امل ہلاکت کیس: معذرت چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو ختم نہیں کرسکا، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2019

ای میل

چیف جسٹس نے والدین سے سوال کیا کہ کیا آپ اس مقدمے کی سماعت کراچی میں چاہتے ہے یا اسلام آباد میں؟ —فائل فوٹو
چیف جسٹس نے والدین سے سوال کیا کہ کیا آپ اس مقدمے کی سماعت کراچی میں چاہتے ہے یا اسلام آباد میں؟ —فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی بچی امل کی ہلاکت پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران مقتولہ کے والدین کو مخاطب کر کے ریمارکس دیے ہیں کہ معذرت چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو ختم نہیں کرسکا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے امل ہلاکت کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی پیش کی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، جس کے بارے میں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے بتایا کہ کمیٹیوں نے 4 زاویوں سے معاملے کو دیکھا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ آپ رپورٹ سے متعلق ہمیں تفصیلات بتائیں، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق پولیس نے اپنی غیر ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ امن فاؤنڈیشن ایمبولنس سروس نے بھی اپنی غلطی تسلیم کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: امل ہلاکت کیس: تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس رپورٹ کے جائزے کےلیے مہلت مانگ لی

رپورٹ میں کہا گیا کہ نیشنل میڈیکل سینٹر نے اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کیا، ہسپتال نے زخمی امل کو ہسپتال سے منتقلی کے لیے بنیادی سہولت فراہم نہیں کی تھی جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے کمیٹی کے سامنے بھی جھوٹ بولا اور بچی کی موت کی تاریخ اور وقت بھی تبدیل کیا تاکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ بچی ہسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ چکی تھی۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ ہیلتھ کمیشن نے بھی ہسپتال کے حق میں رپورٹ دی، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا این ایم سی کو رپورٹ پر جواب جمع کروانے کا وقت دیا جائے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل نے کہا کہ جی بالکل جواب لے لیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے والدین سے سوال کیا کہ کیا آپ اس مقدمے کی سماعت کراچی میں چاہتے ہے یا اسلام آباد میں؟ جس پر امل کی والدہ نے جواب دیا کہ بہتر ہے اس کیس کی سماعت اسلام آباد میں ہی ہو۔

مزید پڑھیں: مقابلے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوئی، پولیس کا اعتراف

چیف جسٹس نے امل کی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو ختم نہیں کرسکا، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کی کوشش اب امل کی طرح دوسرے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہے۔

جس پر امل کی والدہ نے کہا کہ میں آپ اور پورے بینچ سمیت سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں، بعدازاں عدالت نے کراچی پولیس، سندھ ہیلتھ کمیشن، امن فاؤنڈیشن اور این ایم سی ہسپتال سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10 روز کے لیے ملتوی کردی۔

امل ہلاکت کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں 10 سالہ لڑکی امل کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی کہ راہ زنی کی وارداتوں کو روکنے کے لیے گشت پر مامور پولیس اہلکاروں کو سب مشین گنز (ایس ایم جیز) کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اس کے بجائے وہ ریوالور یا پستول اپنے پاس رکھیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جنہیں پولیس اور نجی ہسپتال کی جانب سے برتی جانے والی غفلت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی تجویز پیش کرنے کا ذمہ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایسا لگا جیسے ہماری بچی ہم سے جدا ہوگئی، چیف جسٹس

کمیٹی کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی میں ماضی قریب میں امن و امان کی صورتحال خاصی خراب رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تاہم اب صورتحال خاصی بہتر ہوچکی ہے لیکن راہ زنی کی وارداتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد روزانہ کی بنیاد پر قتل اور ہزاروں افراد اپنی قیمتی اشیا سے محروم ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ سب مشین گنز کا استعمال صرف شہر کے حساس علاقوں میں کیا جائے جس میں ضلع جنوبی (لیاری) اور ضلع غربی شامل ہے کیوں کہ وہاں حالات زیادہ خراب رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پولیس مقابلے میں 10 سالہ بچی کی ہلاکت پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جو دستہ پولیس افسران، ججز اور وزرا کی حفاظت پر تعینات ہو، اس کے پاس صرف ایک ایس ایم جی موجود ہو جبکہ دیگر اہلکار پستول کے ساتھ مسلح ہوں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پولیس اہلکاروں میں تربیت کا فقدان ہے، کراچی ایک گنجان آبادی والا شہر ہے جہاں پولیس مقابلے کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ فورس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دیکھا یہ گیا کہ نہ تو پولیس افسران پیشہ وارانہ قابلیت میں اضافے کے کورس کرتے ہیں اور نہ ہی باقاعدگی سے فائرنگ کی پریکٹس کرتے ہیں۔

جس کا نتیجہ اس قسم کے کسی بھی واقعے میں 'کولیٹرل ڈیمج' کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی جان کی صورت میں نکلتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ باقاعدہ بنیادوں پر نئے کورس کروائے جائیں جبکہ انکاؤنٹر کا کلچر بھی ختم ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امل کی والدہ کا ڈان میں شائع ہونے والا تفصیلی مضمون

اس کے علاوہ کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی کے لیے صرف 2 ہزار 3 سو کیمرے نصب ہیں چناچہ پولیس کو نجی سی سی ٹی وی فوٹیج پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کی کوالٹی اکثر خراب ہوتی ہے۔