نیب نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2019

ای میل

شہباز شریف کوآشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں 5 اکتوبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا — فائل فوٹو
شہباز شریف کوآشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں 5 اکتوبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا — فائل فوٹو

لاہور : قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر جواب داخل کروانے کے لیے مزید مہلت مانگ لی۔

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے شہباز شریف کی ضمانت سے متعلق جواب داخل کروانے کے لیے مزید مہلت دیے جانے کی درخواست کی۔

شہباز شریف کے وکیل نے درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے شہباز شریف کو 50 دن جسمانی ریمانڈ پر رکھا اور اب نیب کی جانب سے جواب داخل نہیں کروایا جا رہا۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

جس پر جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ شہباز شریف پر الزام ہے کہ پیراگون کمپنی کو فائدہ دینے کے لیے کنٹریکٹ کینسل کیا گیا اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ صرف الزام ہے ایسا کچھ نہیں ہے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا۔

وکیل نے کہا کہ 10 جنوری 2018 کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی انکوائری شروع ہوئی اور 22 جنوری کو شہباز شریف کو طلب کیا گیا جبکہ 7 مئی کو تفتیشی رپورٹ میں شہباز شریف کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف 161 کاکوئی بھی بیان ریکارڈ نہیں کروایا گیا، صرف ایک شخص کا زبانی بیان موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 20 مارچ 2013 کو شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے کے حوالے سے انکوائری کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن کو بھجوایا۔

وکیل نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جو درخواست آئی اس میں شہباز شریف کا کوئی ذکر نہیں جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے اظہر صدیق اور محب وطن پاکستانی کے نام سے 2 علیحدہ درخواستیں دی گئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب کی تاریخ کا یہ واحد کیس ہے جس میں ڈی جی نیب نے خود میڈیا پر آکر بیان دیے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں ایک انچ زمین اور ایک روپیہ ضائع نہیں ہوا مگر اسےمیگا اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اب آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کا موجودہ اسٹیٹس کیا ہے، اس پر شہباز شریف کے وکیل نے بتایا کہ فی الوقت یہ کنٹریکٹ کسی کو نہیں ملا منصوبہ وہیں کا وہیں ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نیب نے الزام لگایا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں 61 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں. کوئی ایک بھی متاثرہ شخص نیب کے پاس نہیں آیا، 3 ہزار ایک سو کنال رقبے کی پوری زمین آج بھی برکی روڈ پر موجود ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے پنجاب لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کے بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کی سربراہی کی جبکہ نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اس اجلاس کی صدارت کے مجاز نہیں تھے۔

درخواست ضمانت پر شہباز شریف کے وکیل کے دلائل جزوی طور پر مکمل ہونے کے بعد نیب کے وکیل نے جواب داخل کروانے کے لیے مزید مہلت مانگ لی۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں 6 اکتوبر کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ پر انہیں نیب کے حوالے کیا تھا۔

16 اکتوبر کو 10 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو دوبارہ عدالت پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی۔

مزید پڑھیں: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس: شہباز شریف کے خلاف تحقیقات مکمل، ریفرنس کی تیاری

اس کے بعد 29 اکتوبر کو انہیں دوبارہ عدالت پیش کیا گیا جہاں 7 نومبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ 3 روز کا راہداری ریمانڈ بھی دیا گیا۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے انہیں اسلام آباد لے جایا گیا، جہاں 31 اکتوبر کو پہلے ان کے راہداری ریمانڈ میں 6 نومبر توسیع کی گئی تھی، جسے بعد میں عدالت نے بڑھا کر 10 نومبر تک کردیا تھا۔

10 نومبر کو شہباز شریف کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی تھی۔

اس کے بعد 22 نومبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے شہباز شریف کا راہداری ریمانڈ لینے کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے 7 روز کا راہدری ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

علاوہ ازیں 28 نومبر کو شہباز شریف کو ایک مرتبہ پھر لاہور کی احتساب عدالت میں جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے 6دسمبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔