امریکی خدشات کے باوجود ایران کا خلا میں 2 سیٹیلائٹ بھیجنے کا اعلان

10 جنوری 2019

ای میل

گزشتہ ہفتے ایران نے 3 نئی سیٹلائٹ کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا — فائل فوٹو
گزشتہ ہفتے ایران نے 3 نئی سیٹلائٹ کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا — فائل فوٹو

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی خدشات کے باجود جلد ہی ایران میں تیار کیے گئے راکٹ کی مدد سےخلا میں 2 نئے سیٹیلائٹ بھیجے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کو خطرہ ہے کہ یہ سیٹیلائٹ بھیجنے سے ایران کو بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مزید مدد ملے گی۔

خبر رساں ادارے ’ اے پی‘ کے مطابق حسن روحانی نے ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی برسی کی تقریب سے خطاب میں راکٹ بھیجنے کی توثیق کی۔

حسن روحانی نے کہا کہ’ آئندہ ہفتوں میں جلد ہی ہم مقامی سطح پر تیار کیے گئے راکٹ کے استعمال سے خلا میں 2 سیٹیلائٹ بھیجیں گے‘۔

مزید پڑھیں : امریکا نے ایران پر ایک مرتبہ پھر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد کردیں

عموماً ایران اپنی خلائی کامیابیاں فروری میں 1979 کےاسلامی انقلاب کی سالگرہ کے دوران منظر عام پر لاتا ہے۔

رواں برس ایران میں اسلامی انقلاب کو 40 برس مکمل ہوجائیں گے، جس میں شاہ محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کو اسلامی جمہوریہ ایران میں تبدیل کیا تھا۔

خیال رہے کہ ماضی میں ایران نے خلا میں کئی مختصر مدتی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے تھے اور 2013 میں ایران نے خلا میں بندر بھی بھیجا تھا۔

تاہم اس حوالے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ سیٹیلائٹ بھیجنے کی اس ٹیکنالوجی کو لانگ رینج میزائل کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے 3 نئے سیٹیلائٹ کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے رواں ماہ کے آغاز میں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے خلا میں سیٹیلائٹ بھیجنے کا منصوبہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران پر امریکی پابندیاں ‘معاشی دہشت گردی’ ہے، حسن روحانی

اقوام متحدہ کی قرارداد میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کی تیاری سے متعلق کسی بھی سرگرمی سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایران کا کہنا ہے کہ یہ سیٹیلائٹ اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

مزید برآں آج (10 جنوری کو) ایران کے مرکزی علاقوں میں سالانہ فضائی مشقوں کا آغاز کیا گیا۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق 2 روزہ فضائی مشقوں میں امریکا میں تیار کردہ جنگی طیاروں ایف-14، ایف-5 سمیت روس کا مگ-29 اور ایران میں تیار کیا گیا صائغہ حصہ لیں گے۔

مزید پڑھیں : ایران: معاشی بحران پر حسن روحانی کے جوابات پارلیمنٹ میں مسترد

فضائی مشق کے ترجمان جنرل عامر انگیزہ نے کہا کہ مشقوں میں ڈرون،اسمارٹ بم اور لیزر سے اہداف کو نشانہ بنانے والے راکٹ بھی استعمال کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو آج کل ایران سے متعلق امریکا کے سخت موقف کے فروغ اور عرب اتحادیوں کو خطے سے انخلا نہیں کرنے کی یقین دہانی کروانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔

گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے واشنگٹن حکام کو ’ اعلیٰ درجے کے بیوقوف ‘ قرار دیا تھا جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔