قدم قدم پر ٹھیک فیصلے کرنے سے متعلق کچھ ضروری باتیں

اپ ڈیٹ 01 فروری 2019

ای میل

قدم قدم پر انسان کو فیصلے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر یہ فیصلے ٹھیک ہوجائیں تو کام بن جاتا ہے، لیکن اگر یہ فیصلے غلط ہوجائیں تو کام بگڑجاتا ہے۔ لیکن یہ ٹھیک اور غلط فیصلے کب، کیوں اور کیسے ہوتے ہیں، یہ سمجھنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔

اسی مشکل کو آسان کرنے کے لیے کچھ ضروری باتیں پیش کی جارہی ہیں، ممکن ہے یہ کسی کے کام آسکیں

چغل خور

ہم چغل خور کو

  • اپنا محسن سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، یہ کم علمی ہے۔
  • اپنا ہمدرد جان کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، یہ سادگی ہے۔
  • فرشتہ سمجھ کر اس کی چغلی پر بلا تحقیق کامل یقین کرتے ہیں، یہ جہالت ہے۔
  • اپنا خبری بنا کر رکھنے کے لیے اس کی پردہ پوشی کرتے ہیں، یہ بدنیتی ہے۔

اپنی کم علمی، سادگی، جہالت اور بدنیتی کے باعث فتنے میں پڑجائیں تو چغل خور پر لعنت ملامت کرنے لگتے ہیں۔

اب ہم بڑے مجرم ٹھہرے یا بیچارہ چغل خور؟

مزید پڑھیے: معاشرے اور خود کو امن و سکون دینا چاہتے ہیں تو یہ کام کیجیے

جھلک

مستقبل کی ایک جھلک ماضی کی کھڑکی سے بھی نظر آسکتی ہے

دل اور ذہن

ذہن ملنا، دل ملنے کی شرط نہیں

آئینہ، ضمیر اور راہِ راست

انسان کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے ضمیر اندر سے اور آئینہ باہر سے رہنمائی فراہم کرتا ہے لیکن ضمیر کو ہم سلائے رکھتے ہیں اور آئینہ میسر بھی ہو تو بدصورت نظر آنے پر اپنی صورت ٹھیک کرنے کے بجائے اسے ہی توڑ ڈالتے ہیں۔

ہوسکے تو ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا سیکھیں اور اہلِ عِلم سے آئینہ دکھانے اور آئینہ دیکھنے کی اخلاقیات پوچھ لیں۔ آپ ہمیشہ راہِ راست پر رہیں گے۔

درست فیصلے

ہمیشہ درست فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کی اوقات کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہ رکھیں اور اپنی اوقات کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ پالیں۔

یہ کارنامہ تبھی ممکن ہے اگر آپ غیر جانبدارانہ مردم شناسی اور غیر جانبدارانہ خود شناسی کے ماہر ہوں۔

ساتھی

جو تمہارے دکھ کا ساتھی نہیں بنا، اسے اپنے سکھ کا ساتھی بھی نہ بناؤ کیونکہ جو تمہاری پریشانی میں نڈھال نہیں ہوسکا وہ تمہاری خوشی میں نہال کیسے ہوسکتا ہے؟

حالانکہ کسی کے غم میں غمگین ہونا اس کی خوشی میں خوش ہونے سے کہیں آسان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے: زندگی لازوال نہیں مگر خوبصورت تو بنائی جاسکتی ہے

کلام اور متکلم

کلام کا وزن تولتے وقت متکلم کی شخصیت کو ترازو میں نہ رکھو کہ یہیں سے مرعوبیت اور شخصیت پرستی جیسی منحوس بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں۔

کلام کو متکلم کی ذات سے الگ کرکے سننا سیکھو تاکہ حق کی تلاش اور سوال اٹھانے کی جرات پیدا ہوسکے۔

چاشنی

اگر لوگ تمہاری اچھائی کی قدر نہیں کرتے تو انہیں بُرے لوگوں سے چوٹ کھانے کا موقع دو کیونکہ چاشنی کی عادت ہوجائے تو چاشنی چاشنی نہیں رہتی اور مٹھاس کا احساس تو ویسے بھی کڑواہٹ سے مشروط ہوتا ہے۔

میں اور تُو

جھگڑا صرف ’میں‘ کا نہیں،

جھگڑا تو ’تُو‘ کا بھی ہے

غصہ

غصہ صرف انسان کی نہیں بلکہ تمام مخلوقات کی فطرت ہے۔ غصہ ایک توانائی ہے جس کا بے قابو ہوکر غلط استعمال حماقت سے شروع ہوکر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ غصے کا صحیح استعمال بہت کم لوگ جانتے ہیں

  • بعض اوقات غصے کا آنا ضروری اور اس کا مناسب اظہار اس سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے
  • بعض اوقات غصے کا نہ آنا شخصیت کی بدترین خصلتوں کا مظہر ہوتا ہے
  • بعض اوقات غصے کا چھپا جانا پرلے درجے کی بے غیرتی اور فتنوں کی بنیاد بنتا ہے

لہٰذا غصے پر غصہ نہ کریں بلکہ غصے کو اپنے اور دوسروں کے کام میں لانا سیکھیں

مزید پڑھیے: وہ غلطیاں جو زندگی کو خوشحال بنانے کے بجائے بوجھ بنا دیتی ہیں

جہالت اور گمراہی

جہالت لاعلمی کا نام ہے جبکہ گمراہی علم سے آتی ہے۔

جہالت کا علاج تو علم سے ہوجاتا ہے لیکن گمراہی کا علاج حق کی سچی تڑپ اور غیر جانبدارانہ سعی کے سوا کچھ نہیں۔