سوڈان میں 29 سال سے قائم صدارت کو خطرہ، ہزاروں افراد کا احتجاج

اپ ڈیٹ 26 دسمبر 2018

ای میل

سوڈان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتاج کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو بشکریہ الجزیرہ
سوڈان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتاج کا سلسلہ جاری ہے—فوٹو بشکریہ الجزیرہ

سوڈان میں ہزاروں مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب مارچ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے اور فائرنگ کی، مظاہرین ملک میں 29 سال سے صدر کے عہدے پر فائز عمر بشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سماجی کارکنان اور آن لائن پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خرطوم میں سیکڑوں ہزاروں افراد کا ہجوم سڑکوں پر جمع ہے اور دریائے نیل کے ساتھ ساتھ مارچ کرتے ہوئے صدارتی محل کی جانب رواں دواں ہے۔

اس کے ساتھ مظاہرین حب الوطنی کے نغمے گا رہے ہیں اور ’آزادی‘ اور ’چوروں سے امن‘ کے نعرے لگاتے ہوئے حکمرانوں کو سبکدوش ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: حکومت کے خلاف اپوزیشن، ڈاکٹرز کا شدید احتجاج

مارچ کو روکنے کے لیے خرطوم کی سڑکوں پر بھاری تعداد میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ فوجی اہلکار وں نے بکتر بند گاڑیوں میں گشت بھی کیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی، آنسو گیس کے شیل برسائے اور لاٹھی چارج بھی کیا لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے دوبارہ اکھٹا ہو کر مارچ جاری رکھا تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ احتجاج کی کال کچھ آزاد حیثیت میں کام کرنے والی یونینز نے دی تھی اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں، امہ اور ڈیموکریٹک یونینسٹ نے اس کی حمایت کی۔

مزید پڑھیں: سوڈان:ہیلی کاپٹر حادثے میں صوبے کے گورنر سمیت پولیس سربراہ جاں بحق

احتجاج کے منتظمین ایک پٹیشن جمع کروانا چاہتے تھے جس میں فوجی بغاوت کے بعد 1989 میں عہدہ صدارت حاصل کرنے والے صدر عمر بشیر سے منصب چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مظاہروں کا سلسلہ ایک ہفتے سے جاری ہے جن کا آغاز ایندھن اور خوراک میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج سے ہوا اور صدر عمر بشیر کے صدارت چھوڑنے کے مطالبے تک جا پہنچا۔

اس موقع پر ملک کے حکمران جنوبی خرطوم کے علاقے الجزیرہ میں موجود تھے جہاں انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کیا جبکہ سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق سڑک اور لڑکیوں کے اسکول کا افتتاح کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی سوڈان: ریپ اور قتل میں ملوث فوجیوں کو قید کی سزائیں

اپنے خطاب میں اسلام پسند رہنما عمر بشیر نے متعدد قرآنی آیات پڑھیں اور ملک کی ابتر معیشت کا ذمہ دار بین الاقوامی پابندیوں اور سوڈان کے دشمنوں کو ٹھہرایا جو اسے ترقی کرتے دیکھنا نہیں چاہتے۔

دوسری جانب مظاہرین کی جانب سے پیش کی جانے والی پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر اپنے اختیارات ٹیکنوکریٹس کی عبوری حکومت کومنتقل کردیں۔

مظاہرین نے دھمکی دی کہ وہ مزاحمت جاری رکھیں گے، ہڑتالوں اور سول نافرمانی سمیت ہر آپشن آزمائیں گے تا کہ حکومت کو گرایا جاسکے۔


یہ خبر 26 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔