آن لائن فوڈ ڈیلیوری کے کھانے کھانے والا شخص نوکری سے فارغ

ای میل

ویڈیو میں ڈیلیوری مین مزے سے کھانے کھاتے ہوئے نظر آتا ہے—اسکرین شاٹ
ویڈیو میں ڈیلیوری مین مزے سے کھانے کھاتے ہوئے نظر آتا ہے—اسکرین شاٹ

یقینا دنیا کے بڑے شہروں میں نوکری پیشہ افراد یا پوش علاقوں میں رہنے والے افراد آن لائن ڈیلیوری سروس کے تحت ہی کھانا منگواتے ہوں گے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں حالیہ چند سالوں میں آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروس کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کئی لوگوں کے کھانے پینے کے مسائل کو حل کردیا ہے۔

تاہم بعض مرتبہ آن لائن فوڈ منگوانا مہنگا بھی پڑ جاتا ہے، کیوں کہ بعض ڈیلیوری کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو بھوک لگنے یا کھانوں کا ذائقہ چکھنے کے لیے صارفین کا ہی کھانا کھا لیتے ہیں۔

اور ایسا ہی کچھ دلچسپ واقعہ بھارت میں بھی پیش آیا، جہاں کے فوڈ ڈیلیوری کرنے والے شخص نے ڈیلیوری کے کھانے کھا کر انہیں پیک کرکے صارف کو ڈیلیور کردیا۔

تاہم بعد ازاں یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد صارف کا کھانا کھانے والے ڈیلیوری مین کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔

یہ واقعہ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر مدورئی میں پیش آیا۔

ٹوئٹر، فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھارت کی سب سے بڑی آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروس فراہم کرنے والی کمپنی ’زوماٹو‘ کے ڈیلیوری مین کو ڈیلیوری کا کھانا کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ادھیڑ عمر کا شخص ڈیلیوری پیکٹ سے مختلف قسم کے کھانے نکال کر انہیں کھانے کے بعد دوبارہ پیک کرکے ڈیلیوری باکس میں رکھ رہا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈیلیوری مین کسی بھی خوف کے بغیر آرام سے ایک ڈیلیوری باکس کے کھانے کھا کر انہیں دوبارہ پیک کرکے انہیں ڈیلیوری کے لیے تیار کر رہا ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کو ’زوماٹو‘ کی شرٹ پہنے ہوئی دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھارت کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں نے ملک کی سب سے بڑی آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروس فراہم کرنے والی کمپنی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

لوگوں کی سخت تنقید کے بعد زوماٹو نے ایک بیان جاری کیا، جس میں لوگوں سے ڈیلیوری مین کے رویے پر معزرت کی گئی۔

زوماٹو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ڈیلیوری کا کھانا کھانے والے شخص کو نوکری سے برطرف کردیا گیا، کمپنی اس طرح کے کسی بھی عمل کو قبول نہیں کرتی۔

ساتھ ہی بیان میں لوگوں سے ڈیلیوری مین کے رویے پر معافی مانگی گئی اور اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کمپنی ایسے عمل میں مبتلا کسی بھی شخص کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔