’جہیز خوری بند کرو’ مہم کو سوشل میڈیا پر مذاق بنادیا گیا

اپ ڈیٹ 26 دسمبر 2018

ای میل

اس مہم کا آغاز 21 دسمبر کو یو این ویمن کے تعاون سے کیا گیا—فوٹو: ٹوئٹر
اس مہم کا آغاز 21 دسمبر کو یو این ویمن کے تعاون سے کیا گیا—فوٹو: ٹوئٹر

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی شرارتی افراد کی کوئی کمی نہیں، جو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کوئی مہم شروع ہوتی ہے اور وہ اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

اگرچہ پاکستان میں پہلے بھی مثبت مہم کو مذاق مذاق میں بے اثر بنایا جا چکا ہے، تاہم حال ہی میں شوبز شخصیات کی جانب سے شروع کی گئی ’جہیز خوری بند کرو’ جیسی مثبت مہم پر بھی لوگوں نے مزاحیہ شیئرنگس کرکے اسے مزاحیہ بنا ڈالا۔

پاکستان میں جہیز ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے کئی لڑکیوں کی شادیاں تک نہیں ہو پاتیں۔

تاہم ملک میں کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو اپنی رضا مندی سے ڈھیر سارا جہیز دیتے ہیں۔

شوبز شخصیات کی جانب سے جہیز کے خلاف شروع کی گئی مہم دراصل لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کے مطالبے کے خلاف شروع کی گئی تھی۔

جہاں کئی افراد نے ’جہیز خوری بند کرو’ کی مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنے ہاتھ پر مہندی یا کسی رنگ سے ’جہیز خوری بند کرو’ لکھ کر عوام میں شعور اجاگر کیا، وہیں کئی لوگوں نے اس مہم کا مذاق بھی اڑایا۔

’جہیز بند کرو’ مہم کا آغاز اقوام متحدہ (یو این) کے خواتین سے متعلق کام کرنے والے ذیلی ادارے یو این ویمن پاکستان کے تعاون سے شوبز شخصیات نے رواں ماہ کے وسط میں کیا تھا۔

یو این ویمن کے تعاون سے اداکار علی رحمٰن نے سب سے پہلے اس مہم کا آغاز کیا، جس کے بعد کئی شوبز شخصیات بھی اس مہم کا حصہ بنیں۔

تاہم جلد ہی ’جہیز خوری بند کرو’ کے مقابلے ’ٹریٹ لینا بند کرو’ رشوت لینا بند کرو، لڑکوں سے ایزی لوڈ مانگنا بند کرو اور ہر داڑھی والے کو مولانا کہنا بند کرو’ جیسے ٹرینڈز چل پڑے۔

علی رحمٰن کی جانب سے مہم کا آغاز 21 دسمبر کو کیا گیا۔

ایمن خان نے بھی جہیز خوری بند کرو کا ساتھ دیا۔

اداکارہ عائشہ عمر بھی اس مہم کا حصہ بنیں۔

عینی جعفری رحمٰن بھی اس مہم میں پیش پیش نظر آئیں۔

اس مہم کے بعد کچھ لوگوں نے اگرچہ جہیز کی طرح ہی دیگر بری رسومات کو ختم کرنے کی مہم بھی چلائی، تاہم زیادہ تر لوگوں نے مزاحیہ شیئرنگس کرکے مہم کو کچھ اور ہی رنگ دے دیا۔

بعض لوگوں نے انتہائی اہم مسائل کی جانب بھی لوگوں کی توجہ دلائی اور سماج میں رائج برے مسائل کو ختم کرنےکا مطالبہ کیا۔

کچھ افراد ذہنی مسائل اور بیماریوں کو بڑھانے والے مسائل کو ختم کرنے کی بات بھی کرتے نظر آئے۔

تاہم کئی افراد نے اس مہم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اندر کی بات بھی کہی اور دوستوں کی جانب سے بے جا ٹریٹ مانگے جانے کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔

View this post on Instagram

#jahezkhoribandkaro

A post shared by Comics By Nalaiks (@comics_by_nalaiks) on

کچھ لوگ داڑھی ہونے کی وجہ سے خود کو مولانا سمجھے جانے پر بھی بات کرتے نظر آئے۔

کچھ منچلے تو اس مہم کی آڑ میں اپنے دل کی بات کہتے دکھائی دیے۔

کچھ بیچارے یہ رونا روتے نظر آئے کہ لڑکوں سے ہی ایزی لوڈ کیوں مانگا جاتا ہے اور انہوں نے اس مطالبے کو بند کرنے کی مہم شروع کردی۔

کچھ لڑکے اس مہم کے ذریعے مخالف جنس کی جانب سے بے جا مطالبات کو ختم کرنے کی بات کرتے نظر آئے۔

کچھ لوگوں نے تو ایک ساتھ بہت سارے مسائل کو ختم کرنے کی مہم بھی شروع کردی۔