سندھ ہائیکورٹ: سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ، نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 02 فروری 2019

ای میل

علی زیدی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا — فائل فوٹو
علی زیدی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا — فائل فوٹو

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر علی زیدی کی درخواست پر سانحہ بلدیہ، عزیز بلوچ اور نثار مورائی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس کو عدالت کے چیمبر میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو اور عبد المالک گدی پر مشتمل بینچ نے وفاقی وزیر علی زیدی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں علی زیدی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس کو منظر عام پر لانے کی ہدایت کی جائے۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 6 سال گزر گئے، کیس تاحال التوا کا شکار

جس پر عدالت عالیہ نے متعلقہ حکام کو سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی کی رپورٹس چیمبر میں 16 فروری کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس عوام سے چھپائی گئی ہیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں 250 سے زائد اموات ہوئیں مگر جے آئی ٹی پبلک نہیں کی گئی، اس کے علاوہ عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی بھی ابھی تک پبلک نہیں کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ نثار مورائی نے 7 افراد کے قتل میں ملوث سینئر سیاستدانوں کے نام کا انکشاف کیا تھا، یہ 7 افراد کون ہیں ان سب کے نام منظر عام پر آنے چاہیے۔

اپنی درخواست میں وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ بحیثیت شہری ہمارا حق ہے کہ ہمیں جے آئی ٹی رپورٹ کے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: 'پاکستانی سیاست میں عزیر بلوچ کا زیادہ ذکر نہیں رہے گا'

عدالت نے وفاقی وزیر کی درخواست پر متعلقہ حکام سے تمام جے آئی ٹی رپورٹس عدالت کے چیمبر میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر علی زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ خوش آئند اور بڑی کامیابی ہے۔

13 دسمبر 2017 کو صوبہ سندھ کی وزارتِ داخلہ نے لیاری گینگ وار کے مرکزی ملزم عزیر جان بلوچ کے اعترافی بیان اور کراچی کی بلدیہ فیکٹری سانحے کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے حوالے سے اپنا جواب سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرایا تھا جس میں انہوں نے ان رپورٹس کو منظر عام پر لانے کی مخالفت کی تھی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر علی زیدی نے 2017 میں سندھ ہائی کورٹ میں چیف سیکریٹری کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ انہیں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں لگنے والی آگ کے حوالے سے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ فراہم نہیں کی جا رہی۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عزیر بلوچ

واضح رہے کہ عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے اور اس پر کراچی کے علاقے لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔

عزیر بلوچ 2013 میں حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوگیا تھا، حکومت سندھ متعدد بار عزیر جان بلوچ کے سر کی قیمت مقرر کر چکی ہے جبکہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر اس کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: صوبائی حکومت عزیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری رپورٹس منظر عام پر لانے کی مخالف

پولیس کو مطلوب عزیر بلوچ کو مسقط سے بذریعہ سڑک جعلی دستاویزات پر دبئی جاتے ہوئے انٹر پول نے 29دسمبر 2014 کو گرفتار کیا تھا۔

عزیر بلوچ کو پاکستان واپس کب لایا گیا، اس حوالے سے اب تک کچھ واضح نہیں ہوسکا۔

تاہم عزیر جان بلوچ کو پراسرار حالات میں جنوری 2016 کو کراچی کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اس پر قائم مقدمات میں حریف گینگسٹر ارشد پپو کا قتل کیس بھی شامل ہے۔

نثار مورائی کی گرفتاری

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (ایف سی ایس) کے چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ڈاکٹر نثار مورائی کو جنوری 2014 میں متنازع طور پر فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

وہ 2015 جون میں رینجرز کی جانب سے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے نائب چیئرمین سلطان قمر صدیقی اور دیگر کی گرفتاری کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نثار مورائی 90 روز کیلئے رینجرز کی تحویل میں

بعد ازاں سلطان قمر صدیقی کو بھائی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا، جبکہ حملہ آوروں کو مبینہ طور پر ہتھیار فراہم کرنے پر سانحہ صفورا کیس میں اُن کا نام بھی مقدمے میں شامل کرلیا گیا۔

رینجرز نے جنوری 2016 میں پاکستان فشرفورک فورم اور ایف سی ایس ملازمین کی یونین کے سیکریٹری سعید بلوچ کو بھی، کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ، لیاری گینگسٹر نور محمد عرف بابا لاڈلہ اور بلوچستان لبریشن آرمی کو مبینہ طور پر فنڈنگ کے الزام میں 90 روز کے لیے تحویل میں لیا تھا۔

17 مارچ 2016 کو رینجرز نے ڈاکٹر نثار مورائی کو 90 روز کے لیے تحویل میں لے کر انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج کو اطلاعی رپورٹ پیش کردی تھی۔