2018 میں پاکستان میں ہونے والے سالانہ ادبی میلے اور علمی سرگرمیاں

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2018

ای میل

دنیا بھر میں ادبی میلوں کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کے ذریعے مصنف اور قاری کے مابین شعوری طور پر فاصلہ کم کیا گیا۔ کسی زمانے میں قارئین کتابیں پڑھنے کے بعد تصوراتی طور پر طے کرتے تھے کہ متعلقہ کتاب کو لکھنے والے مصنف کی شخصیت کیسی ہوگی، وہ عام زندگی میں کیسا دکھائی دیتا ہوگا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ عالمی ادب میں کتاب اور قاری کے درمیان ادبی فیسٹیولز کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے سے براہ راست مخاطب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ادبی میلوں کی تاریخ کو کھنگالا جائے، تو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی اس طرح کی سرگرمیوں کے آثار ملتے ہیں، مگر وہ نقش کافی دھندلے ہیں، البتہ 70ء اور 80ء کی دہائی تک آتے آتے پاکستانی ادب نے مغربی رنگ ڈھنگ اپنانا شروع کیا، جس کے نتیجے میں ادبی میلوں کی روایت بھی ہمارے ہاں عود آئی۔ اردو زبان اور پاکستانی ادب کے نام پر ادبی میلے اور کانفرنسیں سجائی جانے لگیں۔ نئی صدی کے ابتدائی برسوں میں اس طرح کی سرگرمیوں نے زور پکڑا اور اب عہدِ حاضر میں یہ اپنے عروج پر ہیں۔

کراچی کے ادبی میلے

عہدِ حاضر میں شروع ہونے والے ادبی میلوں کی ابتدا ’کراچی لٹریچر فیسٹیول‘ سے ہوتی ہے، جس کو بھارت کے مقبول ادبی میلے ’جے پور لٹریچر فیسٹیول‘ سے متاثر ہوکر پاکستان میں شروع کیا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی کی ڈائریکٹر امینہ سید نے جب اس بھارتی ادبی میلے میں شرکت کی تو انہیں خیال آیا کہ پاکستان میں بھی اس طرح کا ادبی میلہ منعقد کیا جانا چاہیے، اس کے لیے انہوں نے معروف ادیب آصف فرخی کے ساتھ مل کر اس میلے کی بنیاد رکھی، جس کو ابتدا میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔

2009ء میں شروع ہونے والا ادبی میلہ 8 برسوں سے جاری ہے۔ ابتدائی برسوں میں پسند کیا جانے والا ادبی میلہ اب ایک مخصوص طبقے کا میلہ بنتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس کی ایک اور وجہ ادبی میلے میں یکسانیت، غیر ادبی موضوعات کی بھرمار ہونا بھی ہے۔

کراچی لٹریچر فیسٹول

کراچی لٹریچر فیسٹیول کی بھرپور کامیابی کے بعد اسلام آباد میں بھی اسی طرز کا ادبی میلہ شروع کیا گیا۔ 5 برس سے یہ میلہ کامیابی سے وہاں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی کراچی کے ادبی میلے کے خطوط پر ہی کام کیا جاتا ہے، جس میں پاکستان اور دنیا بھر کے ممالک سے ادیب شرکت کرتے ہیں، زیادہ تعداد انگریزی زبان و ادب میں لکھنے والوں کی ہوتی ہے۔

مختلف ممالک کے سفارت خانوں کی مدد سے منعقدہ اس ادبی میلے میں مختلف ادبی تصنیفات پر اعزازات بھی دیے جاتے ہیں۔ 2017ء میں کراچی لٹریچر فیسٹیول کی ایک کڑی کے طور پر اس کا لندن ایڈیشن بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کی ابتدا ہوئے ابھی ایک برس ہی ہوا ہے، جس میں پاکستانی اور غیر ملکی مصنفین نے شرکت کی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی کے تحت، شہرِ قائد میں مختلف اسکولوں کے اشتراک سے ’ٹیچرز لٹریچر فیسٹیول‘ کا انعقاد بھی کیا گیا، لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا، البتہ ’چلڈرن لٹریچر فیسٹیول‘ متعارف کروایا گیا جس کو خاصی پذیرائی ملی اور وہ اب نہ صرف کراچی، بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں، جیسے سکھر، بہالپور، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس ادبی میلے میں بچوں کے لیے ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 8 سال سے بچوں کایہ ادبی میلہ ہورہا ہے۔ اس میلے کی بنیاد ڈالنے والوں میں امینہ سید اور ماہرِ تعلیم بیلارضا جمیل شامل ہیں۔

عالمی اردو کانفرنس

آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے تحت ہونے والی عالمی اردو کانفرنس رواں برس اپنے 11 سال پورے کرچکی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں اردو زبان اور شعر و ادب کے علاوہ پاکستان کی دیگر زبانوں اور ادب کو بھی جگہ دی جانے لگی ہے۔ اس دوران کئی طرح کے اعزازات بھی دیے جاتے ہیں، جن میں سرفہرست لائف اچیومنٹ ایوارڈ ہے، جو 2 سال سے دیا جا رہا ہے، گزشتہ برس یہ ایوارڈ معروف ڈراما نویس، گیت نگار اور مصور انور مقصود کو دیا گیا جبکہ اس سال فلم اور ٹیلی وژن کے لیے خدمات کے اعتراف میں معروف اداکار اور صدا کار ضیا محی الدین کو دیا گیا۔ زبان و ادب کے علاوہ رقص اور موسیقی کی محفلیں بھی اس کانفرنس کا حصہ ہوتی ہیں۔

11ویں عالمی اردو کانفرنس۔

11 برسوں سے ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان اور دنیا بھر سے اردو زبان کے دانشور بھی شریک ہوتے ہیں، گزشتہ برس جاپان سے ’پروفیسر ہیروجی کتاؤکا‘ اور اس برس چین سے ایک دانشور ’ٹینگ مینگ شینگ‘ کو مدعو کیا گیا۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کانفرنس ہے، جس کے بعد دیکھا دیکھی دوسرے شہروں میں بھی کانفرنسوں کی ابتدا ہوئی، لیکن دورِ حاضر کی پہلی جدید کانفرنس کا اعزاز کراچی آرٹس کونسل کے نام ہی ہے۔

سندھ لٹریچر فیسٹیول

رواں برس تیسرا سندھ لٹریچر فیسٹیول 28 سے 30 دسمبر تک کراچی کے تاریخی اسکول این جی وے میں ہوگا، جس کا عنوان ’پرانے کراچی سے نئی محبت‘ ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ادب، تاریخ، ثقافت، صحافت، سیاست سمیت کئی موضوعات پر بات چیت ہوگی۔

سندھ لٹریچر فیسٹیول

پاکستان بھر سے علمی و ادبی شخصیات شامل ہوں گی۔ اس میلے میں سندھی زبان و ادب کو اہمیت دی جاتی ہے اور یہ بھی کراچی لٹریچر فیسٹیول کی طرز پر ہوتا ہے، جس میں سندھی اور اردو زبان میں گفت وشنید ہوتی ہے۔

لاہور میں منعقد ہونے والے ادبی میلے

عالمی الحمرا ادبی و ثقافتی کانفرنس

کراچی ہونے والی ادبی کانفرنس کی پیروی میں، لاہور کی الحمرا آرٹس کونسل میں معروف ادبی شخصیت عطاالحق قاسمی کی زیرِقیادت ’عالمی الحمرا ادبی و ثقافتی کانفرنس‘ کو شروع کیا گیا مگر محض 4 سال تک جاری رہنے کے بعد یہ کانفرنس دم توڑ گئی، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہی بوسیدہ انداز اور پرانے چہرے اس کانفرنس میں شامل کیے گئے، اور یوں ادبی دنیا میں جلد ہی اس کا اثر زائل ہوگیا۔ اب کچھ برس سے اس کا انعقاد نہیں ہورہا ہے۔

لاہور لٹریچر فیسٹیول

اس شہر میں دوسرا بڑا ادبی میلہ ’لاہور لٹریچر فیسٹیول‘ ہے، جس کو بے حد پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ یہ بھی کراچی کے ادبی میلے کی طرز پر سجایا جاتا ہے، جس میں پاکستان اور دنیا بھر سے فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ 6 سال سے یہ فیسیٹیول کامیابی سے جاری ہے۔ اس ادبی میلے کا بھی توسیع شدہ ایڈیشن لندن میں منعقد کیا گیا، جو ابھی تک صرف ایک مرتبہ ہی منعقد ہوسکا ہے۔

فیض انٹرنیشنل فیسٹیول

تیسرے بڑے ادبی میلے کی شہرت ’فیض انٹرنیشنل فیسٹیول‘ ہے، جو پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض سے منسوب ہے، اس میں فیض کی شخصیت اور دیگر ادبی پہلوؤں سے میلہ سجایا جاتا ہے۔ اس سال بھارت سے جاوید اختر، شبانہ اعظمی و دیگر کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

فیض انٹرنیشل فیسٹیول
فیض انٹرنیشل فیسٹیول

بھارتی شاعر جاوید اختر اور بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی چوتھے سالانہ فیض انٹرنینشل فیسٹول میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے—اے پی پی
بھارتی شاعر جاوید اختر اور بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی چوتھے سالانہ فیض انٹرنینشل فیسٹول میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے—اے پی پی

حاضرین میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی میلے میں شریک ہوئی۔ اس میلے کے انعقاد کا چوتھا سال ہے، جس کے روح رواں فیض کے خاندان کے کئی افراد جن میں ان کی بیٹیاں سلیمہ ہاشمی، منزہ ہاشمی اور دیگر ہیں۔ کراچی میں بزم افکار نامی ادبی تنظیم نے اسی میلے کی نقالی کے طور پر فیض میلہ منعقد کرنے کی کوشش کی تھی، جو ناکام رہی۔

لاہور میں جامعات اور ادبی تنظیموں کے تحت بھی مختلف ادبی میلے ہوتے رہتے ہیں، جیسا کہ الحمرا آرٹس کونسل میں ہی ’خیال کانفرنس برائے آرٹ اینڈ لٹریچر‘ جو کچھ عرصہ پہلے ہی منعقد ہوئی تھی۔ اسی طرح معروف تدریسی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور ’راوی لٹریچر سوسائٹی‘ اپنے پروگرام کرتی ہے۔ ان کے علاوہ شہر کے مختلف ادیب و شاعر اپنے ہاں تقریبات اور محفلیں برپا کرتے ہیں، وہ سب بھی اسی ادبی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایکسپو سینٹر میں ہونے والا سالانہ کتب میلہ اس کے علاوہ ہے۔

اسلام آباد کے ادبی میلے

یہاں سرفہرست ادبی میلہ تو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوتا ہے، جس کی تفصیل اوپر بتائی جاچکی ہے، اس کے علاوہ ماضی قریب میں پروین شاکر کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کچھ برسوں سے لوک ورثہ کی طرف سے مادری زبانوں کا میلہ بھی منعقد کیا جاتا ہے، جس میں ادب و ثقافت بھی زیربحث آتے ہیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی طرف سے قومی کتاب میلہ بھی ہر سال سجایا جاتا ہے، اس کا انعقاد بھی کئی برسوں سے کامیابی سے جاری ہے۔ اس سال یہ پاک چائنہ فرینڈشپ سینٹر میں منعقد ہوا تھا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت تعلیمی ادارے بھی اس طرح کی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ رواں برس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے ادبی میلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں ہونے والے ادبی میلے

رواں برس بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ادبی میلہ سجایا گیا، جس میں مقامی ادیبوں اور صحافیوں سمیت ملک بھر سے شعرا و ادبا نے شرکت کی۔ اسی انداز کے ادبی میلوں میں جو شہر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، ان میں حیدرآباد، ملتان، ساہیوال، جہلم، فیصل آباد، گوجرانوالہ، منڈی بہاوالدین اور سرگودھا شامل ہیں۔ ان تمام شہروں میں چھوٹے بڑے پیمانے پر ادبی میلوں کا انعقاد جاری ہے، کتب میلے بھی عمدہ انداز میں سجائے جاتے ہیں اور ادبی شغف رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہوتی ہے۔

کوئٹہ لٹریری فیسٹیول

21 دسمبر سے کراچی کے ایکسپو سینٹر میں 14واں کتب میلہ سجنے جا رہا ہے، جبکہ کچھ عرصہ پہلے ہی پیراماؤنٹ بکس، کراچی اور لاہور بک فیئر کے علاوہ، اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کتب میلے اپنے اختتام کو پہنچے ہیں۔

دسمبر کو کراچی میں سندھ لٹریچر فیسٹیول شروع ہوگا، جبکہ فروری میں کراچی لٹریچر فیسٹیول پھر سے سجے گا، گزشتہ برس کی طرح مارچ میں گوادر کتب میلہ بھی منعقد ہوگا اور مذکورہ بالا ترتیب سے دیگر ادبی وکتابی میلے اپنے اپنے شہروں میں منعقد ہوں گے، جہاں تشنگان علم وادب اپنی علمی پیاس بجھائیں گے۔

سارک ممالک کے تحت بھی ایک ادبی فیسٹیول ہوتا ہے، جس میں پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے لکھاری شریک ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے چند بڑے ادبی میلوں میں رواں برس جو میلے جاری ہیں۔ ان میں سے 11 ادبی میلوں کی فہرست بھی آپ یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں، جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اب ادب کے نام پر کسی طرح کی ادبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان میں سے بہت ساری تجارتی مقاصد کے تحت منعقد ہوتی ہیں۔ دنیامیں اب اس بات کو بھی موضوع بنایا جارہا ہے کہ ادب کے نام پر ان میلوں ٹھیلوں کی نفسیات کیا ہے اور کیا یہ ادبی وعلمی فروغ میں بھی کوئی کردار ادا کر رہے ہیں یا صرف چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہمیں اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر اتنے سارے شہروں میں ادبی و کتابی میلے منعقد ہونے کے باوجود کتب بینی کا رجحان کیوں کم ہو رہا ہے؟ اس صنعت سے وابستہ اور لکھنے پڑھنے والے لوگوں تک اس کے ثمرات کیوں نہیں پہنچ رہے؟ کیا یہ صرف ایک تجارتی سرگرمی بن کررہ گئی ہے؟ یا اس کا کوئی عملی مقصد بھی ہے۔ ان سارے پہلوؤں سے سوچنا بھی ضرور ی ہے۔ ان ادبی میلوں میں ضرور جایا جائے، مگر کچھ حاصل کرنے کے لیے، نہ کہ صرف وقت گزاری کے لیے، جو اس طرح کے میلوں کا خاصا بنتا جا رہا ہے۔

شعور اور ادراک کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے کتاب کے دروازے پر دستک دینا بہت ضروری ہے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، ساتھ ساتھ اپنے مطالعہ کے سلسلے کو دوبارہ فعال کیجیے کیونکہ یہ بات کون نہیں جانتا کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔