انسداددہشتگردی عدالت نے خادم حسین رضوی کو جیل بھیج دیا

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2019

ای میل

تحریک لبیک کے سربراہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا—فائل فوٹو
تحریک لبیک کے سربراہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا—فائل فوٹو

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 4 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

صوبائی دارالحکومت میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے منتظم جج شیخ سجاد احمد نے اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر سخت سیکیورٹی میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 4 ملزمان کو 20 روز کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔

مزید پڑھیں: خادم حسین کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ درج

ٹی ایل پی رہنماؤں کی پیشی کے موقع پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔

ملزمان کی جانب سے وکیل مرتضیٰ علی پیر زادہ، وکیل طاہر منہاس، وکیل ناصر منہاس اور ایڈووکیٹ میاں نسیم نے عدالت میں دلائل دیے۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا خادم حسین رضوی اور دیگر سے تفتیش مکمل کرلی ہے، لہٰذا ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے خادم حسین رضوی سمیت 4 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں خاص طور پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے احتجاج اور دھرنے دیے گئے تھے۔

ان احتجاج کے دوران ملک کے اعلیٰ اداروں، ان کے سربراہان کے بارے میں نامناسب اور اشتعال انگیز گفتگو کی گئی تھی جبکہ مختلف مقامات پر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

بعد ازاں حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدے کے بعد یہ احتجاج اور دھرنے ختم کردیے گئے تھے لیکن کچھ عرصے بعد ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کو 30 روز کے لیے نظر بند کردیا گیا تھا جبکہ سیکڑوں کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بیان جاری کیا تھا اور بتایا تھا کہ انہیں حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے میں منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی 30 روز کے لیے نظر بند، سیکڑوں کارکنان گرفتار

تاہم یکم دسمبر 2018 کو وفاقی حکومت نے تحریک لیبک پاکستان کی سیاست کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے پارٹی کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت تمام قائدین کے خلاف دہشت گردی اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تھا۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ‘تحریک لبیک نے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات میں لاہور کے سول لائنز تھانے میں مقدمہ درج کر دیا گیا، افضل حسین قادری کے دوسرے اہم رہنما کے خلاف گجرات، عنایت الحق شاہ کے خلاف تھانہ روات راولپنڈی اور حافظ فاروق الحسن کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات پر مقدمات درج کر دیے گئے۔