نئی حکومتی پابندیاں، استعمال شدہ کاروں کی درآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2019

ای میل

یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام، مقامی مینوفیکچررز کا اظہارِ خیال— فائل فوٹو
یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام، مقامی مینوفیکچررز کا اظہارِ خیال— فائل فوٹو

کراچی: وزارتِ تجارت کی جانب سے کاروں کی درآمد پر لگائی جانی والی پابندیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت کردیا جس کی وجہ سے استعمال شدہ کاروں کی درآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر جو شرائط لگائی گئی ہیں ان میں ڈیوٹیز کی ادائیگی اور ٹیکسز کی ادائیگی ہے جو درآمد کنندگان پر عائد ہوگی اور وہ یہ ادائیگی ذرمبادلہ کی صورت میں کر گا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں زیادہ تر کاریں گفٹ اسکیم کے تحت درآمد کی جاتی ہیں، اور اس قانون کو کچھ لوگوں نے اپنے فائدے کے لیے بنایا تھا اور وہ ان کاروں کو پاکستان کی مقامی منڈیوں میں فروخت کرکے پیسہ کمایا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: بڑھتی ہوئی درآمدات کے بعد بھی ٹیکسٹائل، کپڑوں کی برآمدات میں اضافہ

حکومتی اقدام کو گاڑی بنانے والی کمپنیوں اور ترسیل کار کمپنیوں نے سراہا ہے تاہم پرانی کاروں کے تاجروں کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے کاروں کی درآمد میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رواں ماہ 15 جنوری کو وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری ہونے والے ہدایت نامے کے مطابق پاکستان میں گفٹ اسکیم کے تحت درآمد شدہ نئی اور پرانی گاڑیوں پر درآمد کنندگان کو غیرملکی زرمبادلہ کی شکل میں ڈیوٹی کی ادائیگی کرنی ہوگی یا پھر مقامی شخص کو بینکوں کی مدد سے ترسیلات کی منتقلی کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔

پاکستان آٹومیٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ڈائٹریک عبدالوحید خان نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حکومت کا ایک درست اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت ملکی درآمدات کو کم کرنے کیلئے کوشاں

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ادائیگی کی شرائط پر نظر ثانی کرکے انہیں غیر ملکی زرمبادلہ کی شکل میں کردیا جبکہ گزشتہ حکومت نے یہ اقدام اٹھانے کے چند ماہ بعد ہی اسے واپس لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران بھی ایسا ہی اقدام نومبر 2017 میں اٹھایا گیا تھا تاہم اسی حکومت نے فروری 2018 میں اسے واپس لے لیا۔

مذکورہ حکومتی اقدام کا مقصد بیرون ملک گاڑیوں کی ادائیگی کے لیے ہنڈی حوالہ سے بھیجے جانے کے طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔