اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ قابلیت شفقت محمود نے سینیٹ اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافے اور بہتر اقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے شرح خواندگی گزشتہ 2 سال کے عرصے کے دوران کم ہو کر 58 فیصد ہوگئی ہے۔

انہوں نے یہ بات سینیٹر عثمان کاکڑ کی جانب سے ملک میں خواندہ افراد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتائی۔

متعلقہ شعبے کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں خواندہ کی تعریف یہ بیان کی گئی کہ جو اخبار پڑھ سکے اور کسی بھی زبان میں سادہ سا خط تحریر کرسکے، تاہم ایسے افراد کی تعداد 15-2014 میں 60 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تعلیم کی صورتحال اندازوں سے بھی زیادہ بدترین

تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ خطے میں سب سے کم شرح خواندگی افغانستان میں ہے اور اس کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔

یونیسکو کی عالمی رپورٹ برائے تعلیم کے حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 15 سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد میں شرح خواندگی 57 فیصد، جبکہ ایران میں 73 فیصد، بنگلہ دیش میں 92 فیصد جبکہ سری لنکا اور مالدیپ میں یہ شرح 99 فیصد ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود شہریوں میں شرح خواندگی کے اضافے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے حوالے سے تشویش ہے۔

مزید پڑھیں: فاٹا میں خواتین کی تعلیمی شرح انتہائی کمتر سطح پر

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی بھی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں ، حالانکہ تعلیم نہ حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے زیادہ ہے لیکن دونوں کے درمیان فرق اتنا زیادہ بھی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ 70 سال بعد بھی پارلیمنٹ ملک میں کم شرح خواندگی کے مسئلے پر بحث کررہی ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے لیکن حکومت اس شعبے میں نئی پالیسیز اور منصوبے متعارف کروانے کی خواہشمند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اساتذہ اور تعلیم کیوں پیچھے ہے؟ آئیے بتاتے ہیں

اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ میں بالغان میں شرح خواندگی میں اضافہ کرنے کے لیے ایک خاکہ پیش کرنا چاہتا ہوں جس کی مدد سے اس میں 10 سے 15 فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم بالغان کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اعلیٰ ثانوی تعلیم کے بعد سماجی کام بطور لازمی مضمون متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں حصہ لینے والے بالغ طالبعلموں کو پڑھنے لکھنے کی بنیادی تربیت دی جائے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانونی تبدیلیوں اور صوبوں کی رضامندی شامل ہونا ضروری ہے۔


یہ خبر 21 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں