کے حوالے کیا تھا۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

16 اکتوبر کو 10 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو دوبارہ عدالت پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی۔

اس کے بعد 29 اکتوبر کو انہیں دوبارہ عدالت پیش کیا گیا جہاں 7 نومبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ 3 روز کا راہداری ریمانڈ بھی دیا گیا۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے انہیں اسلام آباد لے جایا گیا، جہاں 31 اکتوبر کو پہلے ان کے راہداری ریمانڈ میں 6 نومبر توسیع کی گئی تھی، جسے بعد میں عدالت نے بڑھا کر 10 نومبر تک کردیا تھا۔

10 نومبر کو شہباز شریف کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی تھی۔

اس کے بعد 22 نومبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے شہباز شریف کا راہداری ریمانڈ لینے کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے 7 روز کا راہدری ریمانڈ مںظور کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 28 نومبر کو شہباز شریف کو ایک مرتبہ پھر لاہور کی احتساب عدالت میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے 6دسمبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔

آشیانہ اسکینڈل میں شہباز شریف پر الزامات

5 اکتوبر کوشہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب نے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل:شہباز شریف کا 7 روزہ راہداری ریمانڈ منظور

نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔