تاخیر سے سہی لیکن ہم جان گئے کہ ’سالِ نو‘ کا سالے سے کوئی تعلق نہیں

02 جنوری 2019

ای میل

لیجیے جناب! نیا سال آگیا۔ موسم، تہوار، خصوصی دن ہر سال آتے ہیں، مگر نئے سال کی عجیب بات ہے کہ یہ سال بھر نہیں آتا۔ لوگ پورے سال انتظار کرتے ہیں کہ نیا سال اب آیا کہ اب، لیکن یہ ڈھیٹ اپنے وقت پر ہی آتا ہے، اسی لیے جوں ہی یہ آتا ہے توں ہی لوگ غصے میں ’سالے نو سالے نو‘ کہنا شروع کردیتے ہیں۔

ہم چونکہ بہت بھولے بھالے ہیں اور کردار کی طرح ہماری اردو بھی کمزور ہے، اس لیے جب بھی کوئی کہتا ہے ’سالِ نو مبارک‘ ہم سوچنے لگتے ہیں کہ پورے نو عدد سالوں کا ہونا کس بہنوئی کے لیے قابلِ مبارک باد ہوسکتا ہے؟

سالے نو ہونے کا مطلب ہے کہ آدمی نو سالگرہ کی تاریخیں یاد رکھے اور سالگرہ والے سالے کو تحفہ دینے کے لیے پیسے تیار رکھے، نو شادی کی تاریخیں یادداشت میں محفوظ رہیں تاکہ مبارک باد کا ایس ایم ایس بھیجا جاسکے، اگر اپنی شادی کے وقت سالے غیر شادی شدہ ہیں تو بندہ پوری نو باراتیں، ولیمے، مہندیاں بھگتنے اور دعوتیں کرنے کے لیے کمر کسے رہے۔ یعنی حالت یہ ہوجائے کہ:

اک اور ’سالے‘ کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک ’سالے‘ کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

اور بے چارہ بہنوئی اپنی حالت پر ترس کھاکر کہتا رہے

اتنے ’سالوں‘ میں بٹ گیا ہوں میں

میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں

یہ تو صرف سالے ہوئے، سالیوں کا شمار الگ ہے۔ بہرحال، بڑے عرصے بعد ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ’سالِ نو‘ کا سالے سے کوئی تعلق نہیں۔

یوں تو سالِ نو دنیا بھر میں بڑے اہتمام اور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، مگر پاکستان میں یہ ’بہت زور سے‘ منایا جاتا ہے۔ ہم پاکستانی کچھ منائیں نہ منائیں 3 چیزیں لازمی طور پر اور باقاعدگی سے مناتے ہیں روٹھی بیوی، آئی ایم ایف اور نیا سال۔

دنیا بھر میں سالِ نو کا جشن

پاکستانیوں کی خوشی اور منانے کا پیمانہ ’شور‘ ہے۔ جس تقریب میں جتنا ہنگامہ ہو اور جس خصوصی دن جتنی ہُلڑبازی کی جائے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ’موگیمبو خوش ہے۔‘

دنیا کی دوسری قومیں بھی خوشی خاموشی سے نہیں مناتیں، مگر وہ تالیوں، گیتوں، موسیقی اور سیٹیوں کے ذریعے مسرت کا اظہار کرتی ہیں۔ اب چونکہ علامہ اقبال فرما گئے ہیں کہ ’اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر‘ چنانچہ قومی شاعر کی ہدایت کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے ہمارے لوگ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی خوشی منانے کے لیے تالیوں، گیتوں، موسیقی اور سیٹیوں کا سہارا لیا تو یہ اقوام مغرب کے چلن کی پیروی ہوگی، لیکن ہم ٹھہرے ایک غیور قوم جو یقین رکھتی ہے کہ ’اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے‘ سو ہم اپنی شادمانی کے انداز آپ وضع کریں گے اور دوسروں کی تقلید ہرگز نہیں کریں گے۔

بس اتنا سوچ کر پستولیں اور کلاشنکوفیں اٹھائی جاتی ہیں اور فائرنگ کرکے بتایا جاتا ہے کہ ’اے بھیا دنیا والو! دیکھو ہم بھی خوش ہیں۔‘ دیگر ممالک میں تو آتش بازی کرکے اور گیت گاکر نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے، لیکن ہم وقت ضائع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ ہمارے ایک بزرگ دانش ور دانا ہوشیار پوری عرف ڈیڑھ ہوشیار کا تو قول ہے ’وقت ضائع نہ ہو، چاہے بندہ ضائع ہوجائے۔‘ اسی سنہرے قول کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم ہوائی فائرنگ سے ساز اور روشنی دونوں کا کام لے لیتے ہیں۔

جو پاکستانی عدم تشدد کے کچھ زیادہ ہی قائل ہیں اور جن کے پاس آتشیں اسلحے کی نعمت موجود نہیں، وہ بھی اپنی اس مجبوری کو نئے سال کی خوشی منانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے، اور یہ کہتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں کہ ’تمھارے پاس اسلحہ ہے، تو ہمارے پاس موٹرسائیکل ہے۔‘ پھر یہ عدم تشدد کے ماننے والے موٹرسائیکل کے سائلینسر نکال کر قدم قدم پر تشدد کرتے پھرتے ہیں۔

گولیاں اور موٹرسائیکلیں چلا کر دلوں کو دہلاتے اور سماعتوں کو جھلساتے ہمارے نوجوان دراصل کسی کو اذیت پہنچانے کے لیے یہ قیامت نہیں مچائے ہوتے، ان کے مقاصد نہایت نیک ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال نے یہ بھی کہا تھا، ’محبت مجھے ان جوانوں سے ہے، ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند۔‘

یہ نوجوان پورا سال سوچتے ہیں کہ شاعرِ مشرق کا محبوب نوجوان بننے کے لیے ستاروں پر کمند کیسے ڈالی جائے، بجلی کے تاروں پر کنڈے ڈالنے کی مشق کے باوجود ستاروں پر کمند ڈالنے کا کوئی طریقہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اب ظاہر ہے ستاروں پر کمند ڈالنا شلواروں میں کمربند ڈالنے کی طرح آسان تو ہے نہیں۔ لہٰذا پورا سال اسی پریشانی میں گزار کر سال کی آخری رات یہ نوجوان یہ ٹھان کر نکلتے ہیں چلو آج ہوائی فائرنگ کرکے ستاروں کو گرالیں گے، پھر ان پر کمند ڈال کر علامہ اقبال کے مزار پر لے جائیں گے اور کہیں گے ’ہم نے کر دکھایا۔‘

اسی طرح موٹرسائیکلوں کو سائلینسر کی قید سے آزاد کرکے سڑکوں پر دوڑانے والوں کی نیت یہ ہوتی ہے کہ موٹرسائیکل اُڑاتے ہوئے زمین کے محور سے نکل جائیں گے اور ستاروں پر کمند ڈال کر اسی رفتار سے واپس آجائیں گے۔ بے چارے راستے ہی میں ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اپنی اپنی ’ستارہ‘، ’کہکشاں‘، ’چندہ‘ کا فون آجاتا ہے، اور انہیں اپنا ارادہ بدل کر واپسی کی راہ لینی پڑتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ ستاروں کی طرف بھاگے چلے جارہے ہوتے ہیں کہ راہ میں سی ویو آجاتا ہے، جہاں چاندوں کے جُھرمٹ دیکھنے کے بعد ستارے یاد رہتے ہیں نہ کمند۔

ہم سوچتے ہیں کہ ہم سالِ نو مناتے تو ہیں مگر ہمارے ملک میں نیا سال آتا ہی نہیں، یہاں پُرانے برس ہی وقت کے ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پھر خیال آتا ہے نیا سال ہماری چوکھٹ پر بھی آتا تو ہوگا لیکن فائرنگ اور موٹرسائیکلوں کی دھاڑوں اور چنگھاڑوں سے ڈر کر پلٹ جاتا ہوگا۔