کیا تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کو خطرہ ہے؟

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2019

ای میل

مسلم لیگ (ق) مرکز اور صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ہے—فائل فوٹو
مسلم لیگ (ق) مرکز اور صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ہے—فائل فوٹو

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اراکینِ اسمبلی نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکز اور پنجاب میں قائم اتحادی حکومت کے رویے کو ’منفی‘ قرار دے دیا اور اپنی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ق) کے قائد چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، اراکینِ صوبائی اسمبلی مونس الٰہی، سالک حسین، حسین الٰہی اور محترمہ فرخ خان نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں پارٹی اراکین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ان کے حلقوں میں ’منفی رویے‘ اختیار کیے جانے پر خدشات کا اظہار کیا اور چوہدری شجاعت کو حکومتی اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘مسلم لیگ (ق)، پی ٹی آئی گزشتہ 5 برسوں سے ساتھ ہیں‘

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی نے اپنی قیادت کو اپنے حلقوں میں مسائل کے حل کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اراکینِ اسبملی چاہتے تھے کہ ان کی قیادت اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے بات چیت کرے، کیوں کہ ان کے واحد وزیر کے پاس بھی مطلوبہ اختیارات نہیں۔

دوسری جانب اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان قطر سے واپسی پر گجرات کے چوہدری برادران سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: پرویز الہیٰ اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب، عہدے کا حلف اٹھالیا

مسلم لیگ (ق) کا موقف تھا کہ اراکین اسمبلی کو ان کے حلقوں میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے اختیارات کی ضمانت چاہیے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ملسم لیگ (ق) کی قیادت کی جانب سے مرکز اور صوبے میں 2، 2 وزارتیں دینے کے وعدے پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حکومتی اتحاد میں دراڑ اس وقت سامنے آئی تھی جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری مسلم لیگ (ق) میں فارورڈ بلاک بنانے کا بیان دیا تھا، جس پر پارٹی کا سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ق) کا حکومت بنانے کیلئے تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ

بعدازاں پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے واحد وزیر برائے معدنیات حافظ عمار یاسر نے ’اپنے کام میں بے جا مداخلت‘ کو جواز بنا کر استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوادیا تھا۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ق) مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی انتہائی اہم اتحادی ہے، خاص کر پنجاب میں حکومت برقرار رکھنے کے لیے پی ٹی آئی کو مسلم لیگ (ق) کی حمایت کی سخت ضرورت ہے۔