وزیر اعظم نے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کردیا

اپ ڈیٹ 04 فروری 2019

ای میل

اس صحت کارڈ اسکیم کے تحت 8 کروڑ لوگوں کو سہولیات حاصل ہوں گی— فوٹو: ڈان نیوز
اس صحت کارڈ اسکیم کے تحت 8 کروڑ لوگوں کو سہولیات حاصل ہوں گی— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے تقریباً 8 کروڑ افراد کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے لیے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کردیا۔

اسلام آباد میں صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے اسے خیبرپختونخوا میں شروع کیا، جہاں لوگوں کی زندگیوں پر فرق پڑا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارڈ اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایک مزدور مشکل میں اپنے گھر کا خرچ پورا کرپاتا ہے اور جب بیماری ہوتی ہے تو پورے گھر کا بجٹ خراب ہوجاتا ہے جبکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی غریب گھرانے صرف بیماری کی وجہ سے غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا صحت کارڈ ہی مسائل کا حل ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اس صحت کارڈ سے ہم غریب طبقے کو تحفظ دیں تاکہ انہیں یہ تسلی ہو کہ اس کارڈ سے ان کا ہسپتال میں علاج ہوسکے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی اگر بیمار ہو اور اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہ ہوں تو یہ ظلم ہے اور ایسے معاشرے پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پہلا قدم ہے، جو بھی ہماری پالیسی بنے گی اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ہم غربت ختم کر رہے ہیں، یہ صحت کارڈ سے انشااللہ غربت کم ہوگی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں جاری کیا جائے گا تاکہ وہاں کے متاثرہ لوگوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے، اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اس کارڈ کو ایک کروڑ لوگوں تک پہنچائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا اس لیے ہے کہ روپے کی قدر 35 فیصد گری اور ڈالر بڑھا کیونکہ ہماری درآمدات اور برآمدات میں بہت فرق تھا، ہمیں احساس ہے کہ اس وقت بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن میں آج پھر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کے لیے جتنی ہوسکیں آسانیاں پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں میں غربت کم کرنے کا ایک منصوبہ لارہے ہیں اور سارے اداروں کو ایک چھت کے نیچے لا کر نچلے طبقے کے لیے بڑا بہتر پروگرام لائیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک وہ صحت اور تعلیم پر رقم خرچ نہ کرے، ہم ان دونوں چیزوں میں بہت پیچھے چلے گئے ہیں اور بھارت، سری لنکا یہاں تک کہ بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ہماری سوچ ہے کہ موجود وسائل میں کتنی بہتری لاسکتے ہیں، جیسے جیسے وقت گزرے گا اس میں بہتری آئی گے کیونکہ ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے، جہاں نچلے طبقے کی صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف کی سہولیات پوری کرنی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے صحت سہولت پروگرام کے تحت 2016 میں خیبرپختونخوا میں پہلی مرتبہ صحت انشورنس اسکیم کو شروع کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں شعبہ صحت کا قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں، قومی ادارہ صحت

وزیر اعظم کی جانب سے اجرا کی گئی اس صحت کارڈ اسکیم کے تحت 8 کروڑ لوگوں یا ڈیڑھ کروڑ خاندان صحت کی مفت سہولیات حاصل کرسکیں گے۔

اس کے علاوہ ملک بھر کے 150 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتال اس کارڈ کی سہولت کے تحت مفت علاج فراہم کریں گے۔

ہر خاندان کو سالانہ 7 لاکھ 20 ہزار کی انشورنس کی سہولت ہوگی،وزیر صحت

بعد ازاں وفاقی وزیر قومی صحت عامر محمود کیانی نے پریس کانفرنس کے دوران 'صحت انصاف کارڈ' کی تفصیل سے آگا کرتے ہوئے کہا کہ 'صحت انصاف کارڈ رکھنے والے ہر خاندان کو سالانہ علاج معالجہ کی سہولت کے لیے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی انشورنس کی سہولت حاصل ہو گی۔'

انہوں نے کہا کہ 'صحت انصاف کارڈ میں انجیوپلاسٹی، اسٹنٹس، زچہ بچہ، ایمرجنسی اور تمام بیماریوں کا علاج ممکن ہو سکے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ' پہلے مرحلے میں کارڈوں کی چھپائی 20 فروری سے شروع ہو گی اور ہر روز ایک لاکھ کارڈ چھاپے جائیں گے، تین ماہ میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو کارڈ جاری ہوں گے جبکہ 2020 کے اختتام تک انصاف صحت کارڈ کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔'

عامر کیانی کا کہنا تھا کہ ایک خاندان میں 18 سال سے کم عمر کے 'ب' فارم پر موجود تمام بچے علاج کی سہولت حاصل کریں گے، صحت انصاف کارڈ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعداد و شمار استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ اس کے لیے نادرا سے معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انشورنس کے لیے بولی کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا انتخاب کیا گیا۔