نواز شریف کے بعد نیب نے بھی العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2019

ای میل

یکم جنوری کو نواز شریف نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ چیلنج کیا تھا — فائل فوٹو
یکم جنوری کو نواز شریف نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ چیلنج کیا تھا — فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنسز پر احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 24 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو نیب کی جانب سے دائر فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنادی تھی۔

نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف کی بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم آج (2 جنوری) کو نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کراوئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ استغاثہ نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی کرپشن کے ٹھوس شواہد پیش کیے۔

مزید پڑھیں: پاکپتن اراضی کیس: نواز شریف کا سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ

نیب کا اپنی درخواست میں کہنا تھا کہ محض شک کا فائدہ دے کر نواز شریف کو بری کرنا قانون کے خلاف ہے۔

نیب کی جانب سے استدعا کی گئی کہ سابق وزیرِاعظم کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیا جائے اور اور ٹرائل کورٹ ان کے خلاف پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر انہیں سزا دے۔

نیب کی جانب سے صرف فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف ہی درخواست جمع نہیں کروائی گئی بلکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کو بھی چیلنج کردیا۔

تاہم قومی احتساب بیورو کی جانب سے یہ درخواست سزا کالعدم قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ سزا کو مزید بڑھانے کے لیے دائر کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تاریخ

نیب پراسیکیوٹر نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف مقدمہ ثابت کیا گیا۔

نیب نے استدعا کی کہ کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 اے 5 میں سزا 14 سال قید ہے تاہم مجرم کی صرف 7 سال قید کی سزا کو بڑھایا جائے۔

نیب کی جانب سے جمع کروائی گئی دونوں درخواستوں میں العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف کو فریق بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 24 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تاریخ

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔

مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل نواز شریف نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کالعدم قرار دینے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی درخواست دائر کردی تھی۔

رجسٹرار نے نواز شریف کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست پر اعتراض لگا کر واپس کردی۔

خواجہ حارث کے توسط سے جمع کروائی گئی درخواست کو رجسٹرار نے نامکمل قرار دیا۔

تاہم نواز شریف کے وکیل منور دگل کا کہنا تھا کہ درخواست پر جو اعتراضات لگائے گئے ہیں انہیں دور کرکے کل تک دوبارہ جمع کروایا جائے گا۔