تجارتی کشیدگی کے باوجود چین اور امریکا باہمی تعاون بڑھانے کیلئے پُرعزم

01 جنوری 2019

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر کے ساتھ ’مضبوط دوستی ‘ پر زور دیا — فائل فوٹو
ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر کے ساتھ ’مضبوط دوستی ‘ پر زور دیا — فائل فوٹو

چین کے ریاستی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ چین اور امریکا کے صدور نے حالیہ جاری تجارتی کشیدگی کے باوجود سفارتی تعلقات کے 40 برس مکمل ہونے پر باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی سرکاری خبر ایجنسی زنہوا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ (یکم جنوری کو) شی جن پنگ نے ’امریکا چین تعلقات میں ہم آہنگی، تعاون اور استحکام‘ پر زور دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور امریکا کے درمیان گزشتہ 4 دہائیوں سے جاری سفارت کاری کو سراہا اور چینی صدر کے ساتھ ’مضبوط دوستی ‘ پر زور دیا۔

مزید پڑھیں : امریکا اور چین کے مابین تجارتی جنگ بندی‘ کا معاہدہ

خیال رہے کہ 2018 میں بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی تنازعات کے باعث کشیدگی برقرار رہی تھی۔

گزشتہ برس واشنگٹن اور بیجنگ نے دو طرفہ تجارت میں ایک دوسرے پر 3 سو ارب ڈالر سےزائد کی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے تھے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کو اسٹاک مارکیٹ اور منافع کی مد میں نقصان کا سامنا بھی رہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین ، جاپان اور دیگر ممالک کی جانب سے چین کے تجارتی طریقوں پر موصول ہونے والی شکایتوں کی وجہ سے تجارتی جنگ کا آغاز کیا تھا۔

تاہم چین اور امریکا کے مابین ’تجارتی جنگ بندی‘ کا عارضی معاہدہ بیونس آرئس میں جی 20 سمٹ کے دوران طے پایا تھا جس کے بعد سے ٹرمپ کی جانب سے چین کو مزید دھمکیاں نہیں دی گئیں۔

چین اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز یکم جنوری 1979 کو قائم کیے تھے، جس میں واشنگٹن نے تائیوان سے صرف غیر سرکاری تعلقات قائم کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔

اسی برس چین کی معاشی تبدیلی اور اقتصادی پالیسی کے لیے یاد کیے جانے والے سربراہ ڈینگ زائیوپنگ نے امریکی صدر جمی کارٹر سے امریکا میں ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : ‘تجارتی مذاکرات کے دوران امریکا نے پابندی لگائی تو نتائج برے ہوں گے‘

چین اور امریکا کے تعلقات میں ڈرامائی طریقے سے بہتری آئی ہے جبکہ دونوں ممالک کو تائیوان، انسانی حقوق، تجارت سمیت کئی معاملات پر آپسی تناؤ کا سامنا بھی رہا ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2018 میں چین میں اناج ذخیرہ کرنے والی سرکاری کمپنی نے امریکی سویا بینز کی خریداری دبارہ شروع کرنے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

مزید برآں بیجنگ نے یکم جنوری سے امریکا میں بنائی جانے والی گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر عائد اضافی ٹیرف معطل کرنے کا اعلان کیاتھا۔