اصغر خان عملدرآمد کیس: اخباری رپورٹس پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2018

ای میل

ایف آئی اے نے  ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس بند کرنے کی سفارش کی تھی—فائل فوٹو
ایف آئی اے نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس بند کرنے کی سفارش کی تھی—فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش پر درخواست گزار کے قانونی ورثا سے جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ایف آئی اے کی جانب سے حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس بند کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ کیس اخباری رپورٹس پر بنایا گیا ہے، اخباری رپورٹس سے بھی کوشش کی ہے کہ شواہد لیں۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے کی اصغر خان عملدرآمد کیس بند کرنے کی سفارش

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو بالکل کہہ دیا ہے کہ کوئی شواہد نہیں ہیں۔

اس دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اخباری رپورٹس پر تو کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اتنے شواہد نہیں ہیں کہ فوجداری کارروائی ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ جن سیاست دانوں پر الزام تھا انہوں نے رقم وصولی سے انکار کیا جبکہ گواہوں کے بیانات آپس میں نہیں ملتے اور ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ کیس25 سال پرانا ہونے کے باعث بینکوں سے ٹرانزیکشن کا ریکارڈ بھی نہیں مل سکا، لہٰذا کیس کو بند کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ مقدمہ دائر کرنے والے اصغر خان اس دنیا میں نہیں رہے، ان کے وکیل کون ہیں؟ اس مقدمے کی کارروائی ایئروائس مارشل (ر) اصغر خان کی درخواست پر شروع ہوئی، لہٰذا ان کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار اصغر خان مرحوم کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور مذکورہ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 29 دسمبر کو ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس سے قبل اس کیس میں عدالت کی جانب سے وزارتِ دفاع کو کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

اصغر خان کیس — اب تک کیا ہوا!

سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، مقدمے کی رو سے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا گیا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی شامل تھے۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔

بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اصغر خان کیس: نواز شریف نے رقم لینے کا الزام مسترد کردیا

اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدر میں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئر مارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔

اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جو رواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں تھیں۔

مزید پڑھیں: اصغر خان کیس: ’عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو فوجی حکام کو طلب کریں گے‘

بعد ازاں 9 جون کو اصغر خان عملدرآمد کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرایا تھا، جس میں انہوں نے 1990 کی انتخابی مہم کے لیے 35 لاکھ روپے لینے کے الزام کو مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ1990 کی انتخابی مہم کے لیے اسد درانی یا ان کے کسی نمائندے سے کوئی رقم نہیں لی اور نہ ہی کبھی یونس حبیب سے 35 لاکھ یا 25 لاکھ روپے وصول کیے۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ ان الزامات سے متعلق 14 اکتوبر 2015 کو اپنا بیان ایف آئی اے کو ریکارڈ کروا چکا ہوں۔

اس کے علاوہ اصغر خان کیس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنی جماعت پر عائد الزامات کے حوالے سے اپنا بیان حلفی جمع کرادیا تھا۔

سراج الحق نے بھی 1990 کے انتخابی مہم کے لیے آئی ایس آئی سے رقم لینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے بیان حلفی میں کہا تھا کہ جماعت اسلامی 2007 میں رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ بنی،ہم نے آئی ایس آئی سے کوئی رقم وصول نہیں کی، ہم کسی بھی فورم یا کمیشن میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔